ایڈرین فونٹانیلاز کی شہرہ آفاق ’’آپریشن سندور‘‘

09:07 AM, 3 Feb, 2026

مئی 2025 میں لڑی جانے والی پاک بھارت جنگ کے بعد سوئٹزرلینڈ کے عالمی شہرت یافتہ صحافی اور مختلف جنگوں پر لکھی گئی 20 کتب کے مصنف ایڈرین فونٹانیلاز نے بھارتی "آپریشن سندور" سے متعلق انگریزی زبان میں ایک شاندار , جامع اور تحقیقی کتاب لکھی ہے. مصنف ایڈرین فونٹانیلاز کی جانب سے اس جامع کتاب کا انگریزی میں تفصیلی تنقیدی جائزہ کرنے کے لئے مجھے کہا گیا جو کہ میرے لیے ایک اعزاز ہے۔ ایڈرین کی اسی شہرہ آفاق تصنیف "آپریشن سندور" کا انگریزی میں ریویو کرنے کے بعد اردو میں تنقیدی جائزہ قارئین کی دلچسپی کیلیے حاضر ہے۔
’’آپریشن سندور‘‘ جدید عسکری تاریخ اور تذویراتی مطالعات میں نہایت سنجیدہ، تحقیقی اور فکری اضافہ ہے۔ ایڈرین جو عسکری تاریخ , جنگی مطالعات, علمی گہرائی, تحقیق اور بے لاگ تبصروں کیلیے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں اس کتاب میں ایک پیچیدہ فوجی کارروائی کو نہ صرف عملی عسکری زاویے سے بلکہ اس کے سیاسی، سفارتی اور تذویراتی مضمرات کے تناظر میں بھی پرکھتے ہیں۔ انکی کتاب "آپریشن سندور" محض ایک فوجی آپریشن کی روداد ہی نہیں بلکہ یہ اس سوال کا تفصیلی جواب بھی فراہم کرتی ہے کہ جدید دور میں طاقت کے استعمال کے نتائج میدانِ جنگ سے کہیں آگے کیوں اور کیسے پھیلتے ہیں۔
کتاب " آپریشن سندور" کا بنیادی محور جنگی منصوبہ بندی، عملدرآمد اور نتائج کا وہ باہم مربوط سلسلہ ہے جو کسی بھی فوجی کارروائی کو جنم دیتا ہے۔ ایڈرین فونٹانیلاز آپریشن سندور کو کسی الگ تھلگ واقعے کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اسے خطے میں موجود جغرافیائی سیاست، ریاستی مفادات، سکیورٹی خدشات اور ادارہ جاتی فیصلوں کے تسلسل کا منطقی نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ عسکری کارروائیاں اکثر اچانک نہیں ہوتیں بلکہ طویل سیاسی تناؤ، انٹیلیجنس اندازوں اور ریاستی بیانیوں کے زیرِ اثر پروان چڑھتی ہیں۔ یہی سیاق و سباق اس کتاب کی سب سے بڑی فکری طاقت ہے۔
جنگ جیسے انتہائی سنجیدہ موضوع پر لکھی گئی ایڈرین فونٹانیلاز کی کتاب " آپریشن سندور" کا اسلوب علمی اور تحقیقی ہونے کے باوجود خشک نہیں ہے۔ ایڈرین اپنی اس کتاب کے قاری کو آپریشن کے مختلف مراحل… ابتدائی منصوبہ بندی، فوجی نقل و حرکت، عملی ٹکرائو اور بعد از کارروائی صورتِ حال میں نہایت مہارت سے لے کر چلتے ہیں۔ کتاب "آپریشن سندور" میں عسکری یونٹس کی تعیناتی، کمانڈ 
اینڈ کنٹرول کے فیصلے، لاجسٹکس اور بین الادارہ جاتی ہم آہنگی جیسے عناصر کو نہایت وضاحت سے اس انداز میں بیان کیا ہے کہ غیر عسکری پس منظر رکھنے والا قاری بھی متن سے کٹنے نہیں پاتا۔ ایڈرین کا کمال یہ ہے کہ وہ تکنیکی تفصیل اور بیانیہ روانی کے مابین متوازن حد قائم رکھتے ہیں۔
کتاب "آپریشن سندور" کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا متوازن , معروضی اور غیر جذباتی تجزیہ ہے۔ ایڈرین فونٹانیلاز فتح اور ناکامی کو مطلق انداز میں پیش کرتے ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے خلاف عسکری اہداف حاصل نہیں کیے گئے، ساتھ ہی وہ یہ سوال بھی بارہا اٹھاتے ہیں کہ کیا آپریشن سندور کے دوران بھارتی عسکری کارروائیوں نے طویل المدتی سیاسی و عسکری مقاصد کو حاصل کیا؟ انکا واضح جواب ہے! قطعی نہیں۔ کتاب اس نکتے پر زور دیتی ہے کہ آج کی جنگوں میں محض عسکری کامیابی ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ کسی بھی ملک کی سیاسی پیغام رسانی، علاقائی ردِعمل، سفارتی اثرات اور کشیدگی پر قابو پانے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔
ایڈرین اپنی کتاب میں پاک بھارت جنگ سے قبل بھارتی انٹیلیجنس معلومات اور ان میں موجود خامیوں کا گہرا تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ جدید اور بظاہر مضبوط انٹیلیجنس نظام بھی ادارہ جاتی جمود، تصدیقی تعصب اور سیاسی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بھارتی آپریشن سندور کی پاکستان کے خلاف مکمل ناکامی کی بڑی وجہ پاکستانی عسکری قیادت, فضائی قوت اور مہارت سے متعلق بھارتی انٹیلیجنس کی مکمل لاعلمی تھی ایڈرین آپریشن سندور کی ناکامی کے ذمہ دار مختلف افراد پر الزام تراشی کی بجائے آپریشن سندور کی نظامی اور پیشہ ورانہ کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں جس سے کتاب محض تنقید نہیں بلکہ اصلاحی سوچ کی جانب بھی رہنمائی کرتی ہے۔ یہی پہلو اس کتاب کو محض ایک تاریخی اور عسکری دستاویز کے علاوہ مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے بھی مفید بناتا ہے۔
تنقیدی اعتبار سے دیکھا جائے تو بعض مواقع پر کتاب کی عسکری تفصیل غیر ماہر عام قاری کے لیے قدرے بھاری محسوس ہو سکتی ہے۔ بعض ٹیکٹیکل ابواب میں حد سے زیادہ باریک بینی بیانیہ کی رفتار کو ذرا سست کر دیتی ہے۔ تاہم عسکری تاریخ کے سنجیدہ قارئین کے لیے یہی تفصیل کتاب کی اصل جزیاتی طاقت بھی ہے۔ میرے نزدیک یہ خامی کم اور تحقیقی سنجیدگی کی علامت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
کتاب کا ایک اور قابلِ تحسین پہلو یہ ہے کہ ایڈرین فونٹانیلاز نے جنگ کے کسی بھی فریق کو سادہ یا یک رخی انداز میں پیش نہیں کیا۔ کتاب کے گہرے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپریشن سندور سے متعلق بھارتی سیاسی قیادت، عسکری کمانڈرز, ریاستی ادارے اور فیصلہ ساز شدید ذہنی دباؤ، غیر یقینی حالات اور محدود معلومات کے تحت فیصلے کرتے رہے ہیں۔ ایڈرین کتاب میں اخلاقی خطابت یا جذباتی انداز سے گریز کرتے ہیں اور حقائق، دستاویزات اور نتائج کو خود بولنے دیتے ہیں۔ یہی غیر جانب دارانہ اسلوب کتاب کو صحافیوں، محققین, عسکری ماہرین اور پالیسی تجزیہ کاروں کے لیے ایک معتبر حوالہ بناتا ہے۔ " آپریشن سندور" محض ایک مخصوص فوجی کارروائی کا مطالعہ ہی نہیں بلکہ یہ محدود مگر انتہائی خوفناک جنگ اور بحران کے نظم و نسق سے متعلق عالمی مباحث میں بھی اہم اضافہ ہے۔
کتاب نہایت سنجیدہ مگر غیر اعلانیہ انداز میں متعدد بنیادی سوالات اٹھاتی ہے: اس سے پہلے کہ تصادم بے قابو ہو جائے ریاستیں طاقت کا استعمال کس حد تک کر سکتی ہیں؟ کیا عسکری کارروائیاں میڈیا کے اس تیز رفتار دور میں سیاسی مقاصد حاصل کر سکتی ہیں؟ اور جب کوئی آپریشن عسکری طور پر کامیاب مگر سیاسی طور پر مبہم ثابت ہو تو ذمہ داری کا تعین کیسے کیا جائے؟ یہ سوالات قاری کے ذہن میں دیر تک گونجتے رہتے ہیں۔
اسلوبی اعتبار سے کتاب کی زبان نپی تلی، واضح اور باوقار ہے۔ اگرچہ یہ تحریر ادبی رنگ لیے ہوئے نہیں مگر اس کی فکری شفافیت اور منطقی ترتیب اسے سنجیدہ غیر افسانوی ادب کا بہترین نمونہ بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب پاکستان کے خلاف بھارتی آپریشن سندور کی مکمل ناکامی پر کیس سٹڈی کے طور جامعات کے نصابوں, عسکری اور پالیسی مباحث کیلیے نہایت موزوں ہے۔
مجموعی طور پر ایڈرین فونٹانیلاز کی کتاب ’’آپریشن سندور‘‘ جدید عسکری تاریخ اور تذویراتی مطالعات میں ایک بامعنی اور قابلِ قدر اضافہ ہے۔ ایڈرین نے ایک ایسی کتاب تحریر کی ہے جو نہ تو اندھی تحسین پر مبنی ہے اور نہ ہی غیر ضروری تنقید پر۔ یہ تفصیلی بھی ہے، مگر ابہام بھی پیدا نہیں کرتی؛ یہ تنقیدی بھی ہے، مگر بدظن بھی نہیں کرتی؛ اور یہ تجزیاتی بھی ہے، مگر عسکری اور سیاسی اثرات سے غافل بھی نہیں۔ یہ کتاب قاری سے توجہ اور سنجیدگی کا تقاضا ضرور کرتی ہے، مگر بدلے میں اسے بصیرت، توازن اور فکری دیانت عطا کرتی ہے۔ جو قارئین یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ جدید فوجی آپریشنز کیسے انجام پاتے ہیں اور وہ اکثر واضح مطلوبہ نتائج کیوں حاصل نہیں کر پاتے، ان کے لیے "آپریشن سندور" ایک نہایت اہم اور بروقت مطالعہ ہے۔

مزیدخبریں