پنجابی ادب کا عظیم شاعر استاد دامن کو مداحوں سے بچھڑے 37 برس بیت گئے

02:11 PM, 3 Dec, 2025

لاہور : آج سے 37 برس پہلے، 3 دسمبر 1984ء کو پنجابی ادب کا عظیم شاعر استاد دامن ہم سے جدا ہو گیا، مگر ان کی شاعری اور خیالات آج بھی زندہ ہیں۔ استاد دامن کو "مزدوروں، کسانوں، غریبوں اور مظلوموں کا شاعر" کہا جاتا تھا، کیونکہ انہوں نے ہمیشہ پسے ہوئے طبقات کی آواز بن کر ان کے حقوق کی بات کی۔

استاد دامن کا اصل نام چراغ دین تھا، اور ان کی شاعری میں سادگی، بے نیازی اور جراتِ اظہار کی جھلک تھی۔ وہ نہ صرف پنجابی، بلکہ فارسی، سنسکرت، عربی اور اردو زبانوں کے بھی ماہر تھے، اور عالمی ادب پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ ان کا ایک الگ ہی انداز تھا، وہ چھوٹے سے کمرے میں کتابوں کے درمیان زندگی گزارتے تھے، اور ان کی جرات اور حق گوئی نے انہیں ایک خاص مقام دیا۔

استاد دامن نے ہمیشہ سچائی اور حق کا ساتھ دیا، اور ان کی شاعری میں جبر، ناانصافی اور ظلم کے خلاف واضح پیغام تھا۔ فیض احمد فیض اور احمد فراز کی طرح، وہ بھی عوامی مسائل اور طبقاتی جدوجہد کو اپنے کلام کا حصہ بناتے تھے۔ ان کا کلام عوام میں شعور پیدا کرنے کا ذریعہ بنا، اور اس نے لوگوں کو اپنی آواز بلند کرنے کی ہمت دی۔

استاد دامن کا لاہور کے ایک معمولی خیاط کے خاندان سے تعلق تھا۔ انہوں نے خیاطی کا کام اپنے والد سے سیکھا اور اس میں مہارت حاصل کی، لیکن پھر شاعری کی دنیا میں قدم رکھا اور اپنے کلام سے پنجابی ادب کی دنیا کو روشنی دی۔ ان کا سادہ انداز زندگی اور ان کی بے لگان جدو جہد آج بھی ایک تحریک کی صورت میں زندہ ہے۔

استاد دامن 3 دسمبر 1984ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور انہیں مادھولال حسین کے مزار کے قریب دفن کیا گیا۔ ان کی شاعری کا پیغام آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے، اور وہ ہمیشہ پنجابی ادب کے عظیم ترین شاعروں میں شمار کیے جاتے رہیں گے۔

مزیدخبریں