ایف پی سی سی آئی نے پاکستان میں شفافیت اور احتساب پر ایک ملک گیر سروے کے نتائج جاری کردیے

02:09 PM, 3 Feb, 2026

اسلام آباد : فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان میں شفافیت اور احتساب پر ایک ملک گیر سروے کے نتائج جاری کیے ہیں۔ اس سروے میں ملک بھر سے 6,018 افراد کی رائے شامل کی گئی اور اس کے ذریعے سرکاری اداروں میں بدعنوانی کی حقیقت سامنے آئی۔

سروے کے مطابق، 68 فیصد افراد نے کہا کہ سرکاری اداروں میں رشوت لینا دینا عام بات ہے، مگر صرف 27 فیصد نے یہ بتایا کہ انہیں ذاتی طور پر رشوت مانگے جانے کا سامنا ہوا۔ اسی طرح، 56 فیصد کے خیال میں اقربا پروری کا عمل موجود ہے، لیکن صرف 24 فیصد نے اس کا عملی تجربہ کیا۔ سروے میں 59 فیصد کا کہنا تھا کہ سرکاری اہلکار غیر قانونی ذرائع سے پیسہ کماتے ہیں، تاہم صرف 5 فیصد نے خود ایسی صورتحال دیکھی۔

سروے کے نتائج سے یہ بھی پتا چلا کہ اکثریت نے بدعنوانی کا براہ راست سامنا نہیں کیا۔ 67 فیصد نے کہا کہ انہیں کبھی بھی رشوت یا بدعنوانی کا تجربہ نہیں ہوا، اور 73 فیصد نے بتایا کہ انہیں رشوت دینے کی ضرورت نہیں پیش آئی۔ 76 فیصد نے کہا کہ انہیں اقربا پروری کا سامنا بھی نہیں ہوا۔

شفافیت کے حوالے سے اسلام آباد سب سے آگے رہا، جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا بھی اس حوالے سے نمایاں تھے۔ عوامی اعتماد کے اعتبار سے نیب (NAB) کو سب سے مؤثر ادارہ قرار دیا گیا۔ دیگر اداروں میں ایف آئی اے، وفاقی و صوبائی محتسب اور NCCIA کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے۔

سروے میں سرکاری اسپتالوں کو سب سے زیادہ شفاف قرار دیا گیا، اس کے بعد نادرا، تعلیمی ادارے اور ٹریفک پولیس کا نمبر آیا۔ نادرا کو عوامی خدمات کے معیار میں سب سے بہتر ادارہ تسلیم کیا گیا۔

صرف 31 فیصد لوگ حکومتی اقدامات سے مطمئن تھے، 37 فیصد غیر جانبدار تھے، جبکہ 32 فیصد نے حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ عوام میں شفافیت کے قوانین سے آگاہی کم ہے، جیسے RTI قانون سے صرف 11 فیصد لوگ واقف تھے، جبکہ 34 فیصد کو بدعنوانی کی رپورٹنگ کے طریقہ کار کا علم تھا۔

نوجوانوں کا بدعنوانی کے بارے میں تاثر بزرگوں کے مقابلے میں زیادہ مثبت تھا۔ شہری علاقوں میں لوگوں کو نظام پر زیادہ اعتماد تھا، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ تاثر کم تھا۔

مزیدخبریں