ذیابیطس (شوگر) ایک تیزی سے پھیلتی ہوئی بیماری ہے جو لاکھوں افراد کو متاثر کر رہی ہے۔ پاکستان شوگر کے مرض سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ اس بیماری کا مؤثر علاج اور نگرانی مستقل بنیادوں پر ضروری ہے اور انسولین ان مریضوں کے لیے زندگی بچانے والی دوا کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم، کئی مریض مختلف وجوہات کی بنا پر بروقت انسولین حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں، جیسے جسمانی کمزوری یا نقل و حرکت کی مشکلات، دور دراز علاقوں میں رہائش، مقامی طبی سہولیات کی کمی یا مالی یا سفری مسائل۔ ایسے میں اگر انسولین مریضوں کو گھر کی دہلیز پر فراہم کی جائے تو یہ ایک انقلابی قدم ہوگا جو ہزاروں زندگیوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آتا ہے جہاں یہ موذی مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ایسے میں وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ذیابیطس کا شکار بچوں کو ان کے گھروں میں انسولین کی فراہمی شروع کی جائے جس بلاشبہ احسن اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
ذیابیطس ٹائپ-ون ایک ایسی بیماری ہے جو اکثر بچپن میں ہی لاحق ہو جاتی ہے اور زندگی بھر انسولین کے انجیکشن کی محتاجی پیدا کر دیتی ہے۔ ایسے بچے روزانہ کی بنیاد پر انسولین کے انجیکشن لینے پر مجبور ہوتے ہیں، جو ان کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر نہایت تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی والدین اپنے بچوں کے علاج کے لیے درکار انسولین باقاعدگی سے حاصل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں یا کم آمدنی والے گھرانوں میں۔ ایسے میں وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ قدم کہ ذیابیطس ٹائپ-1 کے شکار بچوں کو انسولین ان کے گھروں کی دہلیز پر مفت فراہم کی جائے گی، ایک تاریخی اور انسان دوست فیصلہ ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف بچوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرے گا بلکہ ٹائپ-1 ذیابیطس کے شکار بچوں کو روزانہ انسولین کی ضرورت کو بھی پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگا اور اس سہولت کے ذریعے وہ باقاعدگی سے دوا لے سکیں گے۔ اس انقلابی قدم سے والدین کو ذہنی سکون ملے گا اور انہیں اب ہسپتالوں یا دواخانوں کے چکر لگانے کی پریشانی نہیں رہے گی۔ انہیں انسولین ان کے گھر پر مہیا کی جائے گی۔ اس پروگرام میں دیہی اور پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ایسے خاندان جو دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں اور جہاں طبی سہولیات کم ہیں، وہ بھی اس منصوبے سے مکمل فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس منصوبے میں میرٹ اور شفافیت کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے ڈیجیٹل رجسٹریشن اور نگرانی کا مربوط نظام بھی وضع کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ایک آن لائن نظام تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت تمام بچوں کا ڈیٹا محفوظ رکھا جائے گا تاکہ وقت پر دوا کی ترسیل اور معیاری علاج یقینی بنایا جا سکے اور منصوبے کے تحت انسولین مکمل طور پر مفت فراہم کی جائے گی۔ ’’روشنی کی کرن‘‘ ذیابیطس ٹائپ ون میں مبتلا کمسن بچوں کیلئے مفت انسولین کی فراہمی کے پروگرام کا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے اس ہفتے باقاعدہ انسولین کارڈ لانچ کر آغاز کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف انسولین کارڈ لیکر پیدائشی طور پر ذیابیطس ٹائپ ون میں مبتلا کمسن بچوں کے گھروں میں خود گئیں اور سبزہ زار کیو بلاک میں واسع عدنان، جمیل ٹاؤن میں زینب وحید اور زین شہزاد کو بھی انسولین کارڈ دیا۔ کمسن مریضوں کو انسولین، گلوکو میٹر،بی ایس آر سٹرپس اور نیڈل کا باکس بھی دیا۔
کمسن بچوں کیلئے فری انسولین پروگرام بلاشبہ ایک ماں کے دل کی آواز پر شروع کیا گیا پروگرام ہے جس سے حکومت اب دوا یا انسولین خریدنے کی سکت نہ رکھنے والے بچوں تک خود پہنچے گی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے یقین دلایا کہ بچوں کی صحت سب سے زیادہ اہم ہے، بچے قوم کا مستقبل ہیں ان کیلئے سارے وسائل حاضر ہیں۔ اس پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں 1500بچوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر انسولین فراہم کی جائے گی۔ پاکستان پوسٹ کے رائیڈرز خصوصی ایپ پر انسولین کارڈ سکین کرکے تصدیق کریں گے۔ یہ رائیڈرز کولڈ چین سسٹم کے تحت مریض کے گھر جا کر تین ماہ کی انسولین ڈیلیور کریں گے۔ اس پروگرام کے تحت اب ذیابیطس ٹائپ ون کا شکار بچوں کو صرف سہ ماہی چیک اپ کیلئے ہی ہسپتال جانا پڑیگا۔ ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا بچے این سی ڈی کلینک، مریم نواز ہیلتھ کلینک یا ہیلتھ لائن ایپ 1033پر رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا پیدائشی طور پر یا کمسنی میں ذیابیطس ٹائپ ون میں مبتلا کمسن مریض بچوں کے لئے’’سی ایم انسولین برائے ذیابیطس‘‘ کا پروگرام اس لخاظ سے بھی منفرد ہے کیونکہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خود جا کر’’سی ایم انسولین کارڈ‘‘ پروگرام تمام بچوں کو دیا جو بلاشبہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا یہ بچوں کی فلاح بہبود کا منصوبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایک درد دل رکھنے والی وزیراعلیٰ ہیں اور انہیں ان بچوں کی بھی اتنی ہی فکر ہے جتنی ان کے والدین کو۔ صحت مند پنجاب ویژن کے تحت اس انقلابی قدم سے دوا یا انسولین خریدنے کی سکت نہ رکھنے والے بچوں تک حکومت خود پہنچے گی۔ بچوں کی صحت سب سے زیادہ اہم ہے۔ پہلی مرتبہ بچوں کو انسولین کے ساتھ گلوکو میٹر، ٹیسٹ سٹرپس بھی دے رہے ہیں۔ بچوں میں ذیابیطس کے مرض کا تیزی سے پھیلاؤ قابل فکر امر ہے۔ اس پروگرام کے تحت ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا بچے این سی ڈی کلینک، مریم نوازہیلتھ کلینک یا ہیلتھ لائن ایپ 1033پر رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔ ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا بچوں کے لئے ڈسٹرکٹ یا تحصیل ہیڈکوارٹر میں سہ ماہی فالو اپ چیک اپ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کی بدولت نہ صرف بروقت علاج کی دستیابی ممکن ہو پائے گی بلکہ مریضوں کو انسولین وقت پر مل جائے گی، جس سے شوگر کو قابو میں رکھنا ممکن ہو سکے گا۔ وہ افراد جو خود ہسپتال یا دواخانے نہیں جا سکتے انہیں اب انسولین گھر پر مہیا ہو سکے گی۔ طبی عملے کے وقت اور وسائل دونوں کو بچایا جا سکے گا اور ہسپتالوں پر بوجھ بھی کم ہوگا اور یوں عملہ دیگر ہنگامی مریضوں پر توجہ دے سکے گا۔ اس انقلابی قدم سے والدین کو ذہنی سکون حاصل ہوگا کہ ان کے بچوں کی دوا وقت پر دستیاب ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر اس نظام کو مؤثر بنانے اور افادیت یقینی بنانے کے لئے دوا کی محفوظ ترسیل یقینی بنائی گئی ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہر مریض کا ڈیجیٹل ریکارڈ رکھا جائے گا تاکہ علاج کی نگرانی ممکن ہو پائے۔ انسولین کی معیاری اور محفوظ پیکنگ کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ دوا خراب نہ ہو۔
انسولین کی گھر پر فراہمی نہ صرف مریضوں کی زندگی آسان بنائے گی بلکہ صحت عامہ کے شعبے میں ایک مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوگی اور اس سے ذیابیطس پر قابو پانے کی کوششوں کو نئی رفتار ملے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی حکومت کے کئی انقلاب آفرین منصوبوں میں سے ایک یہ پروگرام عوام کی فلاح و بہبود کی ان کی سوچ کا واضح عکاس ہے۔
شوگر کے مریض بچوں کو انسولین کی گھر پر فراہمی
09:37 AM, 3 Jun, 2025