بلوچستان کے زخموں پہ مرہم۔امیر جماعت اسلامی کی مسیحائی

09:20 AM, 3 Aug, 2025

پاکستان کے ایک مخلص، صاحبِ نظر اور متحرک قائد، حافظ نعیم الرحمن نے حال ہی میں ہونے والے اپنے کالم’’بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھیں‘‘کے ذریعے ایک ایسے مسئلے کو اجاگر کیا ہے، جس پر برسوں سے گردِ تغافل جمی ہوئی تھی۔ انہوں نے نہ صرف بلوچستان کی محرومیوں اور دکھوں کا دردمندانہ تجزیہ پیش کیا بلکہ ایک قابلِ عمل حل بھی تجویز کیا جس سے ایک نیا فکری باب کھلتا ہے۔
اس کالم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تلخ حقیقتوں کا بیان کسی انتقامی یا جذباتی لب و لہجے میں نہیں کیا گیا، بلکہ ایک مصلحانہ، درد مندانہ اور متوازن انداز اپنایا گیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے ان تاریخی عوامل کی نشاندہی کی جو بلوچستان میں احساسِ محرومی کو جنم دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سوئی سے دریافت ہونے والی گیس کی روشنی جب پورے ملک کو منور کر رہی تھی، تب سوئی خود اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ محض وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم نہیں، بلکہ اعتماد کی شکست اور تعلق کی کمزوری کا استعارہ تھا۔
بلوچستان پاکستان کا وہ حصہ ہے جہاں محبت، قربانی اور وفا کی لازوال تاریخ ہے، لیکن بدقسمتی سے ریاستی پالیسیاں کئی مواقع پر ان لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے نمک چھڑکنے کا باعث بنیں۔ نوجوان نسل کو جب تعلیم، صحت، روزگار اور عزتِ نفس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا، تو انہوں نے اپنی محرومیوں کو فریاد میں ڈھالا اور دشمن عناصر نے اسی فریاد کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
حافظ نعیم الرحمن کی جماعت، جماعتِ اسلامی، ایک نظریاتی، قومی اور ماورائے تقسیم تحریک ہے، جس کا مزاج کسی مخصوص زبان، قوم یا علاقے سے منسلک نہیں بلکہ انسانیت اور امتِ مسلمہ کے اعلیٰ اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔ ان کی تحریر میں اسی فکر کا تسلسل جھلکتا ہے، جہاں وہ بلوچستان کے مسئلے کو محض ایک سیاسی تنازعہ نہیں بلکہ ایک انسانی، اخلاقی اور اجتماعی ذمہ داری کے طور پر دیکھتے ہیں۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ بلوچستان کے حالات کو سدھارنے کے لیے محض بیانات کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی غلطیوں کا اعتراف، سچائی کے ساتھ اصلاح کی نیت، اور حقیقی اختیار بلوچستان کے عوام کو دینا، وہ بنیادی عناصر ہیں جن کے بغیر اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ انہوں نے سیکیورٹی یا عسکری حل پر زور دینے کی بجائے سیاسی شرکت، تعلیم اور فلاحی منصوبوں کو ترجیح دی۔ ان کی جماعت نے بنو قابل پروگرام کے ذریعے بلوچستان کے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم دینے کا آغاز کیا ہے، تاکہ انہیں روزگار کے مواقع حاصل ہوں اور وہ قوم کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔
اس کے ساتھ ہی جماعتِ اسلامی نے ’حق دو بلوچستان‘ لانگ مارچ کے ذریعے پرامن اور جمہوری انداز میں عوامی بیداری کی ایک مہم شروع کی، جو محض احتجاج نہیں بلکہ ایک مثبت بیانیے کے ساتھ ایک متبادل نظام کی پیشکش تھی۔ یہ مارچ، جو بلوچستان سے اسلام آباد تک پھیلا، صرف نعرے بازی نہیں بلکہ سنجیدہ اور مدلل مطالبات کا ترجمان ہے۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت نے اس مارچ کے شرکاء کو تحفظ دیا اور اسے ایک جمہوری عمل کے طور پر تسلیم کیا۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف جمہوری قدروں کو تقویت ملی بلکہ یہ پیغام بھی گیا کہ ریاست اپنے ناراض شہریوں سے بات چیت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ طریقہ کار پرامن اور آئینی ہو۔
جماعت اسلامی کی تاریخ بھی اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب قوم مصائب میں گھری ہو، جب قدرتی آفات نازل ہوں یا انسانی المیے جنم لیں، اس جماعت کے کارکن بلا تفریق رنگ، نسل اور مذہب کے خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہو کر میدانِ عمل میں نظر آتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد مہاجرین کی آبادکاری ہو یا دریائے راوی کے سیلاب زدگان کی امداد، جماعتِ اسلامی کے کارکنان ہر جگہ صفِ اول میں موجود رہے۔ یہی وہ اخلاقی مزاج ہے جو اس جماعت کو دیگر سیاسی جماعتوں سے ممتاز کرتا ہے۔
تحریر میں حافظ نعیم الرحمن نے مسائل کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ قابلِ عمل حل بھی تجویز کیا، جو اس تحریر کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فیصلوں میں بلوچستان کے نمائندوں کو شامل کیا جائے، تعلیمی اداروں اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی نوجوانوں کو موقع دیا جائے، اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ محض وعدے یا اعلانات نہیں، بلکہ زمینی حقائق پر مبنی منصوبہ بندی کی جائے۔
یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ وہ قومی و صوبائی قیادت سے رابطے میں ہیں تاکہ امن کا روڈ میپ تیار کیا جا سکے، اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کر کے ایک مشترکہ حل کی جانب پیش قدمی ہو۔ انہوں نے یہ خوش خبری بھی دی کہ ان کی جماعت بلوچستان میں تعلیم، تربیت، ٹیکنالوجی اور ہنر کے فروغ کے لیے عملی منصوبوں پر کام کر رہی ہے تاکہ نوجوان نسل کو انتشار سے نکال کر تعمیر کی طرف لایا جا سکے۔
یہ مضمون محض ایک سیاسی رہنما کی تحریر نہیں بلکہ ایک درد مند دل کی آواز ہے، جو یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر ہم بلوچستان کو سینے سے لگائیں، اس کی مٹی کو اپنائیت دیں، اس کے نوجوانوں کو اعتماد دیں، اور اس کی سرزمین کو عزت بخشیں، تو یہ خطہ وفا، محبت، امن اور ترقی کا استعارہ بن سکتا ہے۔
یہ تحریر درحقیقت ایک نئی راہ کا تعین کرتی ہے۔ایک ایسی راہ جو شکوے، شعلے اور شعلہ بیانی سے نہیں بلکہ حکمت، محبت اور خدمت کے اصولوں پر استوار ہے۔ ہمیں سوچنا ہے کہ ہم بلوچستان کو کیا دے رہے ہیں، کیونکہ ایک دن وہی لوٹ کر ہمارے اجتماعی مقدر کا حصہ بنے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے ہمیں آئینہ دکھایا ہے۔ اب فیصلہ ہم پر ہے کہ ہم اس میں اپنا چہرہ دیکھ کر شرمندگی سے نظریں جھکاتے ہیں یا اصلاح کی نیت سے آگے بڑھتے ہیں۔ یہ وقت فقط سوالات کا نہیں، عمل کا ہے۔ بلوچستان صرف ایک صوبہ نہیں، ہماری روح کا وہ حصہ ہے جسے اگر نظر انداز کیا جائے تو ہم اپنی شناخت کھو بیٹھتے ہیں۔

مزیدخبریں