آدمی کو کبھی کبھی اقبالؒ کے اس شعر کی تفسیر بھی بن جانا چاہیے:
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
یہی سوچ کر آج ایک ایسے موضوع پر لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو معمول سے ہٹ کر ہے اور دماغ کی بجائے دل کے زیادہ قریب ہے ورنہ بالعموم ان سطور میں ان موضوعات پر خامہ فرسائی کی جاتی ہے جو دماغ کے زیادہ قریب ہوں۔ اس وقت بھی بہت سے ایسے موضوعات نظر کے سامنے ہیں جن پر عقل اپنے گھوڑے دوڑا رہی ہے لیکن دل آج عقل سے فاصلہ اختیار کرنے کا تمنائی ہے سو آج بات ہو گی طارق کامران کی جیون کہانی پر۔
طارق کامران کون ہے۔ یقینا آپ کے ذہن میں پہلا سوال یہی پیدا ہوا ہو گا۔ اس سوال کے جواب کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ نے بابائے اردو مولوی عبدالحق کا مضمون "گدڑی کا لال نور خان" پڑھ رکھا ہو۔ خیر اب آپ بابائے اردو کا وہ مضمون کہاں ڈھونڈتے پھریں گے اور آج کی تحریر کا حجم بھی مولوی عبدالحق کے مضمون کا خلاصہ بتانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے مختصراً عرض ہے کہ گدڑی کے لال نورخان کی طرح طارق کامران بھی ایک گمنام سی شخصیت ہے۔
طارق کامران گمنام ضرور ہے لیکن بے نام بالکل نہیں بلکہ صحافتی اور ادبی حلقوں میں تو اس کا اچھا خاصا نام ہے اور اب اس کی زندگی کی پہلی کتاب "جیون کہانی" منصہ شہود پر آنے کے بعد یہ نام اور بھی زیادہ جانا پہچانا جانے لگا ہے۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ گدڑی کے لال نور خان کی طرح "نور" طارق کامران کے نام کا بھی حصہ ہے کہ اس کے والد مرحوم کا نام نور محمد خان تھا۔ طارق کامران کے قریبی دوست اسے طارق نور ہی کے نام سے جانتے ہیں لیکن اس نے اپنی ادبی شناخت طارق کامران بنا رکھی ہے۔ اکثر دوست سمجھتے ہیں کہ شاعر اور ادیب ہونے کے ناتے کامران شاید طارق نور کا تخلص ہے لیکن طارق کامران کا کہنا ہے کہ پیدائش کے وقت اس کے ماموں نے اس کا نام طارق جبکہ والد نے کامران تجویز کیا۔ یوں
اس نے دونوں نام اپنی شناخت کا حصہ بنا لیے۔
طارق کامران کی کتاب جیون کہانی گزشتہ سال دسمبر میں شائع ہوئی تھی اور رواں سال کے پہلے ہفتے لاہور پریس کلب میں اس کی شاندار تقریب پذیرائی منعقد ہوئی۔ سینئر صحافی امجد عثمانی کی قیادت میں لاہور پریس کلب کی آرٹ کلچر اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کی میزبانی میں ہونے والی اس پروقار تقریب کی نظامت کا اعزاز راقم الحروف کو حاصل ہوا۔ ارادہ تو اسی وقت اس خوبصورت کتاب پر ایک خصوصی تحریر لکھنے کا تھا لیکن اس وقت سے اب تک پے در پے قومی منظر نامے پر بڑے بڑے واقعات رونما ہونے کا سلسلہ جاری رہا اور طارق کامران کی جیون کہانی کے حوالے سے خیالات کو قلمبند کرنے کا عمل التوا کا شکار ہوتا رہا۔ واقعات کے رونما ہونے کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے لیکن طارق کامران کی جیون کہانی پر لکھنا اب مزید موخر نہیں کیا جا سکتا۔
طارق کامران کی جیون کہانی مکالمے کے انداز میں لکھی گئی کتاب ہے۔ یہ مکالمہ نامور صحافی اور ادیب میم سین بٹ کے ساتھ ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ کتاب میم سین بٹ کی تحریر ہے جس میں انھوں نے طارق کامران کی زندگی کی کہانی اسی کی زبانی بیان کی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کتاب ایک سوانحی انٹرویو ہے جس میں طارق کامران کی پیدائش سے لے کر کتاب کی اشاعت تک کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ کتاب ہے جس میں طارق کامران کی شخصیت کے ذاتی، سماجی، فکری اور پیشہ ورانہ پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ صحافتی اور ادبی حلقوں کے مشاہیر کے ساتھ اس کے تعلق کو بہت خوبصورتی اور سلاست کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
بظاہر تو یہ کتاب طارق کامران کی زندگی سے متعلق ہے لیکن اس میں ہمارے عہد کی ایک بھرپور جھلک بھی ملتی ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ طارق کامران کی جیون کہانی اس ملک اور سماج میں رونما ہونے والی سیاسی، تہذیبی، ثقافتی اور اخلاقی تبدیلیوں کی ایک منہ بولتی تصویر ہے۔ سہل اور رواں زبان میں لکھی گئی یہ ایک نہایت اہم کتاب ہے جس کا مطالعہ پڑھنے والوں کو بہت فائدہ دے سکتا ہے۔
طارق کامران بہت خوش قسمت ہے کہ اس کی کتاب کی تقریب رونمائی میں دوستوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اظہار خیال کرنے والے بیشتر افراد نے اس کتاب کو پڑھ بھی رکھا تھا ورنہ عام طور پر کتابوں کی رونمائی کی تقریبات میں یہ دیکھا گیا ہے گفتگو کرنے والے ڈائس پر آتے ہی اس قسم کا کوئی جملہ داغ دیتے ہیں کہ میں نے کتاب پڑھی تو نہیں لیکن مصنف کی شخصیت کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کتاب اچھی ہی ہو گی۔ طارق کامران کی کتاب پر بات کرنے والے تمام افراد نے کتاب کے مندرجات پر بات کی جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ انھوں نے کتاب پڑھ رکھی ہے۔
طارق کامران کی جیون کہانی کے فلیپ نامور ادیب اور مزاح نگار عطاء الحق قاسمی اور ممتاز شاعرہ، افسانہ نگار اور حلقہ ارباب ذوق لاہور کی موجودہ سیکریٹری شاذیہ مفتی نے تحریر کیے ہیں۔ شاذیہ مفتی کتاب کی تقریب رونمائی میں بطور مہمان خصوصی بھی موجود تھیں۔ تقریب پذیرائی کی صدارت معروف صحافی شیخ آفتاب حنیف نے کی جبکہ ڈاکٹر امجد طفیل، عامر فراز، اشرف سہیل بھی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ کتاب پر گفتگو کرنے والوں میں علی اصغر عباس، ممتاز راشد لاہوری، آفتاب خان، سعید اختر، ساجد یزدانی، خواجہ آفتاب حسن، تمثیلہ چشتی، فاطمہ غزل، قمربھٹی، ماجد یزدانی اور طارق کامران کے بھائی راؤ ندیم نور بھی شامل تھے۔ سامعین میں علامہ صدیق اظہر، شہزاد فراموش، سہیل شفیق بٹ، نوید اسلم، شبیر صادق، نواز طاہر اور نفیس قادری سمیت صحافتی برادری کے سرکردہ افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔
کتاب کی تقریب رونمائی میں طارق کامران کی شخصیت کے حوالے سے بہت دلچسپ جملے بھی سننے کو ملے۔ ایک مقرر نے کہا کہ میم سین بٹ نے طارق کامران کو صاحب کتاب بنا دیا۔ اگر یہ کتاب طارق کامران کو خود لکھنا پڑتی تو کبھی منظر عام پر نہ آ سکتی۔ بعد میں آنے والے ایک مقرر نے اس جملے کا یوں جواب دیا کہ اس قسم کی باتیں طارق کامران کو خود لکھنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔ طارق کامران کبھی خود بھی کچھ لکھے گا یا نہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن دعا یہی ہے کہ وہ اسی طرح محفلوں کی رونق بنا رہے اور دوست احباب اس پر ہلکے پھلکے جملے کس کر اپنی اور اس کی خوشی کا سامان کرتے رہیں۔
طارق کامران کی جیون کہانی
09:08 AM, 3 Feb, 2026