واشنگٹن / استنبول: مشرقِ وسطیٰ میں براہِ راست تصادم روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ ترکیہ کے شہر استنبول میں جمعہ کو ہونے والے اہم جوہری مذاکرات میں پاکستان کو بھی مدعو کر لیا گیا ہے، جہاں عالمی طاقتیں خطے کو بڑی جنگ سے بچانے کے لیے سر جوڑیں گی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق، ان مذاکرات کا بنیادی ایجنڈا خطے میں کشیدگی کم کرنا اور صورتحال کو قابو سے باہر ہونے سے روکنا ہے۔ اس اہم بیٹھک میں پاکستان کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور مصر کے نمائندے بھی میز پر موجود ہوں گے۔ اگرچہ مذاکرات کے طریقہ کار کی مکمل وضاحت ابھی باقی ہے، لیکن اسے ایران اور امریکہ کے درمیان برف پگھلانے کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ اس معاملے کو لٹکانے کے حق میں نہیں ہے۔ ان کے کلیدی بیانات درج ذیل ہیں۔ایران کے ساتھ ڈیل طے نہ ہوئی تو نتائج بہت بُرے ہوں گے۔ایران کی جانب ایک بہت بڑا بحری بیڑہ روانہ کر دیا گیا ہے، جو امریکی طاقت کا اظہار ہے۔سٹیو وٹکوف جمعہ کو ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کر کے امریکی مطالبات سامنے رکھیں گے۔
صدر ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان بھی جنگ بندی (Ceasefire) کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سے جلد اچھی خبریں متوقع ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ایپسٹین اسکینڈل سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا۔
ایران امریکہ جوہری مذاکرات: پاکستان سمیت اہم ممالک استنبول میں طلب، ٹرمپ کا 'بڑے ایکشن' کا انتباہ
03:26 PM, 3 Feb, 2026