اسلام آباد: ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے سرکاری دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں 13 معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں طے پا گئی ہیں، جن کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی خصوصی تقریب میں ان معاہدوں پر دستخط اور دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزرا اور ایرانی صدر اپنے وفد کے ہمراہ موجود تھے۔
معاہدوں کا دائرہ کار سائنس و ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، ثقافت، موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات سے نمٹنے، عدالتی تعاون، فائر فائٹنگ اور میری ٹائم سیفٹی جیسے اہم شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔
دونوں ملکوں نے سیاحتی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا، جب کہ 2013 کے ایئر سیفٹی معاہدے سے متعلق ایک ذیلی یادداشت کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے اور فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر عملدرآمد کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی تیاری پر بھی معاہدہ طے پایا۔
معاہدوں میں مصنوعات کے معیار اور اسٹینڈرڈز کے حوالے سے بھی تعاون شامل ہے، جس سے دونوں ممالک کی مصنوعات کو بین الاقوامی سطح پر بہتر قبولیت حاصل ہو سکے گی۔
یہ تمام معاہدے پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد، بھائی چارے اور ترقیاتی شراکت داری کا مظہر ہیں، جو مستقبل میں اقتصادی اور سماجی تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔