امریکی کارروائی کے بعد صدر مادورو کی حراست، سپین ثالثی کے لیے متحرک؛ عالمی طاقتوں کا ردِعمل

06:03 PM, 3 Jan, 2026

کراکس:وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سمیت حراست کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ اسپین نے امریکا اور وینزویلا کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی فوج نے کارروائی کے دوران صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لیا۔ اس پیش رفت کے بعد یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکا سمیت دنیا بھر سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ اور وینزویلا میں یورپی یونین کے سفیر سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ یورپی یونین صدر مادورو کو قانونی حیثیت نہیں دیتی، تاہم بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ ان کی حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ اسپین کے سفارتی مشنز مکمل طور پر فعال ہیں۔ اس سے قبل اسپین کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ وینزویلا بحران کے پُرامن حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

روس نے امریکی کارروائی کو وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدام عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ چین نے بھی کسی بھی بہانے فوجی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے امریکا سے پُرامن حل اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایران نے امریکی حملے کو غیر قانونی اور جارحانہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکرٹری جنرل سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

ادھر جرمنی، فرانس، بیلجیئم، نیدرلینڈز، پولینڈ اور بیلاروس سمیت دیگر ممالک نے بھی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی مذاکرات پر زور دیا ہے۔

مزیدخبریں