چمٹے کی جادوگری سے جگنی کی صدا تک: عالم لوہار کی موسیقی کا لازوال سفر، 46 سال بعد بھی زندہ

03:56 PM, 3 Jul, 2025

لاہور: آج لوک موسیقی کے افسانوی گلوکار عالم لوہار کو مداحوں سے بچھڑے 46 برس مکمل ہو چکے ہیں، مگر ان کی آواز آج بھی پنجاب کی فضاؤں میں گونجتی ہے۔
گجرات  میں 1 مارچ 1928 کو پیدا ہونے والے عالم لوہار نے چمٹے کی دھن کے ذریعے لوک موسیقی کو نئی پہچان دی۔ ان کی گائی ہوئی جگنی نے نہ صرف عوام کے دل جیتے بلکہ اسے فلمی دنیا میں بھی خاص مقام حاصل ہوا۔

عالم لوہار کی موسیقی نے پنجابی ثقافت کے ہر رنگ کو بیان کیا، خاص طور پر ہیر وارث شاہ جیسے کلاسیکی قصوں کو نئی زندگی دی۔ ان کا چمٹا، جو وہ ایک ساز کی طرح بجاتے تھے، آج بھی لوک موسیقی کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔

3 جولائی 1979 کو ایک المناک حادثے میں ان کی وفات ہو گئی، مگر ان کی موسیقی آج بھی نوجوان نسل میں مقبول ہے اور ہر محفل کی جان بنی ہوئی ہے۔ بعد از وفات انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا، جو ان کے فن کی بین الاقوامی پہچان کا اعتراف تھا۔

آج بھی پاکستان بھر میں ان کے گیت بجتے ہیں، جو لوک ثقافت اور موسیقی کی حفاظت اور فروغ کا ضامن ہیں۔

مزیدخبریں