غزہ: اسرائیلی فضائی حملوں نے ایک اور دن فلسطینیوں کی جان لے لی۔ 24 گھنٹوں کے دوران مزید تین فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، اور اس طرح غزہ میں انسانی تباہی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
دوسری جانب، غزہ کی رفاہ کراسنگ کو شہریوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اس وقت کئی فلسطینی رفاہ کراسنگ پر جمع ہو گئے ہیں، جبکہ مصر کی طرف سے ایمبولینسز اور امدادی سامان غزہ بھیجا جا رہا ہے۔
غزہ کے شہریوں کے لیے روزانہ 150 افراد کو سرحد پار کرنے کی اجازت دی جائے گی، لیکن یہ اجازت صرف اُن افراد کو ملے گی جنہیں بیرون ملک علاج کی فوری ضرورت ہے، اور ان میں سے صرف 5 مریضوں کو ہی جانے کی اجازت دی جائے گی۔ رفاہ بارڈر کی بندش کی وجہ سے، ادویات کی کمی اور علاج کے منتظر 1,268 فلسطینی اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
ایک اور تشویشناک خبر یہ ہے کہ اسرائیل نے عالمی امدادی تنظیم "ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز" کو غزہ میں اپنے طبی عملے کے کام کرنے سے روک دیا ہے، جس سے غزہ میں صحت کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔
غزہ کے حالات نے عالمی برادری کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے، اور اب وقت آ چکا ہے کہ انسانی حقوق اور بحران کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔