ماسکو ؛ روس نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وینزویلا کے منتخب صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو فوراً رہا کرے۔ روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس وینزویلا کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کی کوششوں کی غیر متزلزل حمایت کرتا ہے اور وینزویلا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم رکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا کی قیادت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ قانونی طور پر منتخب صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو غیر مشروط طور پر آزاد کرے۔
3 جنوری کو امریکا نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں فوجی اور شہری اہداف پر حملے کیے، جنہیں وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل پنٹو نے "کھلی فوجی جارحیت" قرار دیا۔ ان حملوں کے بعد وینزویلا میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کر دیا گیا ہے۔ 5 جنوری کو دونوں کو نیویارک کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام عائد کیا گیا۔ تاہم صدر مادورو اور ان کی اہلیہ نے ان الزامات کی مکمل تردید کی ہے۔