آیت اللہ خامنہ ای کا فتویٰ اور تلسی گیارڈ…

09:34 AM, 3 Jul, 2025

 ٹرمپ کا غصہ شاید ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہوا اور وہ سی این این اور نیویارک ٹائم کو مغلظات سے یاد کر رہا ہے جنہوں نے ایران پر امریکی حملے کا بھانڈا پھوڑ دیا جس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام تباہ کردیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات کی مکمل تباہی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ فردو تنصیب سے کوئی چیز باہر نہیں لے جائی گئی،ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کی گئی پوسٹ میں لکھا امریکی فضائی حملوں کا ہدف بننے والی ایرانی جوہری تنصیبات سے کچھ بھی منتقل نہیں کیا گیا،دوسری طرف ایران نے دعویٰ کیا تھاکہ امریکی حملے سے قبل ہی اس نے اپنے جوہری اثاثے محفوظ مقام پر منتقل کر دیئے تھے، امریکی حملے سے صرف متعلقہ ایٹمی مقامات کو نقصان پہنچا ہے، امریکی میڈیا کی رپورٹس اور خبریں بھی ایرانی دعوے کو تقویت اور امریکی دعوے کی نفی کر رہی ہیں، خاص طور پر سی این این، اے بی سی اور این بی سی کی رپورٹس کے مطابق امریکی حملے سے ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں، ٹرمپ میڈیا رپورٹس پر شدید برہم دکھائی دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جعلی خبریں پھیلا کر ہماری کامیابی اور کارکردگی کو کمزور ظاہر کیا جا رہا ہے،اسرائیل کے حملے میں ایران نے منہ توڑ جواب دیا تو دنیا میں کہرام مچ گیا ٹرمپ کی راتوں کی نیند حرام ہوگئی کیونکہ نیتن یاہو کو مار پڑتے نہیں دیکھ سکتا تھا او وہ ایران اسرائیل جنگ میں کود پڑا اور دعویٰ کرنے لگا ایرانی جوہری پروگرام تباہ کر دیا اب وہ کبھی ایٹمی طاقت نہیں بن سکتاحالانکہ نیو کلیئر پروگرام ایک بہانہ اور انقلاب نشانہ تھاٹرمپ اور نیتن سمجھتے تھے کہ رجیم چینج ہو گی جو آسان نہ تھا بے شک ایران میں بھی عوام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے لیکن جب موساد اور سی آئی اے نے رضا شاہ پہلوی کے بیٹے رضا پہلوی کورجیم چینج کیلئے پیرس سے بلوایااور وہ اسرائیل کی حمایت میں قصیدے پڑھنے لگا تو ایرانی عوام ایک ’’مٹھ‘‘ ہو گئے اور رضا پہلوی کی دال نہ گلی اور وہ دلبرداشتہ ہو کر واپس چلا گیا اور ٹرمپ کو سوشل میڈیا پر ان فالو کر دیا امریکہ کا خیال تھا کہ ایرانی عوام اپنی حکومت کیخلاف اٹھ کھڑے ہونگے جو ان کی بھول تھی ایران میں 46 سال قبل انقلاب آیاتھا 2003 میں آیت اللہ خامنہ ای نے ایک فتویٰ دیا تھا ا یٹم بم بنانا حرام ہے کیونکہ یہ انسانیت کا قاتل ہے اور ایران آج تک اس پر قائم ہے اس لئے ایران پر حملے کا ٹرمپ اور نیتن کو کوئی بہانہ چاہیے تھاجبکہ امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیارڈنے 26 مارچ 2025 کو امریکن کانگریس کو کہا تھا کہ ایران کے پاس بم نہیں نہ وہ ایٹم بم بنا رہا ہے ، ایران سے مار پڑنے کے بعد امریکہ اور نیتن یاہو کا ہرپلان فیل ہو گیاجس کے بعد انہوں نے سیزفائر کا اعلان کیا بے شرمی کی انتہا ہے کہ’’ کٹ‘‘ کھانے کے بعد ایران کو تباہ کرنے کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں جبکہ معاملہ کچھ اور ہے دنیا کہہ رہی ہے کہ اسرائیل کو ہا رمان لینی چاہیے اب دیکھیے ایران نے اپنی شہادتوں کا برملا اعتراف کیا ،کیا اسرائیلی لوہے کے بنے ہیں کہ وہاں اموات نہیں بتائی جا رہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ اسرائیلی عوام نیتن یاہو کیخلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے وہ انہیں اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتی دوسری طرف امریکی بھی ایران اسرائیل جنگ میں کودنے پر ٹرمپ کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اب دونوں مکار اپنی حکومتیں بچانے کیلئے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں قارئین کی معلومات کیلئے عرض ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ میڈل ایسٹ پر اپنا کنٹرول بر قرار نہ رکھ سکی اور برٹش امپائر نے میڈ ل ایسٹ کی زمین پر اپنا غاصبانہ قبضہ قائم کر کے ان علاقوں میں اپنی کا لو نیز بنا لیں اس سے بر طانیہ پہلے یہ کا م افر یقہ اور سائو تھ ایشیا میں مکمل کر کے بہت سے علاقوں میں قبضہ کر چکا تھا،دوسری جنگ عظیم میں بر طانیہ کو جیوش کمیونٹی کی دوبارہ ضرورت پڑی اس لئے دیگر یورپی ممالک سے زیا دہ سے زیادہ یہودیوں کو دعوت دی گئی کہ وہ فلسطین میں آباد ہوں، ادھر نا زی ہٹلر کے' ہو لو کاسٹ ' سے ڈر کر لا کھوں یہو دی جر منی اور پو لینڈکو چھوڑ کر اس خطے پر جسے نیشنل ہوم قرار دیا گیا تھا اور جو صد یوں سے فلسطینیوں کا اپنا وطن تھا میں مستقل طور آباد ہو گئے احتجاج کے باوجود 1948 میں یو این او کی سر پر ستی میں دو قومی سٹیٹس کے نظریے کے تحت ایک اسرائیلی اور ایک فلسطینی سٹیٹ بنا دی گئی ورلڈ وار کے بعد جب سرد جنگ کا زمانہ آیا تو بد قسمتی سے کسی مسلم ممالک کے پاس اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اسرائیل کے پشت پناہی کر نے والی بر طانیہ اور امریکہ جیسی طا قتوں کا مقابلہ کر سکیں،زیادہ سے زیادہ یہ ہو ا کہ سعودیہ سمیت چند مسلم ممالک نے اسرائیل کی نوزائیدہ سلطنت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، غزہ کے فلسطینیوں کے پاس کوئی شیلٹر ہے نہ پانی انسانی جانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے، اگر امریکہ اور اس کے اتحادی واقعی میڈل ایسٹ میں مستقل امن چاہتے ہیں تو فریقین کو مد نظررکھ کر ایسا حل پیش کیا جائے جن میں فلسطینیوں کی خواہش کے مطابق ان کے مسئلے کا دیر پا حل موجود ہو،کیونکہ اسوقت فلسطین اور اسرائیل کے تنازعے کا کوئی عسکری اورفوجی حل نظر نہیں آتا، پہلے ہی بہت دیرہو چکی ہے پوری دنیاکو آنکھیں کھول کر رکھنی چاہئیں، 
ایران میں چھتر پولے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی مقبولیت تیزی سے کم ہو رہی ہے کیونکہ اسرائیلی عوام دس دن تک بنکروں میں قید رہی اور وہ مزید جنگ جاری رکھنے کیخلاف ہیں اور وہ نیتن یاہو سے حکومت چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے ہیں دوسری طر ف غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ملک میںدبا ئو بڑھ رہا ہے، نیتن یاہو کی سب سے بڑی ناکامی غزہ میں جنگ ختم نہ کرنا ہے،صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران سے اگلے ہفتے معاہدہ ہو سکتا ہے چوں کہ صورت حال امریکی حملے سے سنگین ہوئی ہے، صدر ٹرمپ کو غزہ پر اسرائیلی جارحیت رکوانے کیلئے نیتن یاہو کے ہاتھ روکنا ہوں گے تب ہی مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو سکتا ہے،فاتح ایران کو اپنے دفاع کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کا پورا حق ہے، امریکا اور عالمی برادری کو کسی بھی ملک کی آزادی، خود مختاری اور قومی سلامتی کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے،فلسطین میں اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا جب تک اسے آزاد ریاست تسلیم نہیں کیا جاتا غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی فوجی مہم کے بارے میں اسف میدانی نے لکھا ہے کہ حماس اگرچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے لیکن تباہ نہیں ہوئی صیہونی ریاست کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سمجھ جائے ورنہ ایران کے ہاتھوں مزید خواری ہو گی۔

مزیدخبریں