ٹرمپ نہیں نوازاورزرداری کوگلے لگائیں

09:17 AM, 3 Aug, 2025

ایبسیلوٹی ناٹ اورہم کوئی غلام ہیں عمران خان کے یہ دو جملے اور نعرے بڑے مشہور ہوئے اور یہ دونوں جملے و نعرے غالباً اس امریکہ کے خلاف تھے جس امریکہ سے اب نہ صرف کپتان کے سادہ اور نادان کھلاڑی بلکہ کپتان کے اپنے بھولے بھالے نابالغ سیاسی بچے بھی عمران خان کی رہائی اور پی ٹی آئی کی مقدمات سے خلاصی کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ تحریک انصاف کے بڑوں سے لیکر چھوٹوں تک ہر ایک کی یہ خواہش، تمنا اور امید ہے کہ امریکہ ان کے سر پر دست شفقت رکھتے ہوئے اس مشکل وقت اور مرحلے سے ان کو نکالے۔ پی ٹی آئی کے بڑوں اور چھوٹوں کی امریکہ کی طرف امید بھری نگاہیں تو ایک عرصے سے مرکوز ہیں لیکن صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعدان کی یہ توقعات کچھ زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ جس طرح دنیا امیدوں پر قائم ہے اسی طرح ان کے سیاسی خواب بھی امریکہ اور صدر ٹرمپ سے وابستہ امیدوں پر قائم ہیں۔ کپتان کے بیٹے تو اب جاگے۔ یہ ہمارے والے تو پہلے سے یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ٹرمپ صدر بنتے ہی ان کے کپتان کو جیل کی غلامی سے آزاد کرائیں گے لیکن ان کے یہ ایمرجنسی آزادی و رہائی والے خواب تاحال پورے نہیں ہوئے کیونکہ ٹرمپ نے صدر بننے اور اقتدار سنبھالنے کے بعد پی ٹی آئی اور عمران خان کے معاملے میں وہ سنجیدگی نہیں دکھائی جس کی انہوں نے ان سے امیدیں لگا رکھی تھیں۔ ٹرمپ کی سرد مہری اور خاموشی کے باعث اب کپتان کے بیٹوں نے اس معاملے میں ٹرمپ کو حرکت دینے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیئے ہیں۔ ایبسیلوٹی ناٹ اور ہم کوئی غلام ہیں سے شروع ہونے والا سفر اب اسی امریکہ کے سامنے ہاتھ پھیلانے تک پہنچ گیا ہے۔ جنہوں نے کل تک پاکستان کے چوبیس کروڑ عوام کو امریکہ کی غلامی سے آزاد کروانا تھا آج وہ اسی امریکہ کو ایک کپتان کی آزادی کیلئے دہائیاں دیتے پھر رہے ہیں۔ اس لئے تولوگ کہتے ہیں کہ امریکہ پہلے کپتان کو جیل سے آزاد کرائے گا پھر پی ٹی آئی اور عمران خان پاکستان کے عوام کو امریکہ کی غلامی سے آزاد کرائیں گے۔ غیرت، انا اور اصول اچھی شے ہے لیکن یہ کیا اصول ہوئے کہ جن کے خلاف ایبسیلوٹی ناٹ اور ہم کوئی غلام ہیں کا علم بلند کیا گیا ان کے سامنے تو دست سوال دراز ہو لیکن جو اپنے ہی ملک کے حکمران اور سیاستدان ہوں ان سے اب اور آج بھی سو کلومیٹر کا فاصلہ ہو۔ اپنوں سے دوری اور غیروں سے یاری یہ کوئی اصول اور غیرت نہیں۔ غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ ملک اور سیاسی معاملات میں امریکہ جیسے ملک کو درمیان میں لانے کے بجائے آپس میں مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالا جائے۔ پی ٹی آئی پر مقدمات، رہنمائوں کی سزائیں اور کپتان کی گرفتاری یہ اندرونی معاملات ہیں ان سے امریکہ یا ٹرمپ کا کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں اس طرح کے معاملات جمہوری انداز میں ہی حل ہونے چاہئیں۔ جمہوریت کو نقصان ہی تب پہنچتا ہے جب اس طرح کے معاملات اور مسائل میں باہر کے ممالک اور لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ یہ تو عمران خان بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپس کے معاملات میں غیروں کی مداخلت یہ ملک و قوم دونوں کیلئے نقصان دہ ہے۔ پھر ملکی معاملات میں امریکی مداخلت کے توکپتان سب سے زیادہ مخالف رہے ہیں۔ امریکی غلامی نامنظور تو اوروں سے زیادہ پی ٹی آئی کاپسندیدہ نعرہ رہا۔ وہ پارٹی اور لوگ جن کی سیاست ہی امریکہ مخالف نعروں اور دعوؤں پر کھڑی رہی۔ اب اگر ایک فرد کی رہائی کیلئے وہ امریکی صدر یا کسی اور گورے کے پاؤں پکڑیں تو اس سے بڑی بے شرمی کی بات اور کیا ہو گی۔؟ ہم پہلے بھی لکھتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ ملک کے معاملات ملک میں حل ہونے چاہئیں۔ سیاسی پارٹیاں اور سیاسی لوگ سارے درکبھی بند نہیں کرتے۔ میدان سیاست میں وہی سیاستدان ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں جو سو در بند کرنے کے ساتھ ایک در کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی اور عمران خان سے زیادہ سخت حالات اور معاملات مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی پر آئے، اس ملک میں نوازشریف اور آصف زرداری کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا لیکن کیا ان دونوں پارٹیوں یا ان کے لیڈروں اور سیاستدانوں نے مذاکرات اور بات چیت کے سارے دروازے بند کر کے امریکہ سے امیدیں باندھیں۔؟ عمران خان کے اپنے دور اقتدار میں میاں نواز شریف پر کونسا مقدمہ نہیں بنا۔؟ کیا وہ سیاست کیلئے نااہل نہیں ہوئے۔؟ لیکن میاں نواز شریف اور آصف زرداری نے امریکہ کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھنے کے بجائے انتہائی آرام، صبر و تحمل اور سیاسی و جمہوری طریقے سے اپنے معاملات اور مسائل کو ہینڈل کیا۔ وہ ن لیگ جس کو سر چھپانے کیلئے اس ملک میں جگہ نہیں مل رہی تھی آج اس ملک میں اسی ن لیگ کی پھر حکومت ہے۔ میاں نواز شریف بھی اگر مذاکرات کے تمام دروازے بند کر کے اسے غیرت اور انا کا مسئلہ بنا دیتے تو آج میاں صاحب کے شب و روز بھی کسی ٹرمپ کے انتظار میں گزر رہے ہوتے۔ ویسے یہ کیسی غیرت اور انا ہے جو ٹرمپ سے رہائی کی امیدیں باندھتے ہوئے نہیں آتی لیکن اپنے ہی حکمرانوں، سیاستدانوں اور لیڈروں سے بات کرتے ہوئے جوش مارنے لگتی ہے۔ غیرت، انا اور بہادری تویہ ہے کہ خان کی رہائی کیلئے ٹرمپ کی طرف دیکھنے کے بجائے امریکہ کیخلاف ایبسیلوٹی ناٹ اور ہم کوئی غلام ہیں کا نعرہ اسی طاقت اور جوش سے بلند ہو۔ کپتان کی رہائی کیلئے امریکہ کے پاؤں پکڑنے سے بہترہے کہ میاں نواز شریف اور آصف زرداری سمیت یہاں ان اپنوں کے ہاتھ پکڑے جائیں یہ کم ازکم اپنے تو ہیں۔ پی ٹی آئی کی بقاء اسی میں ہے کہ یہ تکبر و غرور کے تمام بت توڑ کر ریاست اور جمہوریت کو گلے لگائیں ورنہ امریکہ اور ٹرمپ کی طرف دیکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

مزیدخبریں