ایلون مسک نے سات سال سے تنخواہ نہ ملنے کا خود اعتراف کر لیا

08:51 PM, 3 Jun, 2025

نیویارک : دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو 2024 میں بھی ان کی کمپنی ٹیسلا کی جانب سے بطور چیف ایگزیکٹو کوئی تنخواہ یا مالی فائدہ نہیں دیا گیا۔ حیران کن طور پر، یہ صورتحال صرف ایک سال کی نہیں بلکہ وہ پچھلے سات سالوں سے بغیر تنخواہ کے کمپنی چلا رہے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ایلون مسک کو کئی برسوں سے نہ کوئی تنخواہ ملی ہے، نہ بونس اور نہ ہی مراعات، جس کی وجہ ایک قانونی مقدمہ ہے جو 2018 میں دائر کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں دعویٰ کیا گیا کہ ایلون مسک نے اپنے لیے اربوں ڈالر مالیت کا معاوضہ پیکج خود ترتیب دیا، جو قانون اور شیئر ہولڈرز کے مفاد کے خلاف ہے۔


2018 میں ٹیسلا کے بورڈ نے ایلون مسک کے لیے 56 ارب ڈالر کا تنخواہی منصوبہ منظور کیا تھا، لیکن ڈیلاوئیر کی عدالت نے اسے دو بار رد کر دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ پیکج غیر شفاف انداز میں منظور کیا گیا اور شیئر ہولڈرز سے تفصیلات جان بوجھ کر چھپائی گئیں۔


ایک صارف نے جب سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ ایلون مسک 2023 میں S&P 500 کی فہرست میں شامل کمپنیوں میں سب سے کم معاوضہ لینے والے سی ای او رہے، تو مسک نے جواب میں لکھا:

“مجھے پچھلے سات سالوں میں ایک روپیہ بھی تنخواہ کے طور پر نہیں ملا۔”
انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں ٹیسلا کی قیمت میں 2000 فیصد اضافہ ہوا، مگر انہیں بطور سی ای او کسی قسم کی ادائیگی نہیں کی گئی۔


یہ مقدمہ ریچرڈ ٹورنیٹا نامی ایک سرمایہ کار نے دائر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ مسک نے اپنی تنخواہ خود طے کی اور بورڈ نے جان بوجھ کر اس عمل کو شفاف نہ رکھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پلان کی منظوری غیر مناسب انداز میں دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ ایلون مسک ٹیسلا کے 13 فیصد شیئرز کے مالک ہیں اور ان کی دولت کا بڑا حصہ شیئر مارکیٹ میں کمپنی کی قدر سے جڑا ہوا ہے، نہ کہ کسی تنخواہ یا بونس سے۔

مزیدخبریں