اچھے دن!!

09:16 AM, 3 Aug, 2025

اگست کا مہینہ شروع ہوچکا ہے اس ماہ کاآغاز پٹرول کچھ سستا ہونے سے ہوا ۔پٹرول کے سستا اور مہنگا ہونے کا تعلق عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤسے ضرور ہے لیکن کچھ اس میں دخل آئی ایم ایف کا بھی ہے کہ پاکستان اس کے پروگرام میں ہے اور حکومت کی مجبوریاں کہ ٹیکس اکٹھاکرنے کا آسان راستہ اس طرح کے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کو بنالیا گیا ہے۔اگر یہاں ہر کمانے والا اپنے حصے کا ٹیکس ایمانداری سے ادا کرنا شروع کردے تو یہی پٹرول سب کو ڈیڑھ سو روپے لٹر مل سکتا ہے اللہ کرے ایسے اچھے دن بھی پاکستان کا مقدر بنیں۔تیل کے حوالے سے ایک تجارتی ڈیل پاکستان کی امریکا سے بھی ہوگئی ہے اس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیاہے یہاں ہمارے کچھ دوستوں کو اعتراض ہے کہ یہ اعلان ہماری حکومت کو مشترکہ طورپرکرنا چاہئے تھا۔میرے نزدیک پاکستان کے مفاد میں تجارتی بندوبست زیادہ اہم ہے اعلان کوئی بھی کرے ویسے بھی ٹرمپ صاحب کی کسی کو کوئی سمجھ آرہی ہے اور نہ وہ کسی کو کچھ سمجھنے کاموقع دے رہے ہیں۔ ہندوستان کا جوحال امریکی صدر کررہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے ہماری طر ف تو ابھی ان کی عنایت والی نظریں ہی چل رہی ہیں۔
ایک خبر یہ بھی ہے کہ پاکستان تیل کا کچھ حصہ اب امریکا سے بھی خریدے گا اس پربھی کچھ دوستوں کو اعتراض ہے تو عرض ہے کہ ہم نے تو خرید کر ہی ضرورت پوری کرنی ہے کہ ہم اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے لگ بھگ پچاسی فیصد تیل امپورٹ کرتے ہیں۔تو دکان کوئی بھی ہوسکتی ہے ہاں اگرامریکا بہادر سے خریدا گیا تیل ہمیں زیادہ مہنگاپڑتا ہے تو اعتراض جائز اور احتجاج بھی بنتا ہے اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ ڈیل ٹھیک ہے۔ہندوستان مدتوں سے روس کا تیل خریدتا آیا ہے اب وہ بھی مجبور ہوگیا ہے اور اس نے روس سے تیل کی خریداری بند کردی ہے ۔روسی تیل خریدنے کی وجہ سے ہی یورپی یونین نے ہندوستانی آئل ریفائنری’’نیارا‘‘پر پابندیاں لگادی ہیں۔
اب آتے ہیں اس تیل کی تلاش والے معاملے پر جس کا اعلان ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا ہے ۔ہم مدتوں سے یہ سنتے اور پڑھتے آرہے ہیں کہ پاکستان معدنی دولت سے مالا مال ہے لیکن ہم ان کو پوری طرح تسخیر آج تک نہیں کرپائے اس کی وجہ وسائل کی کمی ہے۔ہاں ہم نے گیس کو ضرور نکالا اور پھر اس کو بے رحمانہ استعما ل کرکے ختم بھی کردیا۔ہم نے مختلف وقتوں میں تیل کی تلاش کے لیے عالمی کمپنیوں سے معاہدے کیے لیکن ایسے اقدامات کو یہاں ہمارے معاشرتی مزاج نے ہمیشہ شک کی نگاہ سے ہی دیکھا ۔کسی نے تلاش شروع کی ناکامی ہوئی تو مذاق اڑایا ۔ماضی قریب میں ایسی ہی کوشش عمران خان صاحب کے دورمیں ہوچکی ہے جس میں سمندر کے نیچے سے تیل کی تلاش کی جانی تھی لیکن کامیابی نہیں ہوئی تھی۔
پاکستان میں شیل آئل پایا جاتا ہے ؟ کتنا پایا جاتا ہے کیا یہ محض ایک کہانی ہے یا واقعی ایک حقیقت ہے؟ ان سوالوں کے جواب کے لیے میںنے ریسرچ شروع کی۔ کچھ اخبارات کھنگا لے۔ کچھ سرکاری ڈیٹا نکالا اور اسٹیڈیز جو پاکستان میں تیل اور گیس کے ذخائر پر کی جاچکی ہیں۔ میرے سامنے شیل آئل کی پاکستا ن میں موجودگی کے کچھ شواہد اور گزشتہ دس سال کے دوران کی گئی ریسرچ کے کچھ نتائج ہیں۔ (شیل آئل کیا ہوتا ہے کیسے نکالا جاتا ہے اس کی تفصیل جاننے میں دلچسپی ہے تو انٹرنیٹ دیکھا جا سکتا ہے) امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن اور یوایس ایڈ نے 2013سے 2023تک جو اسٹڈی کی ہے اس کے نتائج کے مطابق پاکستان میں شیل آئل کے 58ارب بیرل کے ذخائر موجود ہیں جن کو نکالا جانا ممکن ہوسکتا ہے۔یہ ذخائر پاکستان میں تیل کے معلوم ذخائر سے پچیس گناہ زیا ہیں اور اگر پاکستان روزانہ صرف ایک لاکھ بیرل شیل آئل نکالنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ہم تین ارب ڈالر سالانہ زر مبادلہ بچاسکیں گے۔پاکستان سال میں صرف آئل کی امپورٹ پر 18ارب ڈالر خرچ کرتا ہے جس سے ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جاتی ہے سب کچھ خساروں میں بدل جاتا ہے۔اگر یہ اٹھارہ ارب ڈالر کا تیل ہم یہاں سے نکال سکیں تو سوچیں ہماری معیشت کہاں سے کہاں جاسکتی ہے اور پھر اپنا تیل سستا بھی ہوگا تو اس تلاش سے پاکستان اور پاکستانیوں کو ہی فائدہ ہوگا اس لیے ایسے کاموں کی حوصلہ افزائی کرنی ضروری ہے۔
شیل آئل پاکستان میں دریائے سندھ کے بیسن میں پائے جانے کے شواہد ہیں اس فارمیشن میں حیدر آباد کے قریب سیمبر،رانی کوٹ اور کیرتھر شامل ہیں اور کہاجاتا ہے کہ اکیلے سیمبر میں چودہ ارب بیرل تیل موجود ہو سکتا ہے۔ انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے ریسرچ کے بعد دنیا کے چالیس ممالک میں شیل آئل کی درجہ بندی کی اور ا س نے پاکستان کو پہلے دس ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے ۔اس وقت پاکستان کی ر وزانہ آئل پروڈکشن دو لاکھ بیرل ہے (یہ ایسے دوستوں کے لیے خبر ہے جو مایوس ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں کچھ بھی اچھا نہیں ہے)پاکستا ن میں تیل اس وقت بھی نکل رہا ہے لیکن اس کی مقدار بہت کم ہے اور شیل آئل کو نکالنے کی ٹیکنالوجی بہت مہنگی اور مہارت بھی الگ درکار جس کی وجہ سے ہمیں اپنے یہ خزانے تلاش کرنے اور ان کو بروئے کار لانے کے لیے کسی عالمی کمپنی کی مدد ہی لینی پڑے گی وہ امریکی بھی ہوسکتی ہے اور اور یورپی بھی ۔
پاکستان کی وزارت آئل نے سیمبر میں ایک پائلٹ پراجیکٹ دوہزا ر انیس میں لانچ کیا تھا اس کے نتائج بھی حوصلہ افزا آئے ہیں ۔اس پائلٹ پراجیکٹ کو بھی یوایس ایڈ اور انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے اپنی یریسرچ رپورٹ میں شامل کیا ہے۔اور پاکستان نے دوہزا ر تیرہ میں شیل آئل کی تلاش اور نکالنے کے لیے پالیسی فریم ورک پر بھی کام کیا ہے۔ پاکستان نے بڑے عالمی سرمایہ کاروں اور ماہر کمپنیوں کو راغب کرنے کے لیے پہلے ہی بہت سے فوائد پر مبنی پالیسی بنارکھی ہے تو اب اگر ٹرمپ صاحب کی ٹویٹ کے بعد کوئی کمپنی آتی ہے تو کچھ نئی پالیسی نہیں بنانی پڑے گی بلکہ یہ پالیسی فریم ورک پہلے ہی پاکستان میں موجود ہے  جس میں سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ دیا گیا ہے۔دوہزار انیس میں کیکڑا ون پراجیکٹ جو عمران خان صاحب کے دورمیں کیا گیا وہ بھی ایسی پالیسی فریم ورک کے نیچے ہوا تھا۔
اب شیل آئل کے شواہد ہیں لیکن ان کو نکالنا ایک بہت بڑا چیلنج بھی ہے ۔اگر ہم کامیاب ہوگئے تو امریکا جیسے ممالک کی صف میں شامل ہوسکتے ہیں جو دنیا میں شیل آئل نکالنے والا بڑ املک ہے اور اگر ہم اسی ملک کے تجربات سے فائدہ اٹھاکر اپنے ملک کا کچھ بھلا کرجائیں تو کیا حرج ہے ۔ہماری آنے والی نسلوں کے لیے اس ملک میں رہنا کچھ آسان ہوجائے گا۔ کیونکہ اس وقت تجارتی خسارے کا سب سے بڑا حصہ دار یہی تیل ہی تو ہے پاکستان میں سالانہ تجارتی خسارہ کوئی تیس سے پینتیس ارب ڈالر کا رہتا ہے اس میں اگر اٹھارہ ارب ڈالر تیل کا حصہ نکل جائے تو یہ ہماری لاٹری لگنے والا سین ہی ہوجائے گانا۔ اس سارے ضمن میں ایک بات واضح رہنی چائے کہ اس کو مکمل ایک پروفیشنل بزنس کی طرح ڈیل کیا جائے، سیاسی شور کم اور فیلڈ ورک زیاہ۔ اللہ کریم پاکستان کے لیے جو بی کرے اچھا ہی ہو۔(آمین)

مزیدخبریں