آٹھ بجے کی پابندی: بچت کس کی، نقصان کس کا؟

09:05 AM, 3 Jun, 2026


دنیا کے بڑے شہروں میں رات کو جب روشنیاں جگمگاتی ہیں تو وہ محض تفریح کی علامت نہیں ہوتیں ۔ وہ معیشت کی دھڑکن ہوتی ہیں۔ دبئی مال رات ایک بجے تک کھلا رہتا ہے، مال آف دی ایمیریٹس ہفتے کے آخر میں رات بارہ بجے تک آباد ہوتا ہے۔ سنگاپور کے اورچرڈ روڈ کے مالز رات دس بجے تک کھلے رہتے ہیں۔ استنبول کے جدید مالز جیسے جواہر اور کنیون رات دس سے گیارہ بجے تک چلتے ہیں۔ کوالالمپور کا بوکیت بنتانگ، ممبئی کا کولابا، دہلی کا کنات پلیس، ڈھاکہ کا گلشن اور بنانی، پیرس کا شانزے لیزے، سعودی عرب کے ریاض اور جدہ کے مالز جو عید میں رات دو بجے تک کھلے رہتے ہیں ۔یہ سب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ شام کے بعد کے گھنٹے معاشی سونے کے گھنٹے ہیں۔ اور پھر پاکستان ہے ۔ جہاں حکومت اس سونے کو آٹھ بجے شام میں ہی ضائع کرنے پر تلی ہے۔
وفاقی حکومت نے توانائی کی بچت اور لائف اسٹائل تبدیلی کے نام پر تمام شاپنگ مالز، مارکیٹوں اور دکانوں کو رات آٹھ بجے بند کرنے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔ دلیل یہ ہے کہ اس سے بجلی بچے گی اور قوم جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت ڈالے گی۔ بظاہر یہ دلیل کچھ وزن رکھتی ہے۔ توانائی کا بحران ہمارا پرانا درد ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن جب اس پابندی کا دائرہ دیکھتے ہیں تو تصویر کچھ اور ہی کہانی سناتی ہے۔
شادی ہال رات دس بجے تک کھلے رہیں گے۔ جم کلبز کو ایک مشہور کرکٹر کی درخواست پر خصوصی چھوٹ دے دی گئی کہ ورزش صحت کے لیے ضروری ہے۔ بیکریاں، پیڈل گیمز، ریستوران، فوڈ اسٹریٹس ۔ پورا ہفتہ رات دس بجے تک آباد۔ تو سوال یہ ہے کہ شادی کی تقریب میں جلنے والے بلب توانائی نہیں کھاتے؟ جم کی روشنیاں اور ایئرکنڈیشنڈ مشینیں بجلی خاموشی سے استعمال کرتی ہیں؟ بیکری کا تنور اور ریستوران کی گرل بچت کا سامان ہیں؟ یہ تضاد محض سوال نہیں ،یہ پالیسی کی سنجیدگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
چین اسٹور ایسوسی ایشن آف پاکستان نے عید الاضحی 2026 کے دوران اپنے رکن برانڈز ،فیشن اپیرل، فٹ ویئر، گروسری اور لائف اسٹائل کا براہِ راست گوگل سروے کیا۔ نتائج چونکا دینے والے تھے: 62.8 فیصد برانڈز نے پچھلے سال کے مقابلے میں کم فروخت رپورٹ کی، اور 93 فیصد نے اندازہ لگایا کہ ان کا 10 سے 40 فیصد تک نقصان صرف آٹھ بجے کی پابندی کی وجہ سے ہوا۔ فٹ میٹرکس کے ڈیٹا کے مطابق 22 شہروں میں گاہکوں کی آمد میں اوسطاً 21.15 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ۔سیالکوٹ جیسے صنعتی شہر میں یہ گراوٹ 28 فیصد تک جا پہنچی۔ لیکن سب سے اہم تجربہ وہ ہے جو 15 مئی 2026 کو ہوا جب پابندی اٹھائی گئی ۔ اگلے چند دنوں میں 95.3 فیصد برانڈز نے فوری بہتری دیکھی اور 76.7 فیصد نے 15 سے 40 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔ یعنی مانگ تھی، گاہک موجود تھا، صرف وقت نہ تھا۔
یہ نقصان صرف دکاندار تک محدود نہیں۔ ریٹیل سیکٹر ایک وسیع سپلائی چین کا حصہ ہے۔ جب دکان آٹھ بجے بند ہوتی ہے تو ٹیکسٹائل ملوں کے آرڈر کم ہوتے ہیں، مینوفیکچرنگ کی رفتار سست پڑتی ہے، لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کا کاروبار سکڑتا ہے، سکیورٹی گارڈ اور صفائی کے ملازم گھر بیٹھتے ہیں اور ایف بی آر کے ٹیکس رجسٹروں میں جمع ہونے والی رقم کم ہو جاتی ہے۔ ریٹیل اور اس سے جڑی صنعتوں میں لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے ۔ان سب کا نقصان اس بچت میں شامل نہیں کیا گیا۔
دنیا کے تجربات اس پالیسی پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔اگر لندن کا آکسفورڈ اسٹریٹ رات نو بجے تک کھلا رہتا ہے اور ہفتے کے آخر میں کئی بڑے اسٹورز رات دس بجے تک چلتے ہیں ۔یہ برطانوی معیشت کا پرچم ہے۔ دبئی نے طے کر لیا ہے کہ رات کی خریداری سیاحت اور معیشت دونوں کا ستون ہے۔ دبئی مال رات ایک بجے تک آباد رہتا ہے۔ استنبول کے جدید تجارتی مالز رات دس سے گیارہ بجے تک چلتے ہیں۔ سنگاپور کا اورچرڈ روڈ رات دس بجے تک روشن رہتا ہے۔ ملائشیا اور تھائی لینڈ نے تجربات کے بعد رات کی معیشت کو باقاعدہ قومی پالیسی کا حصہ بنایا ہے۔ سعودی عرب کے مالز عید کے موسم میں رات دو بجے تک کھلے رہتے ہیں کیونکہ انہوں نے حساب لگا لیا ہے کہ گرمی میں رات کی خریداری ہی اصل معیشت ہے۔ بالکل پاکستان جیسا موسم۔
پاکستان کے بڑے شہروں میں گرمیوں کا درجہ حرارت اکثر 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے۔ دوپہر اور ابتدائی شام کوئی مارکیٹ نہیں جاتا۔ منظم ریٹیل کی تقریباً 40 فیصد روزانہ فروخت شام پانچ سے رات دس بجے کے درمیان ہوتی ہے۔ جب آٹھ بجے کی قینچی لگائی جاتی ہے تو اصل کاروبار کے وقت کا بڑا حصہ کٹ جاتا ہے ۔ نہ صرف دکاندار کا، بلکہ ہر اس گاہک کا بھی جو دفتر سے گھر آ کر خاندان کے ساتھ بازار جانا چاہتا ہے۔
اصولی طور پر توانائی کی بچت ایک قابلِ تعریف مقصد ہے لیکن کامیاب پالیسی وہی ہوتی ہے جو تمام متعلقہ شعبوں پر یکساں طور پر لاگو ہو اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھے۔ وہ پالیسی جو ریستوران اور جم کو رات دس بجے تک کھلا رکھے اور دکاندار کو آٹھ بجے تالا لگانے پر مجبور کرے ۔ نہ یکساں ہے، نہ منصفانہ، اور نہ معاشی لحاظ سے دانشمندانہ۔ریٹیل کو بھی کم از کم رات دس بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ 
دنیا رات کو جاگ کر کماتی ہے۔ ہمارے گاہک بھی رات کو خریداری کرنا چاہتے ہیں ،ڈیٹا اس کا ثبوت ہے۔ طرزِ زندگی صرف گھڑی کی سوئیوں سے نہیں بدلتا بلکہ پورے سماجی، معاشی اور انتظامی ڈھانچے کی ہم آہنگ تبدیلی سے بدلتا ہے۔ جب تک یہ وسیع تر تبدیلی نہیں آتی، صرف بازار آٹھ بجے بند کرنے سے نہ تو بجلی بچے گی، نہ معاشرہ جلد سوئے گا، اور نہ وہ طرزِ زندگی پیدا ہو سکے گا جس کا خواب پالیسی ساز عوام کو دکھا رہے ہیں۔

مزیدخبریں