دفاعِ اور وفا کرنے والوں کے نام ایک شام

09:32 AM, 3 Jun, 2025

 جمعرات 29 مئی لارنس گارڈن لاہور کے خوبصورت کاسمو پولیٹن کلب کی سرمئی شام اور ٹھنڈی ہوائوں کی رفاقت میں کلب کے لائبریری ہال میں معروف شاعر ٗ ادیب ٗ دانشوراور نقاد جناب میجر (ر)شہزاد نیئر کی صدارت میں دفاع اور وفا کرنے والوں کے نام ایک خوبصورت شام کا انعقاد کیا گیا جس میں معروف شاعروں ٗ ادیبوں ٗ دانشوروں اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی ۔ اس پُروقار تقریب میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض ملی ادبی پنچایت کے بانی چیئرمین معروف شاعرریاض احمد احسان نے سرانجام دئیے اور پروگرام کو چار چاند لگا دئیے ۔پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کے بعد ہمارے عہد کے مشہور و مقبول اور خوش گلو نعت خواں جناب ولائت احمد فاروقی نے نعت رسولؐ مقبول سے اہل محفل کی سماعتوں کو باوضوکردیا ۔ پروگرام کا آغازمعروف شاعرہ محترمہ راحیلہ اشرف نے اپنے کلام سے کیاجس میں افواجِ پاکستان کے جوانوں اور جرنیلوں کو منظوم خراجِ تحسین پیش کیا گیا ۔ مقررین نے افواج ِپاکستان کی جنگی حکمتِ عملی کی تعریف کرتے ہوئے بتایاکہ اِس جنگ میں جہاں بھارت کو اپنے عوام اور اقوامِ عالم کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑی ہے وہیں خارجی محاذ پر بھارت اپنی ہٹ دھرمی اورجارحیت کی وجہ سے تنہا بھی ہو گیا ہے ۔ ملی ادبی پنچایت کے صدر نے کہا کہ امن سے بہتر کوئی شے نہیں لیکن بدقسمتی سے امن یکطرفہ نہیں ہوتا اور بھارت اپنی ہٹ دھرمی اور خطے میں اپنے تھانیداری کی خواہش کی وجہ سے پاکستان کیجانب سے یکطرفہ امن کا خواہشمند ہے جسے پاکستان قوم سوائے غلامی کے کچھ نہیں سمجھتی اور غیرت مند قومیں بھلا کب غلامی کی کسی بھی شکل کو قبول کرتی ہیں ٗ دنیا ہمیں سمجھائے کہ یکطرفہ امن کیسے ممکن ہے ؟ بانی چیئرمین ریاض احمد احسان کا کہنا تھا کہ ملی ادبی پنچایت ریاستی دانش کی سمت درست کرنے والا پلیٹ فارم ہے جہاں پاکستان کے شاعر ٗ ادیب ٗ دانشور مل کر اپنی ریاست کو مفید مشوروں سے نوازتے ہیں اوریہی وہ تخلیقی اقلیت ہوتی ہے جو ہر قدم پر ریاستی عقل کا ساتھ دیتی ہے ۔ چیئرمین سپریم کونسل ملی ادبی پنچایت رضوان کاہلوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مودی کا ذہنی توازن بگڑ چکا ہے دنیا پاکستان کو سمجھانے کے بجائے مودی کے بیانیے کو سمجھنے کی کوشش کرے جو یقینا کسی تندرست دماغ کا بیانیہ تو ہرگز نہیں ہوسکتا۔  معروف صنعت کار ڈاکٹر صالح محمود نے ساحر لدھیانوی کی شعرہ آفاق نظم ’’ اے شریف انسانو‘‘ سنا کر حاضرین کے دل جیت لئے ۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ مسلمان غلامی کیلئے نہیں حکمرانی کیلئے پیدا ہوا ہے کیونکہ انسانوں کی فلاح کا آخری پروگرام ہمارے پاس ہے ۔پاکستان امن کمیٹی کے چیئرمین اور معروف سکالرجناب محمود غزنوی نے امن کی اہمیت اور موجود ہ حالات میں بھارتی بیانیے کو مضحکہ خیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی سیاست ٗ ریاست اور طاقت کا غلط اندازہ لگا بیٹھی ہے جس کا خمیازہ اسے ہزیمت اور رسوائی کی شکل میں بھگتنا پڑا ہے ۔ افواجِ پاکستان سے یکجہتی کیلئے معروف گلوکار جناب سکندر خاقان ٗ جناب مرزا جاوید اقبال بیگ ٗشہباز حیدر اور میڈم ہما عمران نے ملی ترانوں سے محفل کو خوب گرمایا ۔ اپواء تنظیم کے بانی چیئرمین جناب ایم ایم علی نے خوبصورت کلام سنا یا اور امید ظاہر کی کہ بھارت اس درگت کے بعد ایک لمبے عرصے تک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھے گا ۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب جناب صابر علی نے بطور مہمانِ خاص اس پروگرام میں شرکت کی اور اپنی شاعری سنا کر محفل میں موجود ہر شخص کا دل مول لیا ۔ اُن کے ہمراہ اسرار بشیر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب بھی تشریف فرما تھے ۔ ترجمان تحریک حرمت ِ رسول ؐجناب علی عمران شاہین نے جنگ میں شہید ہونے والے بچوں اور جوانوں کے درجے کی بلندی کیلئے طویل دعا فرمائی جس میں کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوؒں کیلئے خصوصی دعائیں بھی شامل تھیں ۔پاک تاجر اتحاد کے مرکزی صدر صابر حسین جٹ کے پُر جوش اور ولولہ انگیز خطاب نے پروگرام میں موجود ہر شخص کو متاثرکیا اور اُسے حقیقی پاکستانی کے دل کی آواز قرار دیا ۔ ڈائریکٹر سوشل سکیورٹی ڈاکٹر احسان الرحمان نے افواجِ پاکستان کو پاکستان کی حقیقی ’’ بنیان مرصوص ‘‘ قرار دیا ۔ پروفیسر ضیغم عباس نے اپنا کلا م سنا کر خوب داد وصول کی اور ان کے ایک ایک شعر پر محفل عش عش کر اٹھی ۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے سابق سیکرٹری لاہور اور معروف ترقی پسند شاعر مقصود خالق ملی ادبی پنچایت کے صدر کی خصوصی درخواست پرپروگرام میں تشریف لائے اور اپنا خوبصورت نظمیہ بیانیہ پیش کیا جسے جتنا سراہا جائے کم ہو گا ۔مقصود خالق کی شاعری کو ریاستِ پاکستان کا حقیقی بیانیہ قراردیا گیا ۔ معروف و مقبول شاعر ڈاکٹر صغیر احمد صغیرنے اپنی تقریر میں افواج ِ پاکستان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مقررین کے جذبہ کو داد دی ۔ انہوں نے ملی ادبی پنچایت کے پلیٹ فارم کو حقیقی دانشوروں کا پلیٹ فارم قرار دیا جو واقعی قوم کی درست سمت راہنمائی کر رہا ہے ۔ صدارتی خطبہ عطا کرتے ہوئے معروف شاعر ٗ ادیب ٗ دانشور اورخوبصورت شخصیت کے مالک جناب شہزاد نیئر میجر (ر) نے افواج ِ پاکستان کی حکمت ِ عملی اور پاکستانی قوم کا اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہونے کے جذبے کو سراہا ۔ انہوں نے کارگل جنگ کے دوران کارگل پر اپنی تعیناتی کے حوالے سے دلچسپ واقعات کے علاوہ اُس جنگ کی ہولناکیوں بارے بھی محفل کو آگا ہ کیا ۔ ولایت احمد فاروقی نے اس موقع پر ملی ادبی پنچایت کے بانی چیئرمین ریاض احمد احسان کو پرچم جیسا انسان کہتے ہوئے انہیں پاکستان کا خوبصورت پرچم عطا کیا ۔ جناب ِصدرشہزاد نیئر نے ملی ادبی پنچایت کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا اس پروگرام کو بروقت قراردیا ۔ اس اجلاس میں استحکام پاکستان پارٹی کے قائد جناب نعیم احمد خان ٗمعروف تحقیقی صحافی عزت 
مآب اسد نقوی ٗ سینئر میڈیکل آفیسر جناب ارشد حسین ٗ معروف ترقی پسند دانشور و کالم نگار ناصف اعوان ٗ معروف قانون دان سعدیہ ہما شیخ ٗ اشفاق حسین ٗ اسد علی خان اور ہم سب کے دلوں کی دھڑکن ٗ شہر لاہور میں پروگرامز کے روح ِرواں مشہور و معروف و مقبول کالم نگار و مقرر جناب منشا قاضی صاحب کی آمد نے دل با غ باغ کر دیا۔ باغی ٹی وی کے چیف جنا ب ممتاز اعوان کی خصوصی شرکت نے پروگرام کو مزید رنگا رنگ کردیا ۔پروگرام کے باقاعدہ اختتام کے اعلان کے بعد پُر تکلف کھانا اوربہترین چائے کا دور اوردوستوں کی گفتگو ہمیشہ یادگار رہے گی ۔ کامیاب پروگرام کی مبارک بادیں سمیٹتے ہوئے لمحات نے ڈوبتے سورج سے ابھرتے چاند تک وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہونے دیا ۔ملی ادبی پنچایت کا یہ پروگرام پاکستان کی بہادر افواج اور پاکستانی قوم کے نام تھا جنہوں نے دشمن کا ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔

مزیدخبریں