ماسکو: روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں اتوار کی رات آسمان پر ایک بہت ہی عجیب اور دلکش منظر دیکھا گیا۔ مقامی افراد نے بیک وقت چار چاند جیسے چمکتے ہوئے اجسام کو آسمان پر رقص کرتے ہوئے دیکھا، جو کسی حیرت سے کم نہیں تھا۔ اس منظر کی ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، اور ہر طرف اس کا چرچا ہونے لگا۔
ویڈیوز میں واضح طور پر دکھایا گیا کہ پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے جیسے چاند نے خود کو کئی حصوں میں تقسیم کر لیا ہو، اور چاند کے گرد روشن، چمکتے ہوئے دھبے نظر آ رہے تھے۔ آسمان کے منظر کا شوق رکھنے والے لوگ اس خوبصورت منظر کو دیکھ کر رک گئے اور کافی دیر تک اس میں غرق ہو گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی غیر معمولی یا خلائی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک قدرتی مظہر تھا جسے سائنسی زبان میں "پیرسیلینی" کہتے ہیں۔ عام طور پر اس مظہر کو "مون ڈاگ" یا "نقلی چاند" بھی کہا جاتا ہے۔
یہ تب ہوتا ہے جب چاند کی روشنی فضا میں موجود بہت باریک اور بلند بادلوں سے گزرتی ہے، جو برف کے ننھے ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان بادلوں کو "سیروس" یا "سیروسٹریٹس" کہا جاتا ہے۔ جب ان بادلوں میں موجود چھ کونوں والے برف کے ذرات چاند کی روشنی کو منعکس اور موڑتے ہیں، تو چاند کے دونوں طرف روشن دھبے بن جاتے ہیں۔
یہ دھبے اور روشنی کا انعکاس ایسا منظر تخلیق کرتے ہیں کہ آسمان پر ایک سے زیادہ چاند دکھائی دیتے ہیں، اور لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے جیسے چار چاند چمک رہے ہوں۔ یہ مظہر نایاب ضرور ہے، مگر قدرتی ہے اور موسمی حالات کی وجہ سے ہوتا ہے۔