لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے جاں بحق ہونے والے چودہ بچوں کے بارے میں لکھنے پرغور و خوض جاری تھا کہ باغبانپورہ میں بھی ایک نجی سکول کی چھت گرنے کی خبر منظر عام پر آگئی جس میں ایک بچہ لقمہ اجل بن گیا۔ ابھی ان سانحات سے دل مغموم تھا کہ بلوچستان کے علاقے دانہ سر میں ایک مسافر بس کے کھائی میں گرنے کا واقعہ رونما ہو گیا جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق چالیس افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ آٹھ شدید زخمی ہیں۔
یہ آفاقی حقیقت سب کو معلوم ہے کہ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ لوگ مرتے رہتے ہیں۔ کبھی کسی ٹریفک حادثے میں تو کبھی بیماری سے۔ کبھی قتل و غارت سے تو کبھی آفات سے اور طبعی موت تو ہر روز بہت سے لوگ مر جاتے ہیں۔ بڑی بڑی شخصیات بھی دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں اور ایک ہی وقت میں بعض اوقات درجنوں بلکہ سینکڑوں افراد بھی موت کا نوالہ بن جاتے ہیں۔ ہزاروں لوگ جنگوں کا ایندھن بھی بنتے رہتے ہیں۔ سب اموات دلوں پر گہرا زخم چھوڑ جاتی ہیں لیکن کچھ ایسی ہوتی ہیں جو بہت سے سوال بھی ہمارے سامنے کھڑے کر جاتی ہیں۔ ٹریفک حادثات، قتل و غارت، بیماریوں اور جنگوں سے ہونے والی اموات یا لوگوں کا طبعی طور پر دنیا سے رخصت ہوجانا تو ایک معمول ہے لیکن ٹیوشن سنٹر یا سکول میں پڑھنے والے بچوں کا عمارت منہدم ہونے سے جاں بحق ہونا ایک غیر معمولی صورت حال ہے۔ وہ چاہے کاہنہ کا ٹیوشن سنٹر ہو یا باغبانپورہ کا سکول۔
کاہنہ کے ٹیوشن سنٹر کے واقعے کے بعد دھیان ملک بھر میں جگہ جگہ کھلے "اعلانیہ اور غیر اعلانیہ" ٹیوشن سنٹروں کی طرف چلا گیا۔ یہ کام ایک باقاعدہ کاروبار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ "اعلانیہ ٹیوشن سنٹروں" سے مراد وہ ٹیوشن سنٹر ہیں جو باقاعدہ نجی سکولوں کی شکل میں کھلے ہوئے ہیں اور انھیں اکیڈمیاں کہا جاتا ہے۔ "غیر اعلانیہ ٹیوشن سنٹر" وہ ہیں جو لوگوں نے اسی طرح گھروں میں کھول رکھے ہیں جس طرح کاہنہ کا وہ ٹیوشن سنٹر تھا جس کی چھت گرنے سے چودہ بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔ ایسے ٹیوشن سنٹر ہر گلی اور محلے میں موجود ہیں بلکہ ایک ایک گلی میں کئی کئی ٹیوشن سنٹر بھی ہوتے ہیں جہاں والدین بہت معمولی فیس دے کر اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے بھیج دیتے۔ ایسے ٹیوشن سنٹروں میں زیادہ تر چھوٹی جماعتوں کے ننھے بچے پڑھتے ہیں لیکن آٹھویں، نویں اور دسویں جماعتوں کے بڑے بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایسے کئی ٹیوشن سنٹر تو ان لوگوں نے بھی کھول رکھے ہیں جو باقاعدہ تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی سکول کالج میں پڑھا رہے ہوتے ہیں لیکن کچھ ٹیوشن سنٹر ایسے لوگ بھی شوق شوق میں یا گھر کا خرچ چلانے کے لیے کھول لیتے ہیں جن کا تدریس کے شعبے سے کوئی باقاعدہ تعلق نہیں ہوتا۔
یہ ٹیوشن سنٹر گھروں میں ہی ہوتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ کوئی باقاعدہ ٹیوشن سنٹر بھی نہیں ہوتے بلکہ گھر کے اندر ہی کوئی ایک کمرہ مختص کر کے بچوں کو ٹیوشن پڑھائی جاتی ہے اور پاس پڑوس کے بچے ایک ایک دو دو کرکے ایسے گھروں میں پڑھنے کے لیے آنے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ ان کے پاس بچوں کی اچھی خاصی تعداد جمع ہو جاتی ہے۔ کاہنہ کا ٹیوشن سنٹر بھی اسی قسم کا تھا۔ اس ٹیوشن سنٹر کی ہسپتال میں زیر علاج مالکن کا ایک کلپ نظر سے گزرا جس میں وہ بتا رہی تھی کہ اس کا شوہر پھلوں کا ٹھیلا لگاتا ہے جبکہ وہ گھر کا خرچ چلانے میں اپنے میاں کا ہاتھ بٹانے کے لیے ٹیوشن پڑھاتی ہے، ان کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ وہ لینٹر کی چھت ڈال سکیں، اس لیے گارڈر اور ٹی آر کی چھت ڈالی۔
خاتون کی اس بات سے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پھل فروش کو اپنے کاروبار سے اتنی بچت بھی نہیں ہوتی کہ اس کے گھر کا خرچ اچھے طریقے سے چل سکے جبکہ بازار میں تو پھل پہلے ہی اتنے مہنگے فروخت ہوتے ہیں کہ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ دکاندار من مانی قیمتوں پر پھل فروخت کرنے لگے ہیں۔ اگر من مانی قیمت پر پھل بیچ کر بھی کسی محنت کش کے گھر کا خرچ نہیں چلتا اور اس کی بیوی کی ٹیوشن کی کمائی ملا کر بھی اتنی بچت نہیں ہو سکتی کہ وہ گھر پر پختہ چھت ڈال سکے تو پھر یہ کام حکومتوں کے سوچنے کا ہے کہ ایسا کیوں ہے اور اس کا حل کیا ہے۔ کیوں لوگوں کے لیے اپنی محنت اور مشقت کی کمائی سے اپنا گھر بنانا اور اسے چلانا مشکل ہو رہا ہے۔
چودہ بچوں کی موت کا دکھ اپنی جگہ لیکن یہ بات بھی دکھ کا باعث ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ اس غریب محنت کش کو "ملزم" بھی لکھتے رہے حالانکہ اس نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا تھا جس کا اس پر الزام لگایا جاتا۔ ایک تو اس کا گھر زمین بوس ہوا، دوسرا اس کی بیوی اور بیٹی بھی زخمی ہوئی، اوپر سے ملزم بھی وہی؟ اس نے تو اپنے چھت پر ٹائلیں لگا کر اسے بہتر بنانے ہی کی کوشش کی تھی، کسی کی جان لینے کی تو نہیں۔ کون چاہے گا کہ اس کے گھر کی چھت گر جائے اور اس کے نیچے دب کر اسے اپنے اہل خانہ سمیت بہت سی انسانی جانیں خطرے سے دوچار ہوں یا ختم ہو جائیں۔ شاید یہ کام بھی حکومتوں ہی کے کرنے کا ہے کہ جب کوئی شخص گھر تعمیر کرے تو اسے پختہ گھر بنانے کے لیے آسان اقساط پر قرض فراہم کیا جائے جس کا حصول بھی آسان ہو تاکہ چھتیں گرنے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ باقی نہ رہے۔
یہ سوال بھی ذہن میں جنم لیتا ہے کہ آخر لوگ اپنے بچوں کو ٹیوشن پڑھنے کیوں بھیجتے ہیں۔ کیا سکولوں میں انھیں پڑھایا گیا کافی نہیں ہوتا۔ کیا ہمارا نظام تعلیم اس قدر ناقص ہے کہ بچے اور ان کے والدین سکولوں میں لکھے پڑھے سے مطمئن نہیں ہوتے یا پھر صرف بھیڑ چال کے طور پر بچوں کو ٹیوشن پڑھنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ کیا ننھے ننھے بچوں پر پڑھائی کا اتنا بوجھ ڈالنا چاہیے کہ وہ دن کو سکول میں بھی پڑھیں اور شام کو ٹیوشن سنٹروں میں بھی پڑھیں۔ کیا اب والدین میں اتنی صلاحیت یا اپنے بچوں پر اتنا کنٹرول بھی نہیں رہا کہ انھیں اپنی نگرانی میں گھر میں بٹھا کر خود تھوڑا بہت پڑھا سکیں۔ کیا یہ ٹیوشن کلچر دنیا میں کسی اور جگہ بھی پایا جاتا ہے یا یہ عارضہ صرف ہم لوگوں ہی کو لاحق ہے۔
بہرحال کاہنہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی ناگہانی موت پر دل واقعی بہت رنجیدہ ہے۔ وہ بچے جو آنکھوں میں نہ جانے کیسے کیسے خواب سجائے ٹیوشن پڑھنے گئے ہوں گے۔ ان کے بارے میں بس ذوق کا یہی شعر بار بار ذہن میں آ رہا ہے:
پھول تو دو دن بہارِ جاں فزا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے!!
08:49 AM, 4 Jul, 2026