لاہور : وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کو زہریلے صنعتی مادوں اور دھاتوں سے صاف کرنے کے لیے میگا آپریشن کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ صنعتی یونٹس اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ماحول کی حفاظت کے ادارے (EPA) کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ، آبپاشی، واسا، انڈسٹری، صحت اور ایل ڈی اے جیسے متعلقہ محکمے مل کر نہروں اور نالوں کا معائنہ کریں گے تاکہ ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔
صوبے بھر میں زہریلے فضلے کو نہروں میں پھینکنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے کیونکہ یہ فضلہ مختلف مہلک بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔ بغیر ویسٹ ٹریٹمنٹ کے چلنے والی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بند کی جائیں گی اور اب تک 28 ہاؤسنگ سوسائٹیز اور صنعتوں کو نوٹس بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے ہڈیارہ ڈرین میں زہریلا فضلہ ڈالنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صفائی کے لیے 10 اگست تک کی ڈیڈلائن دے دی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ زہریلے مواد کی وجہ سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، اور کینسر جیسی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ فیصل آباد، شیخوپورہ، سیالکوٹ اور قصور کے صنعتی نالوں کا معائنہ مکمل ہو چکا ہے اور آلودگی پھیلانے والوں کے لیے جرمانے کا قانون بھی بن چکا ہے، جس پر فوری عمل شروع کیا جائے گا۔
حکومت نے ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے کے لیے صنعتوں کو بغیر سود کے قرضے دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ میں بھی فوری طور پر ویسٹ واٹر پلانٹ لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ 31 اگست تک مکمل صحت کا سروے پیش کیا جائے گا اور 10 اگست سے کارروائیاں شروع کر دی جائیں گی۔