بلوچستان میں دہشت گردی کی تازہ ترین لہر …!

09:06 AM, 3 Feb, 2026

یوں تو بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے خوارج کی دہشت گردی کی کارروائیاں کب سے جاری چلی آ رہی ہیں لیکن اختتامِ ہفتہ انہوں نے بلوچستان میں تیرہ مقامات پر دہشت گردی کی جو کارروائیاں کی ہیں اس کی شاید ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ بلا شبہ یہ ملک و قوم کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہی نہیں بلکہ انتہائی تشویشناک اور خطرناک معاملہ ہے کہ دہشت گرد اپنی کارروائیوں کے لئے اس طرح کھل کھیلیں اور انہیں کسی طرح کا ڈر اور خوف نہ ہو۔ اس صورتحال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد اپنی کارروائیوں کے لیے بڑی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور جوں ہی انہیں کوئی موقع ملتا ہے وہ اپنے وار کر گزرتے ہیں۔ دہشت گردی کی کارروائیوں کا تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ دہشت گرد جہاں قومی سلامتی ، ملکی دفاع اور امن و امان کے ذمہ دار اداروں سے متعلقہ افراد کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں وہاں معصوم اور بے گناہ شہری بھی اُن کے غضب کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ انفراسٹرکچر اور سرکاری اور نجی املاک کا نقصان بھی سامنے آتا رہتا ہے۔ بلوچستان میں یہ سلسلہ جیسے اُوپر لکھا گیا ہے کئی سال سے جاری اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) جیسے باغی گروپ اس میں سرگرمِ عمل چلے آ رہے ہیں۔انہیں افغانستان سمیت بھارت جیسے پاکستان دشمن ملک کی بھرپور حمایت ، تعاون اور مدد حاصل ہے۔ بھارت کی طرف سے بلوچستان میں دہشت گردی کے لئے وسیع پیمانے پر سرمائے کا استعمال کوئی ڈھکی چھُپی بات نہیں ہے ۔ اسی طرح افغانستان میں خفیہ ٹھکانوں میں دہشت گردی کی تربیت اور افزائش ایسے عوامل ہیں جو بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو تیز کرنے میں پوری طرح ممد و معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کے حکومتی ذمہ داران اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے ان سارے عوامل سے پوری طرح باخبر ہیں۔ وہ بھرپور انداز میں ان باغی گروپوں کی دہشت گردی کی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ پولیس ہو یا سول آرمڈ فورسز کے ادارے ہوں یا مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے جانباز ہوں ان سب کی قربانیاں اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ حکومت دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنے میں پوری طرح سنجیدہ اور سرگرمِ عمل ہے لیکن یہ حقیقت بہر کیف اپنی جگہ موجود ہے کہ حکومت اور مسلح افواج کی طر ف سے دہشت گردی کے خلاف اتنا کچھ کرنے کے باوجود اسے جڑ سے اُکھاڑنے میں کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ اللہ کرے اداروں کو دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑنے میں کامیابی ملے اور ملک و قوم اس نا سُور سے نجات پا سکیں۔ 
جہاں تک اختتامِ ہفتہ بلوچستان میں 13 مقامات پر دہشت گردی کی کاروائیوں کا تعلق ہے بلا شبہ سکیورٹی فورسز نے اس کا بھرپو رجواب دیا۔ سکیورٹی فورسز کے جوابی آپریشن میں 172 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں جن کی لاشیں بلوچستان حکومت کی تحویل میں ہیںتاہم 17 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 14 معصوم شہری بھی دہشت گردوں کا نشانہ بنے ہیں۔ اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال ہو رہی ہے۔ ہمارے پاس دہشت گرد حملے کی رپورٹ موجود تھی اور ہم نے ایک دن پہلے آپریشن شروع کیا جس کے نتیجے میں اتنی بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اُن کا کہنا ہے کہ بشیر زیب، رحمان گل اور اللہ نظر جیسے دہشت گرد کمانڈر افغانستان میں موجود ہیں۔ یہ لوگ ہندوستان کی ایما پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں لیکن ہم ایک سیکنڈ کے لئے سرنڈر کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہم ایک ہزار سال تک ان کے خلاف جنگ لڑیں گے ۔ ہمارا خون سستا نہیں ہے ، ہم انہیں جانے نہیں دیں گے اور بلوچستان کو ان کے لئے جہنم بنا دیں گے۔ میر سرفراز بگٹی کا مزید کہنا ہے کہ BLA کوئی رجسٹرڈ جماعت نہیں ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں۔ یہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ جنگ اور تشدد کو محرومی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جو انتہائی افسوس ناک صورتحال ہے اور اس میں بعض حلقے انتہائی مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔ 
بلوچستان میں دہشت گردی کے ان واقعات کے حوالے سے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی سیالکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔ اُن کا یہ کہنا بڑی حد تک درست ہے کہ مسنگ پرسن ٹوٹل فراڈ ہے۔ زیادہ تر لاپتہ افراد کا تعلق BLAسے ثابت ہوتا ہے۔جب دہشت گرد مارے جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کا نام لاپتہ افراد میں شامل ہے ۔جبکہ ان کے لواحقین لاپتہ افراد کا الائونس بھی لے رہے ہوتے ہیں۔ دُکھ کی بات ہے کہ دہشت گرد خواتین اور بچوں کو بطورِ ڈھال ہی استعمال نہیں کرتے بلکہ انہیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں باقاعدہ استعمال بھی کرنے لگے ہیں ۔ دہشت گردی کے حالیہ حملوں میں دو جگہ خواتین کو استعمال کیا گیا ۔ جو لوگ گرفتار کیے گئے ہیں ان کے انکشافات سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہے اور BLA ایک فارن فنڈڈ دہشت گرد تنظیم ہے جس کے سہولت کار صوبے میں موجود ہیں اور یہ انسانی حقوق کی آڑ میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے منفی پراپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو بھی بے نقاب کر کے کیفرِ کردار تک پہنچانا بہت ضروری ہے۔ 
بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی ہوں یا وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف ہوں اُن کے بیانات اپنی جگہ پر بڑے اہم ہیں لیکن یہ سوال بہر کیف اپنی جگہ موجود ہے کہ بلوچستان میں کم از کم 13 مقامات پر دہشت گرد اپنی کارروائیاں کرنے میں کیونکر کامیاب ہوئے۔ ذاتی طور پر مجھے وزیرِ دفاع کے اس بیان سے بڑی حد تک اتفاق ہے کہ مسنگ پرسن کا معاملہ ایک شوشہ اور فراڈ ہے۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ اس سوشے کو پھیلانے میں اور مستحکم کرنے میں جناب حامد میر جیسے بعض میڈیا پرسنز کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔ وہ اس بات کی تشہیر تو کرتے ہیں کہ مسنگ پرسنز ایک انسانی المیہ ہے لیکن اس کے ساتھ یہ نہیں بتاتے کے نام نہاد مسنگ پرسنز کس طرح ملک دُشمن کارروائیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ ملک سے غداری اور ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی تو کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے ظاہر ہے اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اُسے اس کا خمازہ بھی بھگتنا ہوتا ہے۔ 
نوٹ:۔برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم ومغفور کے حوالے سے یادوں اور باتوں کے سلسلے کے کالم فی الحال موقوف ہیں۔ ان شاء اللہ جلد ہی اس سلسلے کو دوبارہ شروع کیا جائے گا کہ بہت سارے مہربانوں، کرم فرمائوں، عزیزوں ، دوستوں اور محسنوں کے اصرار کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے۔

مزیدخبریں