ججز کو جذبات نہیں قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے ، وفاقی آئینی عدالت

11:45 AM, 3 Feb, 2026

اسلام آباد : وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے ایک اہم فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جس میں ایک طالبعلم کو اسپیشل یا سپر سپلیمنٹری امتحان دینے کی اجازت دی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹس کا دائرہ اختیار آئین کے مطابق محدود ہے، اور انہیں فیصلے قانون کی بنیاد پر کرنے ہوں گے، نہ کہ جذبات یا ذاتی احساسات کے تحت۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب شہید بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم کو طبی وجوہات کی بنا پر سالانہ امتحان اور سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کا موقع نہیں مل سکا۔ طالبعلم نے یونیورسٹی انتظامیہ سے درخواست کی تھی، مگر اس کی درخواستیں مسترد ہو گئیں۔ پھر اس نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جس نے اسے اسپیشل امتحان میں شرکت کی اجازت دی۔ تاہم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ کالعدم کر دیا اور کہا کہ ہائیکورٹس کو ہمدردی یا ذاتی عقائد کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرنے چاہیے، بلکہ انہیں صرف قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہوں گے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ "ہمدردی" یا "اخلاقیات" قانون کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ ججز کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے چاہیے، اور انہیں ذاتی احساسات یا سیاسی حقیقتوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔ اس فیصلے میں عدالت نے کہا کہ پاکستان ایک آئینی ریاست ہے، اور ججز کو صرف قانون کی بنیاد پر انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے۔

اس فیصلے میں وفاقی آئینی عدالت نے یہ وضاحت بھی کی کہ ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت محدود اختیارات رکھتی ہیں اور وہ صرف وہی اختیارات استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون میں دیے گئے ہوں۔ اس کے علاوہ، آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت ہمدردی کا اختیار صرف سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہے، نہ کہ ہائی کورٹس کو۔یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے تحریری حکم میں دیا، جس میں 18 صفحات پر مشتمل تفصیلات موجود ہیں۔

مزیدخبریں