دشمن سے خیرات کی طلب

09:09 AM, 3 Dec, 2025

پاکستان میں عمران خان کا دورِ اقتدار اگست 2018 میں شروع ہوا جب ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو عام انتخابات میں کامیابی دلوائی گئی یہ دور تقریباً ساڑھے تین سال پر محیط رہا اور اپریل 2022 میں تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا اس عرصے میں انہیں ان کے اپنے ہی دور کے پیدا کردہ کئی اہم چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا سب سے بڑی مشکلات میں معاشی بحران سرفہرست رہا جس میں روپے کی قدر میں نمایاں کمی، بلند مہنگائی کی شرح، بغیر کوئی ترقیاتی کام کیے قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ،اور تمام دوست ممالک سے تعلقات خراب کرنا شامل تھا معیشت کی سست روی اور آئی ایم ایف کے سخت پروگرام نے عام آدمی پر شدید دباؤ ڈالا اس کے علاوہ سیاسی محاذ پر حکومت کو اپوزیشن کے ہومیوپیتھک ردعمل اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کے اتار چڑھاؤ کا اور اپنی حکومت کے انویسٹرز اور غیر سیاسی افراد کی کرپشن اور من مانیوں کا سامنا رہا جس سے سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہوا اور حکومتی کارکردگی صفر ہوگئی لیکن مجموعی طور پر عمران خان کے دورِ اقتدار کو شدید ترین معاشی بدحالی ،کرپشن، مہنگائی، لاقانونیت اور گہری سیاسی پولرائزیشن کے لیے یاد رکھا جائے گا اس دور کو اگر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دور کہہ لیا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا جس نے ملک کے لیے ایک مشکل راستہ ہموار کیا۔
سابق وزیر اعظم کی بہن نورین خان کی انڈین میڈیا سے گفتگو نے پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے یہ گفتگو بنیادی طور پر ان خاندانوں کی آواز بن کر سامنے آئی جن کو یہ لگتا ہے کہ انہیں موجودہ حکومت کی طرف سے سیاسی 
انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے نورین خان نے اپنی گفتگو میں کھل کر اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کو جس طرح کے سیاسی اور قانونی چیلنجز کا سامنا ہے وہ صرف پاکستان کے اندرونی معاملات ہی نہیں بلکہ علاقائی سطح پر بھی تشویش کا باعث ہیں۔
نورین نیازی کی بیک وقت انڈیا کے پانچ چھ چینلز سے بات چیت یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ خود یہ سارا انتظام نہیں کر سکتیں بلکہ یہ سار ا انتظام پی ٹی آئی کی طرف سے کیے گئے ہیں ان کا تو بس نہیں چلتا ورنہ یہ لوگ ریاست پر عمران خان کو ہر طرح سے ترجیح دیتے حالانکہ نورین نیازی کے لیے پاکستانی میڈیا چینلز حاضر تھے وہ جس چینل یا اخبار سے رابطہ کرتیں وہ یقینا انہیں اپنے پروگرام میں بلا کر موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا لیکن ان کے انڈین میڈیا چینلز کو انٹرویو نے بہت سے شکوک و شباہت کو جنم دیا ہے اب آپ خود سوچیں کہ انڈین میڈیا یا انڈین حکومت پاکستان کے داخلی معاملات میں کیا مداخلت کر سکتی ہے جتنا پاکستان نے مودی اور ہندوستان کو ذلیل و خوار کیا ہے میرا خیال ہے کہ اگر ان کے پاس اختیار بھی ہوتا تب بھی وہ پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے سے پہلے ہزار دفعہ سوچتے یہ ماننا پڑے گا کہ پی ٹی آئی نے بہت بڑا فاول کھیلا ہے اور اس کا خمیازہ اس کو مستقبل میں بھگتنا پڑے گا ۔
انڈین میڈیا پر یہ گفتگو ملک کے اندر اور بیرون ملک، اس تاثر کو تقویت دینے کی ایک ناکام کوشش رہی کہ پی ٹی آئی کا موقف ایک مظلوم سیاسی جماعت کا ہے جسے ایک بڑے کھیل کے تحت ہدف بنایا جا رہا ہے نورین خان کی اس آہ و زاری کے کیا مقاصد تھے ابھی تک شاید انہیں خود نہیں معلوم جس نے پاکستانی سیاسی مبصرین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا کہ یہ بیانیہ قومی مفاد میں ہے یا نہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے سیاسی بیانیے کو ایک نیا زاویہ ضرور دیا ہے۔
پاکستان کے سیاسی ماحول میں حریف جماعتوں کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف پر ایک مخصوص بیانیہ تواتر سے دہرایا جاتا رہا ہے کہ اسے ملک کے نظام کو مفلوج کرنے کی غرض سے بی جے پی سے مالی امداد حاصل ہے یہ الزام انتہائی سنسنی خیز اور نازک نوعیت کا ہے کیونکہ اگر کبھی اس کے شواہد مل گئے تو یہ پی ٹی آئی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ یہ بات بھی بہت جگہوں پر کہی جا رہی ہے کہ ہندوستان تحریک انصاف کو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر فنڈز فراہم کر رہا ہے تاکہ سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی بحران کو مزید تقویت دی جا سکے پی ٹی آئی ان دعوؤں کو ہمیشہ ایک تضحیک آمیز پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کرتی رہی ہے ۔ یہ مبینہ فنڈنگ کا معاملہ بنیادی طور پر ایک سیاسی ہتھیار بن چکا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان گہری سیاسی پولرائزیشن اور عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے بجائے اس کے کہ یہ کوئی مصدقہ حقیقت ہو۔ کسی بھی پاکستانی شہری بشمول نورین خان کی جانب سے غیر ملکی میڈیا بالخصوص انڈین میڈیا سے پاکستان کے داخلی معاملات پر گفتگو کرنا ملک کی سیاسی اور سفارتی حساسیت کے پیش نظر ایک نازک معاملہ ہے ریاستِ پاکستان کو اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے انتہائی متوازن اور قانونی طریقہ کار اپنانا چاہیے اگرچہ ایک شہری کو اپنی رائے کا حق ہے لیکن اگر گفتگو میں قومی مفادات یا ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچانے والا کوئی عنصر شامل ہو تو ریاست قانونی طور پر اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔

مزیدخبریں