بے لچک رویے نہیں رواداری اور برداشت

09:07 AM, 3 Dec, 2025

برداشت و رواداری جمہوریت کا وہ حُسن ہے جس میں اختلافِ رائے کااحترام ہوتا ہے دلیل اور اخلاق سے بات ہوتی ہے دھونس اورگالی کلچر سے تو متشددرویے جنم لیتے ہیں جن کا جمہوری اقدار سے کوئی تعلق نہیں ہمارے ہاں کچھ ایسا ماحول بنتاجارہاہے جس میں جمہوریت کا حسن رواداری اور برادشت مفقودہے جسے جمہوریت کا حُسن نہیں کہہ سکتے ۔ حکومت اور اپوزیشن میں تعلقات نہ ہونے کے برابر ہیں دونوں ہی ایک دوسرے پر نشانے کی تاک میں رہتے ہیں یہ مثبت جمہوری طرزِ عمل نہیں جمہوری رویے زوال پذیر ہوں تو غیر جمہوری قوتوں کو تقویت ملتی ہے مگر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اِس کا احساس نہیں دونوں ہی ایک دوسرے کو رگیدنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اسی لیے سیاستدانوں کے بارے میں مثبت عوامی رائے متاثر ہورہی ہے شاید ساکھ و اعتبار سے محرومی کا سیاستدانوں کو ادارک نہیں جو اپنے مفاداتی اہداف کے تعاقب میں ہیں ضرورت اِس مرکی ہے کہ دونوں طرف کے وضع دار سیاستدان آگے آئیںاور موجودہ ڈیڈلاک کاخاتمہ کرنے میں کردار ادا کریں یہ درست ہے کہ اب جمہوریت پر شبِ خون مارنے کاکوئی امکان نہیں کیونکہ اِس کے لیے نہ صرف ملکی حالات سازگار نہیں بلکہ عالمی منظر نامہ بھی ایسی کسی کارروائی کے حق میں نہیں مگر حکومت اور اپوزیشن میں تعلقات کارنہ ہونے سے پارلیمان بے توقیر ہورہی ہے۔
اِس سے قطع نظر کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان پر بنائے گئے مقدمات درست ہیں یا سیاسی انتقامی کاروائی ہے مگر ایک ایسا شخص جوملک کاسابق وزیرِ اعظم ہے اُس سے ملاقات نہ کرانے کا فیصلہ ہر حوالے سے نامناسب ہے مزید ستم یہ کہ اِس کے لیے ایک صوبے کا وزیرِ اعلیٰ حکومتی ا مور چھوڑ کردارالحکومت میں احتجاج کرتا پھر رہا ہے ایک ایسا صوبہ جہاں امن و امان کی صورتحال نہایت مخدوش ہے جہاں طاقت ورجرائم پیشہ گروہ ہیں جہاں لسانی اور علاقائی تعصب کی تاریخ عشروں پرانی ہے جسے ختم کرنے کے لیے جس حکمت ودانائی کی ضرورت ہے وہ صوبائی حکومت میں ناپید ہے طرفہ تماشہ یہ کہ نفرت وتعصب بڑھانے میں حکومتی جماعت خود پیش پیش ہے سچ یہ ہے کہ عام لوگوں کے نہ تو یہاں مسائل حل ہورہے ہیں بلکہ تعلیم و صحت کی سہولتوں میں مزید بگاڑ آرہا ہے اِس کے باوجود پی ٹی آئی کا اپنے وزیرِ اعلیٰ کو دارالحکومت کی شاہراہوں پر بھگاناسمجھ سے بالاتر ہے علاوہ ازیں حکومت کی ملاقات نہ کرانے میں کیاحکمت ہے؟یہ بھی سمجھ سے باہر ہے اگر دونوں فریق لچکدار رویہ اپنائیں تو ملاقات کا نہ صرف مسلہ حل ہو سکتا ہے بلکہ بدامنی کے شکار صوبے کے وزیرِ اعلیٰ اپنے فرائضِ منصبی کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔
کہنے کو پاک وطن اسلامی اور جمہوری ہے لیکن یہاں کچھ ایسے بزرگ سیاستدان بھی ہیں جو عشروںسے پارلیمان کا حصہ ہونے کے باوجوداِس حد تک غیر جمہوری سوچ رکھتے ہیں کہ پارلیمان کو لڑائی کا اکھاڑہ بنانے کے متمنی ہیں ابھی حال ہی میں محمود اچکزئی جیسے بزرگ کا اپوزیشن اراکین کو حکومتی اراکین پر حملے کی تجویز دینا ثابت کرتا ہے کہ انھیں جمہوریت اور پاکستان سے کوئی سروکار نہیں بلکہ یہ اپنے مفاد کے لیے مادرِ وطن سے دشمنی پر آمادہ ہے جس ملک کے عوام اُسے منتخب کرتے اور پارلیمان میں بھیجتے رہے یہ شخص اسی ملک اور عوام سے وفاداری سے زیادہ افغانستان پر فداہے اِس شخص کو پاکستانی کی بجائے افغانی کہلوانا زیادہ عزیزو پسند ہے اتنی خامیوں کے باوجوداِس شخص کو اپوزیشن لیڈر جیسے اہم عہدے کے لیے پی ٹی آئی کا نامزد کرنا حیران کُن ہے جس پر فوری نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے بہتر ہے کہ اہم ترین عہدوں پر اپنے مخلص اور کسی جہاندیدہ کونامزد کرے جب پی ٹی آئی خود کو پاکستان کا حقیقی خیر خواہ کہلوانے پر بضد ہے تو اُسے ایسے فیصلوں سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے محب الوطن حلقے بدظن ہوں۔
اختلافِ رائے کا اظہار عین جمہوری ہے حکومتی حربوں کوبے نقاب کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ کاسہارہ لینا کوئی غیر جمہوری نہیں لیکن یہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو جس نے بھی بھارتی ذرائع ابلاغ کا سہارہ لیکر تنقید کرنے کا مشورہ دیا ہے وہ اِس جماعت کا دشمن تو ہوسکتا ہے خیر خواہ یا دوست ہر گز نہیں بھارتی ذرائع ابلاغ کوتو دنیا بھر میں جھوٹا اور ناقابلِ اعتبار کاخطاب مل چکا ہے جس نے مئی کی چارروزہ جھڑپوں کے دوران بڑے طمطراق سے ایسی خبریں نشر کیں کہ بھارتی فوج لاہورکی بندرگاہ پر قابض ہوگئی ہے پاکستان کا بھارت روایتی دشمن ہے اسی بناپر مقتدرہ میں بھارت کے حوالے سے سخت سوچ پائی جاتی ہے اور بھارت کے ہر اقدام کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تو سوال یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو کِس نے ایسی کھائی میں دھکا دیا ہے جس کے نتائج نہ صرف پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے لیے مزیدابتلا کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ بانی کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو نا بعید ازقیاس نہیں جمہوری لوگ ہمیشہ مکالمے پر آمادہ وتیار رہتے ہیں لیکن اپوزیشن نے تو جیسے حکومت سے بات نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے ارے بھئی ماضی سے ہی کچھ سیکھ لیں اور سلسلہ جنبانی بحال کریں تاکہ ہمیشہ کے لیے راندہ درگا ہونے کی بجائے عافیت سے میدان میں سیاسی جماعتوں کا مقابلہ کرنے کا امکان ہو ۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر جب ملک کی عزت و ساکھ کی بات ہو تو سیاستدانوں کو سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف پاکستانی بن جاناچاہیے افسوس کہ ہمارے وطن میں اب ایسی قدریں ناپید ہیں ماضی میں جب مولانا مودودی سے بیرونِ ملک پاکستانی سیاست کے بارے میں کچھ چبھتے سوال کیے گئے تو انھوں نے یہ کہہ کربات ختم کردی کہ سیاست تو میں پاکستان ہی چھوڑ آیا ہوں لہٰذا یہاں کوئی اور بات کریں مگر ہمارے موجودہ سیاستدانوں کے بے لچک رویوں نے سیاسی تقسیم اِس حد تک گہری کردی ہے جس سے سیاسی اختلاف کو دشمنی تصور کیا جانے لگا ہے دکھ تو اِس بات کا ہے کہ ملک کے بزرگ سیاستدان اِس عمل کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے نفرت کی آگ پر تیل ڈالنے کی پالیسی پر کاربندہیں کچھ سیاسی کارکنان تو بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش میں ہیں ارے بھئی،حکومت سے آپ کے سیاسی اختلاف ہیں توبات بھی حکومت کی کریں ۔ پاکستان اور اِداروں کوکیوں بدنام کرتے ہو؟آج اگر آپ اپوزیشن میں ہیں تو کل کو حکومت میں آسکتے ہو لہٰذا سیاسی اختلاف کو جمہوری اقدار کے مطابق رکھیں اور اپنی شناخت پاک وطن کے خلاف کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے دشمن بھارت کے موقف کو تقویت ملے وہ تو دشمنی میں پاکستان کے خلاف مصروفِ عمل ہے اُس کے آلہ کارنہ بنیں ۔

مزیدخبریں