غزہ کے جبری معذور عالمی توجہ کے طالب

09:11 AM, 3 Dec, 2025

اسرائیلی فوج کی فائر نگ سے غزہ کا پندرہ سالہ نوجوان مصطفیٰ ابو طالب زندگی بھر کے لیئے معذور ہوچکا ہے۔ گولی اس کے سینے کو چیرتی ہوئی ریڑھ کی ہڈی کے ساتویں مہرے تک پہنچی جس سے اس کی ریڑھ کی ہڈی، پھیپھڑوں اور اندرونی اعصاب کو نقصان پہنچا۔ مصطفیٰ اپنے جسم کو حرکت نہیں دے سکتا۔ وہ شدید تکلیف میں ہے ڈاکٹر اس کی تکلیف دور کرنے میں ناکام ہیں۔ ڈاکٹروںکے مطابق مصطفیٰ کو علاج کے لیئے فوری طور پر بیرونِ ملک بھیجنے کی ضرورت ہے۔ اس کے اہلِ خانہ اور ڈاکٹروں نے عالمی برادری سے اسے بیرون ملک بھیجنے کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے آٹھ سالہ علی ابو صبحہ کی آنکھ میں گولی لگنے سے بائیں آنکھ کی بینائی مکمل طور پر ختم جبکہ دائیں آنکھ بھی ناکارہ ہونے کا خدشہ ہے ۔ڈاکٹروں کے مطابق علی کی بینائی بچانے کے لیے فوری طور پر خصوصی تشخیص،ادویات اور علاج کی ضرورت ہے بصورت دیگر علی مکمل طور پر نابینا ہو سکتا ہے۔غزہ کے ایک اور معصوم رجب کی عمر آٹھ برس سے زیادہ نہیں مگر اس کے جسم پر ظلم و درندگی کی کہانی نقش ہے۔ ایک ٹانگ کٹی ہوئی‘ جسم پر جگہ جگہ زخم اور ہڈیوں میں شدید تکلیف ہے۔ سائیکل چلانے کے شوقین اس بچے کے پاس صرف آنسو ہیں۔ وہ بار بار اپنی ماں سے چیخ کر کہتا ہے’’میری ٹانگ ڈھانپ دو،میں اسے دیکھنا نہیں چاہتا‘‘۔یہ بچے ان ہزاروں بچوں میں شامل ہیں جنہیں اسرائیل نے ان کے اعضا سے محروم کر دیا ہے۔ انہیںمصنوعی اعضا میسر نہیں،نہ وہیل چیئر اور نہ ہی علاج معالجے کی سہولت ملنے کا کوئی امکان نظر آ رہا ہے۔غزہ پر اسرائیل کی دو سال سے جاری  وحشت ناک بمباری سے اب تک تقریباً اکیس ہزار بچے اور اس سے کہیں بڑی تعداد میں جوان معذور ہوچکے ہیں۔انہیں فزیو تھراپی میسر ہے نہ ان کا بیرون ملک علاج ممکن ہے۔
انسانی حقوق کے عالمی ادارے اقوامِ متحدہ کے مطابق اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ معذور افراد غزہ میں ہیں۔ فلسطین کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیل کی بمباری سے غزہ کے ہزاروں باشندے مختلف اعضا سے محروم ہو چکے یا ریڑھ کی ہڈی اور دماغی چوٹوں کا شکار ہیں۔ ان میں نصف سے زائد بچے اور نوجوان ہیں۔ طبی سہولتوں کی کمی کے باعث ڈاکٹر ان کی جان بچانے کے لیے ان کے مختلف اعضا کاٹنے پر مجبور ہیں۔ قابض اسرائیل نے ہسپتال اور بحالی مراکز بھی ملبے میں بدل دیئے ہیں ۔غزہ کا سب سے بڑا الشِفا ہسپتال کھنڈربن چکا ہے۔لوفاء اور الامل ہسپتال بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں۔ مجمع الشفاء کے ہڈیوں کے وارڈ ملبہ بن چکے ہیں۔جو ہسپتال بچے ہیں ان میں مصنوعی اعضا ،ماہر سرجنز کی کمی اور بنیادی سہولتیںبھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے اسپتال کے لیے ضروری سامان کے داخلے پر پابندی کے باعث بلدیہ غزہ کے مصنوعی اعضا کامرکز بھی بندہے۔اس بدترین محاصرے کے باعث بچوں سمیت ہزاروں معذور افراد علاج سے محروم ہیں۔ ان کی جسمانی اذیت کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور سماجی مصائب بھی بڑھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے معذوراں کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے شہریوں کو جبری انخلا پر مجبور کیا جا رہا ہے۔غزہ کے معذور شہری انخلا کے دوران زمین پر گھسیٹتے ہوئے بھی دیکھے گئے ہیں ۔ وہ ریت اور گارے کے اوپر سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کے راستوں میں رکاوٹیںہیں ۔ بھوک اور قحط کے علاوہ ادویات کی شدید قلت سے بھی بہت سے بڑے اور بچے معذور ہو رہے ہیں۔ 83 فیصد معذور افراد وہیل چیئرز،واکرز اور اس طرح کے دیگر آلات سے محروم ہو چکے ہیں۔ انسانی زندگی کے لیئے ضروری امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں معذور افراد کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔معذوری کی وجہ سے انہیں خوراک،صاف پانی اور صفائی کی سہولیات تک رسائی مزید مشکل ہے ۔کمیٹی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ  غزہ کے معذور ں کی حفاظت کے لیے اقدامات اور دیگر بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کرے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں اس وقت چھ سو ملین افراد معذور ہیں۔معذور افراد کے مسائل اجاگر کرنے ،ا ن کے حقوق دلوانے‘ معاشرے میں ان کی اہمیت بتانے،انہیں دیگر افراد کے مساوی مواقع فراہم کرنے اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے منصوبہ سازی کرنے کے لیئے اقوام متحدہ نے1992ء میں 3دسمبر کو دنیا بھر میں معذور افراد کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا تھا۔اس وقت سے یہ دن ہر سال منایا جاتا ہے ۔جس میں دنیا بھر کے معذور افراد کے لیے خصوصی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ان کی شمولیت سے تقریبات اور مقابلے ہوتے ہیں۔انہیں انعامات دیئے جاتے ہیں۔ان کے بہتر مستقبل کے لیے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔
معذور افراد کے حوالے سے اس وقت سب سے زیادہ سنگین صورتحال غزہ کی ہے۔ معذور فلسطینیوں کو علاج اور سفر سے محروم رکھنا جنیوا کنونشنز اور معذور افراد کے حقوق کے عالمی معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔معذور افراد کے حقوق کا عالمی معاہدہ 2008ء میں منظور کردہ اقوام متحدہ کا ایک عالمی معاہدہ ہے جو معذور افراد کو معاشرے میں مساویانہ شرکت کی ضمانت دیتا ہے ۔عالمی ادارے معذور افراد کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں جو معذور افراد کے لیے حوصلہ افزا ہے لیکن اسلام نے آج سے چودہ سو سال قبل معذور افراد کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے ان کی نگہداشت کرنے ،تالیف قلب اور بحالی پروگرام، انہیں معاشی بوجھ سے آزاد رکھتے ہوئے ان کا معاشی تحفظ اورحسن سلوک کرنے، ہمدردانہ رویہ رکھنے، جزو معطل اور بوجھ بنے بغیر اسلامی معاشرے کا کارآمد کارکن اور بہترین شہری بنا دیا۔وہ بلا رکاوٹ معاشرے کے عام افراد کی طرح زندگی گزارنے کے قابل ہوگئے۔ اسلام نے معذور افراد کی نگہداشت کر کے انہیں معاشرے کے دیگر افراد کے برابر لا کھڑا کیا۔ان کے لیے تعلیم و تربیت فراہم کرنے کی تلقین کی ہے۔یہ تمام حقوق غزہ کے جبری بنائے گئے معذور مسلمانوں کو بھی ملنے چاہئے ۔

مزیدخبریں