عمران خان اور ان کی پی ٹی آئی کی حیثیت کے بارے میں حکومت/ریاست مخمصے کا شکار نظر آتی ہے۔ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کا رویہ ملک دشمن ہے۔ یہ انتشاری ٹولہ ہے، ویسے پی ٹی آئی کا طرز فکر و عمل اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ جماعت ریاست پاکستان/ملک پاکستان کے مفادات کے خلاف مصروف عمل ہے۔ عمران خان 2011ء سے مزاحمتی و انتشاری سیاست شروع کی تھی جو ہنوز جاری ہے۔ عمران خان 2018ء میں اقتدار حاصل کرنے سے پہلے اور 2022ء میں اقتدار چھن جانے کے بعد افتراق و انتشار کو ہوا دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو منفی سیاست پر لگا دیا۔ عمران خان کی اسی سیاست کے باعث 9مئی کا سانحہ ہوا جو کسی طور بھی قابل معافی نہیں ہے پھر عمران خان و ہمنوا دہشت گردی کے خلاف ریاست پاکستان کی پالیسی پر بھی متفق نہیں ہیں بلکہ اب تو وہ کھلے عام اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ عمران خان کی بہن کا بھارتی میڈیا پر جا کر پاکستان کے خلاف باتیں کرنا کیا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ تحریک انصاف و عمران خان منفی و ملک دشمن سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ ریاست یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے لیکن ریاست کا ری ایکشن ویسا نہیں ہے جیسا ہونا چاہئے، یہی وجہ ہے کہ عمران خان و ہمنوا دن بدن مملکت کے خلاف زیادہ سرعت و وسعت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، ویسے تو تحریک انتشار خود بھی افتراق و انتشار کا شکار ہے، اس کی سٹریٹ پاور تقریباً ختم ہو چکی ہے لیکن ان کی طاقت کا ایک مرکز کے پی تو موجود ہے، پارٹی بھی چلا رہا ہے اور حکومت کے خلاف اپنا بیانیہ بھی بڑھا رہا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ اسے ایسی تمام سہولیات کیوں دی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف اسے مذاکرات کی دعوتیں بھی دی جاتی ہیں۔ ایک سیاسی رہنما کے طور پر اس کے حقوق کی باتیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ وہ سیاسی رہنما کے طور پر کام کرنے سے مذاکرات کرنے سے مسلسل انکاری ہے اور انتشار کو ہوا دیتا رہتا ہے۔ اس کے ملک دشمن بیانیے کے خلاف کوئی منظم کاوش کہیں نظر نہیں آتی ہے۔ سوائے پاک فوج کے جو کوشش کرتی رہتی ہے کہ عمرانی ٹولے کے ملک دشمن بیانیے کا توڑ کیا جائے۔
پاکستان بلاشبہ نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ پیداواری شرح میں اضافہ نہیں ہورہا ہے۔ ٹیکس وصولیوں کے اہداف پورے نہیں ہو رہے ہیں، جو پہلے سے ٹیکس نیٹ میں ہیں اور ٹیکس دے رہے ہیں، انہیں پر بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف کے دبائو کے تحت حکومت عوام کو ریلیف نہیں دے پا رہی ہے۔ یوتھ اپنے حالات سے خوش نہیں ہے۔ مستقبل سے مایوس ہے وہ دھڑا دھڑ ملک چھوڑنے لگے ہوئے ہیں۔ جہاں تک سیاست کا تعلق ہے اس کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں لگ رہی ہے۔ ہم سیاست میں بہت کچھ دیکھ چکے ہیں۔ اب ایک بالکل نئے تجربے یعنی ہائبرڈ نظام سے گزر رہے ہیں۔ ایسے ہی تجربات میں ہمیں سانحہ مشرقی پاکستان کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان دولخت ہو گیا، اب ہم ایک نئے قسم کے مخمصے کا شکار ہیں۔ ہائبرڈ نظام چلایا جا رہا ہے۔ پہلے سے موجود سیاسی قیادت کو منظر سے ہٹانے کی پالیسی کے تحت عمران قیادت کو قومی منظر میں داخل کیا گیا، اسے چمکایا گیا، بڑھایا گیا، جعلی و نقلی انداز میں اس کے لئے پتلے میں ہوا بھری گئی۔ شریف و بھٹو سیاست کا صفایا کرنے کے لئے عمران خان کا ہیولا بنایا گیا۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ اس حوالے سے مات کھا گئی۔ عمران خان عالمی صہیونی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی رابطے استوار رکھتے تھے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ شریف و بھٹو قیادت و سیاست کے خاتمے کے لئے سنگل ٹریک پر یکسوئی سے چل رہی تھی۔ پراجیکٹ عمران خان جو 2011میں لانچ کیا گیا 2018 میں عمران خان کے اقتدار میں لانے کے بعد کامیاب ہو گیا تھا لیکن اپنے 44 ماہی دورِ حکمرانی میں عمران خان و ہمنوائوں نے ملک کے ساتھ جو کچھ کر دیا وہ اسے لانے والوں کے لئے بھی پریشان کن تھا، یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے اس کی نصرت و حمایت سے ہاتھ کھینچا تو وہ پتلا دھڑام سے نیچے گر گیا۔ یہاں ہماری قومی قیادت سے غلطی ہوئی، الیکشن کرانے کی بجائے انہوں نے حکومت میں رہنا قبول کیا۔ عمران خان کی گری پڑی سیاست زندہ ہو گئی۔ اب کے پی میں گورنر راج کی باتیں ہو رہی ہیں جو عمرانی سیاست کو مزید تگڑا کر دیں گی۔ عمرانی سیاست ہچکیاں لے رہی ہے۔ وہ بڑھ چڑھ کر ایسی حرکتیں کر رہا ہے۔ ملک دشمنی میں آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے کہ اس کی عوامی پذیرائی میں کمی ہو رہی ہے، اس کا ووٹر بھی اس سے دور ہٹتا نظر آرہا ہے لیکن ہماری مقتدرہ ابھی تک اس مخمصے کا شکار ہے کہ اس سے ملک دشمنی کے طور پر سلوک کرے یا ایک سیاست دان کے طور پر۔ یہی دوعملی زہر قاتل ثابت ہو رہی ہے جس طرح بقول خواجہ ہمارا نظام ہائبرڈ ہے، اسی طرح عمران خان و پی ٹی آئی کے ساتھ ہائبرڈ قسم کا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ اسے کچھ کچھ ملک و ریاست دشمن کے طور پر برتائو کیا جاتا ہے اور کچھ کچھ سیاستدان کے طور پر۔ ایسا کرنے سے اس کا بیانیہ اور بھی زہرآلود ہوتا جا رہا ہے۔ یہ مخمصہ، ریاست کی دوعملی، ذوفکری اسے کمزور اور تنہاکرتی چلی جا رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جاری حالات کے تناظر میں فیصلہ کن اقدام اٹھا کر عمرانی فتنے کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ قومی سیاست کو اس فتنے سے پاک کر دیا جائے۔ یہ روز روز کی چخِ چخِ ختم کرنا ہی قومی مفاد میں ہے ، ایسا جتنی جلدی کر دیا جائے اتنا ہی بہتر ہے، ملک و قوم کے لئے، مقتدرہ کے لئے۔
عمرانی انتشاری سیاست اور مقتدرہ کا مخمصہ
09:07 AM, 3 Dec, 2025