خدائے پاک کی یہ مہربانیاں

09:32 AM, 3 Jul, 2025

ویسے تو جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ قدرت کی طرف سے ہی ہوتا ہے لیکن ملکی اور بین الاقوامی سطح پر گذشتہ کچھ عرصہ سے جو کچھ ہو رہا ہے اس میں یقین کریں کہ انسانی کاوش کم اور خدائے پاک کی مہربانیوں کا عمل دخل زیادہ نظر آ رہا ہے اس لئے کہ جہاں تک انسانی کوششوں کا تعلق ہے تو ہم یہ نہیں کہتے کہ پاکستان میں کون زیادہ با اختیار ہے بلکہ بحث سے بچنے کے لئے ہم کہہ سکتے ہیں فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب، محترم وزیراعظم میاں شہباز شریف صاحب اور صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب یہ تینوں شخصیات یقیناً بہت زیادہ طاقت ور ہیں لیکن ان کی طاقت ان کے اختیارات جتنے بھی وسیع ہیں وہ پاکستان کی حدود تک ہیں لیکن انتہائی اہم پیش رفت جو ہو رہی ہیں کہ جن کا ذکر ابھی کریں گے ان میں سے بیشتر کا تعلق پاکستان کی حدود سے باہر سے ہیں کچھ احباب یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان سے باہر بھی تو ان کا اثر و رسوخ ہے تو بات ٹھیک ہے لیکن اس اثر و رسوخ کا ایک دائرہ ہوتا ہے اس سے باہر اگر پاکستان کے حق میں کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ ہو رہا ہے تو تاویلات پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن جو کچھ ہو رہا ہے وہ سمجھ بھی نہ آئے کہ کیوں ہو رہا ہے تو پھر ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ قدرت کی ذات پاکستان پر مہربان ہے یقیناً کچھ لوگوں کو میری اس بات سے اتفاق نہیں ہو گا بلکہ ان کے چہرے کے تاثرات بگڑ جائیں گے کہ یہ ان کی قسمت ہے کہ پاکستان کے حق میں اگر کوئی بات ہوتی ہے تو ان کا بغض بلا وجہ ابل ابل کر باہر آنا شروع ہو جاتا ہے حالانکہ وہ کھاتے پاکستان کا ہیں پیتے پاکستان کا ہیں رہتے پاکستان میں ہیں روزگار پاکستان میں ہے کماتے پاکستان میں ہے لیکن کسی کی مخالفت میں بلا وجہ وطن عزیز کا بغض ان کے دل میں بس گیا ہے۔
اب بات کرتے ہیں ان اقدامات کی جو بین الاقوامی سطح پر ہو رہے ہیں اور ہر بات پاکستان کے حق میں جا رہی ہے گذشتہ ماہ پاک بھارت جنگ کے دوران جب پاکستان نے ہندوستان پر جوابی کارروائی کی تھی تو روس سے لیا گیا اس کا جدید ترین ڈیفنس میزائل سسٹم S-400 تباہ ہو گیا تھا تو اس کی مرمت اور اپ گریڈیشن کے لئے ہندوستان نے روس سے تعاون مانگا اور ساتھ میں اس نے S-500 ڈیفنس میزائل سسٹم کا تقاضا بھی کیا لیکن روس نے ہندوستان کی ان دونوں درخواستوں کو نہ صرف یہ کہ رد کر دیا بلکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ روس نے ہندوستان کے ساتھ دفاعی تعاون بند کر دیا ہے یہ ذہن میں رہے کہ تقسیم ہند کے بعد سے لے کر اب تک ہندوستان اور روس کے درمیان بڑے گہرے مراسم رہے ہیں اور دنیا میں جب دو سپر پاور ہوتی تھیں تو ہندوستان سوویت یونین کے بلاک میں تھا تو روس اور ہندوستان کے تعلقات میں اگر کسی سطح پر بھی سرد مہری آتی ہے تو یہ ایک غیر معمولی بات ہو گی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے بعد اس کے اعلامیہ میں جعفر ایکسپریس کے واقعہ کا تو ذکر تھا لیکن ہندوستان کی لاکھ کوشش کے باوجود بھی اس میں پہلگام واقعہ کو شامل نہیں کیا گیا جس کے بعد ہندوستان نے اس اعلامیہ پر دستخط نہیں کئے اور اس حوالے سے بات یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ خواجہ آصف کی تقریر کے بعد انڈین وزیر دفاع کی درخواست کے باوجود انھیں تقریر کا موقع نہیں دیا گیا ہندوستان کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر پاکستان نے عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا تھا اس عدالت کی جانب سے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا گیا اور عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ہندوستان نے غیر قانونی طور پر پاکستان کا پانی روکا ہے اس کے علاوہ ایران نے دو بھارتی سفارت کاروں کو ملک سے نکال دیا ہے جیو نیوز پر سلیم صافی کے پروگرام جرگہ میں ایرانی سفیر نے ایران اسرائیل جنگ کے دوران بھارتی کردار کی کھل کر مذمت کی اس کے علاوہ ایرانی پارلیمنٹ میں انڈین جھنڈے کو جلایا گیا اس سے پہلے ٹرمپ نے ٹیسلا، ایپل اور سام سنگ کو ہندوستان میں پلانٹ لگانے سے روک دیا۔
مذکورہ بالا تمام اقدامات ماسوائے پاکستان میں ایرانی سفیر کے انٹرویو کے دیگر تمام واقعات کا تعلق بیرون ملک سے ہے لہٰذا جس طرح کالم کے شروع میں عرض کیا کہ ان میں پاکستانی قیادت کے عمل دخل کا امکان نہیں ہے اور اس لئے کوئی بھی ہوش مند انسان عالمی ثالثی عدالت پر اثر انداز ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا اسی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا ڈونلڈ ٹرمپ امریکی مفادات کو قربان کر کے پاکستان کی خاطر مختلف کمپنیوں کو بھارت میں کاروبار کرنے سے روک دے اور یہ تو سوچنا بھی حماقت ہو گی کہ چین، روس اور ایران جیسے ممالک پاکستان کے کہنے پر اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے ہندوستان کے خلاف اقدامات کریں ایسا ہونا ممکن ہی نہیں ہے تو یہ پاکستان ہی نہیں بلکہ عالم اسلام پر قدرت کی طرف سے مہربانی ہے کہ وہ عزت رکھ رہا ہے اور پاکستان کو ہندوستان کے خلاف اور ایران کو اسرائیل کے مقابلے میں فتح عظیم عطا فرمائیں ورنہ تو عشرے بیت گئے تھے ایسی اچھی خبریں سنے ہوئے لہٰذا بلا تفریق ہر پاکستانی کو خدائے پاک کی ان مہربانیوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور مستقبل میں پاکستان اور عالم اسلام کی فتح و کامرانی کی دعائیں کرنی چاہئے کہ خدائے بزرگ و برتر عالم اسلام اور اس کی حامی قوتوں کو فتح و کامرانی عطا فرمائے اور عالم کفر اور اس کی حامی قوتوں کو نیست و نابود کرے۔ آمین۔

مزیدخبریں