صاحب حال وہ شخص ہوتا ہے جس پر بشریت کے تقاضے نہیں عمال میں روح کا راج ہو، جس کے پاس بیٹھیں اور پہروں بھول جائیں وقت گزرنے کا احساس نہ ہو اور انوارات کی برسات ہو۔ صاحب حال یا روحانی شخصیت کی خاموشی بولتی ہے، آنکھیں غذا بن جاتی ہیں، دل سے دیکھا جاتا ہے، دل سے سنا جاتا ہے، دل سے ہی بولا جاتا ہے، زبان کو زحمت نہیں ہوتی۔ صاحب حال اظہار ذات نہیں کرتا۔ روحانی شخصیت کے ہاں بشری تقاضے بے حیائی ہوتے ہیں، بس روح و وجود کا ناتا جوڑے رکھنے کے اسباب کی حد تک مجبوری ہے۔ چلیے آج مولانا رومیؒ اور بیدلؒ کی محفل میں … یہ سب مجھے ایک روحانی شخصیت کی صحبت سے فیض ملا، جن کے ہاں ناراضی کا سافٹ ویئر تو نہیں ہوتا مگر مقلد کو اللہ کے قرب کے لیے ناراضی کا اظہار کرتے ہیں البتہ شیطان صفت ان کو بھی بہکا سکتے ہیں مگر زیادہ دیر تک نہیں کیونکہ انوارات ہمیشہ اندھیروں پہ راج کرتے ہیں۔
صوفیائے کرام کی دنیا میں ’’صاحبِ حال‘‘ وہ بلند مقام ہے، جہاں علم و عقل کی حدیں مٹ جاتی ہیں، اور الفاظ کی پہنچ ختم ہو جاتی ہے۔ مولانا رومیؒ اور بیدلؒ اس مقام کی گہرائی اور اسرار کو اپنی شاعری میں ایسے بیان کرتے ہیں کہ گویا انسان کو ایک ایسی دنیا کی جھلک مل جائے جہاں عقل خاموش اور دل بیدار ہو جاتا ہے۔ان کے نزدیک صاحبِ حال محض ایک درویش نہیں، بلکہ وہ عاشق ہے جو اپنے آپ کو مٹا کر ذاتِ حق میں فنا ہو جاتا ہے، اور عشقِ حقیقی کے نور میں ایسا ڈوبتا ہے کہ وہ خود اپنی ہستی سے بھی بے خبر ہو جاتا ہے۔ مولانا رومی کہتے ہیں کہ صاحبِ حال وہ ہے جو محض الفاظ، کتابوں اور بحثوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ علم کو نورِ جان میں بدل دیتا ہے:
علم را چون بر درون حق بردہ ای
علم نبود، نور جان پروردہ ای
(جب تُو علم کو حق کے راستے پر لگا دے، تو وہ علم نہیں رہتا، بلکہ نورِ جاں بن جاتا ہے۔) علم کا حقیقی مقصد، رومی کے نزدیک، عشقِ الٰہی کی شمع روشن کرنا ہے۔ ایسا علم جو دل کو نہ جلائے، وہ علم نہیں بلکہ بوجھ ہے۔ صاحبِ حال کا تجربہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک راز ہے، ایک کیفیت ہے جو صرف وہی جان سکتا ہے جو خود اس راستے کا مسافر ہو:
عقل در شرحش چو خر در گل بخفت
شرح عشق و عاشقی ہم عشق گفت
(عقل عشق کے راز کو سمجھنے میں بے بس ہے، جیسے گدھا کیچڑ میں پھنس جائے۔ عشق کی بات تو خود عشق ہی بیان کرتا ہے۔) عشق کی دنیا میں الفاظ اور منطق کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ عشق ایک ایسا دریا ہے جو عقل کی کشتی کو ڈبو دیتا ہے۔ رومی کے نزدیک صاحبِ حال کی معراج فنا فی اللہ ہے …
چون نماند او را وجود و جسم و جان
کی بود او، کی بود جان، کی بود نام
(جب اس کا جسم، جان اور وجود مٹ گئے، تو وہ کہاں رہا؟ صرف اللہ باقی رہ گیا۔)
بیدلؒ کے ہاں صاحبِ حال کا تصور اور بھی گہرا اور پیچیدہ ہے۔ ان کے نزدیک حال وہ راز ہے جو تب ہی کھلتا ہے جب انسان خودی سے مٹ جائے:
بہ یک دم ناپدید از خود شدن، اسرارِ حال آمد
بہ از یک عمر در علم و خبر استاد بودن ہا
(ایک ہی لمحے میں خودی سے فنا ہونا، حال کا راز کھول دیتا ہے۔ اس سے بہتر کیا ہے کہ عمر بھر علم و دلیل کا استاد بنا رہے۔) حال علم و عقل کی دنیا سے باہر کا مقام ہے، جہاں انسان کی ہستی مٹ جاتی ہے اور وہ عدم کی گود میں جا گرتا ہے۔ صاحبِ حال کی دنیا میں نہ سوال باقی رہتا ہے، نہ جواب۔ صرف ایک خاموشی بچتی ہے جو عدم کی تماشا گاہ میں سب کچھ اپنے اندر جذب کر لیتی ہے:
در دلِ خاموشِ من فریاد ہا خاموش شد
در تماشای عدم، گفت و شنید این جان بود
(میرے خاموش دل میں فریادیں بھی خاموش ہو گئیں، عدم کی تماشا گاہ میں نہ گفتگو رہی، نہ سننے والا۔) بیدل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حال کا تجربہ الفاظ سے نہیں بیان کیا جا سکتا:
حالِ دل در لفظ نتوان بست، بیدل خود ببین
کی شود آن حال پیدا زین معانی ہای ما
(دل کے حال کو الفاظ میں باندھنا ممکن نہیں، بیدل! خود دیکھ! یہ حال ہمارے معانی و الفاظ سے ظاہر نہیں ہوتا۔) بیدلؒ فرماتے ہیں کہ جب تک علم و عقل حیرت میں نہ بدل جائیں، وہ محض بحث و مباحثہ ہیں:
علم و عقل و خرد آن است کہ حیران گردد
ورنہ این بحث و جدلہا ہمہ سودایِ دل است
(علم و عقل تب ہی کچھ ہیں جب حیرانی میں ڈھل جائیں، ورنہ سب بحث و دلیل دل کی خواہشات کا کھیل ہے۔) بیدلؒ کہتے ہیں کہ بے خودی، یعنی خود کو مٹا دینا، ہی معشوق کے ادراک کا آئینہ ہے:
بیخودی آئینۂ ادراکِ جانان می شود
من ندانستم کہ ما را این چنین باید شدن
(بیخودی، معشوق کے عرفان کا آئینہ ہے، میں نہ جانتا تھا کہ یوں مٹنا پڑے گا۔)
مولانا رومیؒ اور بیدلؒ اس بات پر متفق ہیں کہ صاحبِ حال نہ صرف خود عشق کی آگ میں جل رہا ہوتا ہے، بلکہ دوسروں کے دلوں کو بھی روشن کرتا ہے۔ رومی کہتے ہیں:
ہر کسی از ظن خود شد یار من
از درون من نجست اسرار من
(ہر کوئی اپنے گمان کے مطابق میرا یار بنا، لیکن میرے باطن کا راز کسی نے نہ جانا۔)
رومیؒ اور بیدلؒ کے نزدیک صاحبِ حال وہ ہے: جو علم و عقل کی حدوں سے آگے بڑھ کر عشق کے راز میں فنا ہو گیا ہو۔ جس کا حال صرف دل سے جانا جا سکے، الفاظ سے نہیں۔ اور جو دوسروں کے دلوں کو بھی عشق کی آگ میں جھونک دے۔ رومیؒ عشق و فنا کا آتش فشاں ہیں، اور بیدلؒ فلسفیانہ رمزیت کے ماہر۔ مگر دونوں ایک ہی پیغام دیتے ہیں: صاحبِ حال بننے کے لیے خود کو مٹانا ضروری ہے۔
صاحبِ حال: مولانا رومیؒ اور بیدلؒ کی نگاہ میں
09:33 AM, 3 Jun, 2025