یہ جو آئے روز عوام پر پیٹرول بم گراتے ہیں اُن میں شاید ایک ایسا شخص نہیں ہو گا جسے اپنی بے تحاشا سرکاری و غیر سرکاری گاڑیوں یا جہازوں میں پلے سے پیٹرول ڈلوانا پڑے، ان سب کی ”موجیں“ لگی ہوئی ہیں، چنانچہ آئے روز پیٹرول کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے سے عوام پر کیا بیتتی ہے؟ ان میں سے کسی کو اس کا اندازہ ہی نہیں ہو سکتا، آج اگر اس مُلک کے ”اصل مالکان“ یہ فیصلہ کر لیں آئندہ اُنہوں نے ذرا بہتر حکمران عوام پر مسلط کرنا ہیں جنہیں عوام کے دُکھوں کا تھوڑا بہت اندازہ یا تجربہ ہو تو وہ حکمران عوام پر اُس طرح کے مظالم کبھی نہیں ڈھا سکتے جس طرح کے مظالم موجودہ حکمران اپنا پیدائشی حق سمجھ کر مسلسل اس لیے بھی ڈھا رہے ہیں اُنہیں پتہ ہے عوام نے یہ سب برداشت کر لینے ہیں، ابھی تو پیٹرول کی قیمتیں سو روپوں کے حساب سے بڑھ رہی ہیں، ہزاروں روپوں کے حساب سے بھی بڑھا دی جائیں کسی نے چُوں تک نہیں کرنی، اس مُلک کی تقریباً تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں بھنگ پی کے سوئی ہوئی ہیں، ایک سیاسی جماعت جو ”حقیقی اپوزیشن“ ہونے کی دعویدار ہے اُسے اپنے لیڈر کی رہائی کے علاوہ کسی اور کی فکر ہی نہیں ہے، عوام کو ظالم حکمرانوں کے شکنجے سے رہائی کیسے دلوانی ہے؟ کسی سیاسی جماعت کے پاس کوئی پلاننگ ہے نہ ہی اُن کا یہ مسئلہ ہے، جماعت اسلامی کے راہنما حافظ محمد نعیم نے فرمایا ”ہم پیٹرول کی قیمتوں کے حالیہ اضافے پر شدید احتجاج کریں گے“، شدید احتجاج سے اُن کی مراد شاید یہی ہے ”ہم اُتنا ہی اجتجاج کریںگے جتنے احتجاج کی ہمیں اُوپر سے اجازت ملے گی“ چلیں اُنہوں نے تو پھر پیٹرول کی قیمتوں میں تازہ اضافے پر ہومیوپیتھک سا ایک بیان داغ دیا ہے، بیشمار سیاسی و مذہبی جماعتوں اور اُن سے وابستہ ”بلاو¿ں“ کو ہومیوپیتھک سا بیان داغنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی، کیونکہ اُن کے حلوے مانڈے کون سے بند ہو جانے ہیں؟ اپنے خرچے چلانے کے لیے اُنہوں نے بڑے بڑے ”بھارُو“ رکھے ہوئے ہیں، اُن کی یہ اے ٹی ایم مشینیں کبھی بند نہیں ہوتیں، کیا آپ کو کسی بڑے مذہبی راہنما کے کسی کاروبار کا معلوم ہے کہ اُس کے خرچے اُس کی کس دکان کس مل یا کس فیکٹری سے چلتے ہیں؟ اُن کا واحد کاروبار مذہب فروشی ہے، اپنے اپنے مفادات کے مطابق آیات اور احادیث تک نکال کر عوام کو آسانی سے وہ بےوقوف بنا لیتے ہیں، پاکستان میں سب سے بڑا ”کارڈ“ مذہب کا ہے جسے استعمال کر کے بڑی بڑی رقمیں نکلوائی جاتی ہیں، چنانچہ سیاست اور مذہب کا یہ ”بکاو¿ مال“ عوام دُشمن فیصلوں پر کوئی احتجاج کیوں کرے گا؟ وفاقی وزراءاب یہ فرما رہے ہیں ”وزیراعظم نے یہ فیصلہ اپنے سینے پر پتھر رکھ کے کیا ہے“، کل اس پر ہمارے شاعر دوست ناصر بشیر نے بڑا خوبصورت شعر کہا:
ہمارے پیٹ پہ پتھر، تمہارے سینے میں
یہی ہے فرق، ہمارے تمہارے جینے میں
مجھے بس اعتراض اس شعر میں ”ہمارے جینے“ پر ہے، اللہ جانے یہ کون سی زندگی ہے جو ہم جی رہے ہیں؟ اصل زندگی ہمارے حکمران اس مکمل یقین کے ساتھ جی رہے ہیں اُنہوں نے کبھی نہیں مرنا، یہ ہماری لاشیں نوچ نوچ کر جی رہے ہیں اور ہم اُن کا کچھ نہ بگاڑ کر مر رہے ہیں، پیٹرول کی قیمتوں میں تازہ ترین اور بدترین اضافے پر وزیراعظم فرماتے ہیں ”عوام کو چاہیے انتہائی ضرورت پر گھروں سے نکلیں“، اپنے ظالمانہ اقدام کو ”کور“ کرنے کی کیا بیہودہ دلیل اُنہوں نے پیش کی ہے، وہ سیدھا سیدھا کہہ دیتے ”اگلے چند روز میں پی ٹی آئی کے جو جلسے جلوس وغیرہ ہونے ہیں اُن میں شرکت نہ کر کے عوام پیٹرول کی اچھی خاصی بچت کر سکتے ہیں“، مجھے لگتا ہے پیٹرول کی قیمتوں میں تازہ اضافہ کیا ہی اس لیے گیا ہے عوام پی ٹی آئی کے جلسے جلوسوں میں شرکت کے قابل نہ رہیں، یہ ظالمانہ اقدام نہ بھی کیا جاتا عوام نے کون سا اتنی بڑی تعداد میں شرکت کر لینا تھی جس سے موجودہ بے شرم حکمرانوں کے اقتدار کو کوئی خطرہ ہوتا یا عمران خان کی رہائی ممکن ہو جاتی؟، عوام میں اتنا دم خم ہوتا اپنے محبوب راہنما کو اندر جانے ہی نہ دیتے، اب عوام کو چاہیے اپنے ہر دل، گُردہ و مثانہ عزیز وزیراعظم کے بیان کے مطابق انتہائی ضرورت کے مطابق ہی گھروں سے نکلیں، محترم وزیراعظم کو چاہیے ایک کمیٹی بنا کر عوام کی ”ضرورتوں“ کا تعین بھی فرما دیں، کمیٹی یہ فیصلہ کرے ”اپنے کس کس عزیز کی فوتگی پر گھر سے نکلنا ہے کس کس عزیز کی فوتگی کا افسوس صرف فون پر ہی کرنا ہے؟ اپنی کس کس بیماری کے لئے ہسپتال جانا ہے کس کس بیماری کا علاج گھر میں بیٹھ کے ہی کرنا ہے؟ کس کس رشتہ دار یا دوست وغیرہ کی شادی میں شرکت کرنا ہے کس کس کو سلامی بذریعہ اُوبر بھجوانی ہے؟“، یہ کمیٹی یہ بھی واضح کر دے مذکورہ بالا ضرورتوں کے علاوہ کوئی گھر سے نکلا اُسے کتنا جُرمانہ و سزا وغیرہ ہو گی؟ حکمرانوں کے ہرکاروں کی بے شرمی اور ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کل بھی ایک وزیر فرما رہے تھے ”غریبوں کی دعائیں ہمارے ساتھ ہیں“، ہمارے حکمران اور اُن کے ہرکارے مُلک سے غُربت شاید اسی لیے ختم نہیں ہونے دیتے ”غریب نہ رہے اُن کے لئے دعائیں کون کرے گا؟“، غریبوں کی بھوک ننگ کا احساس عیاش حکمرانوں کو صرف اُسی صورت میں ہو سکتا ہے اُنہیں بھوک کے دو دو ہفتے کے کورس کرائے جائیں، اور آئے روز پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے دُکھ کا احساس اُنہیں صرف اُسی صورت میں ہو سکتا ہے اُن کی سرکاری و غیر سرکاری گاڑیوں و جہازوں وغیرہ میں مفت سرکاری پیٹرول کی سہولت مستقل طور پر ختم کر دی جائے، میں دیکھتا ہوں اُس کے بعد مہنگائی کیسے ہوتی ہے اور پیٹرول کی قیمتیں آئے روز کیسے بڑھتی ہیں؟، مگر یہ کرے گا کون؟ ایک ”لاش“ ہے جسے اُوپر سے لے کے نیچے تک سب نوچتے جا رہے ہیں، پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ بدترین اضافے کو بھی تھوڑی بہت کھپ شپ ڈال کے قبول کر لیا جائے گا، زیادہ تر لوگ اس اضافے کو اپنی ”حرام کاریوں“ میں ایڈجسٹ کر لیں گے، حکمرانوں اور اصلی حکمرانوں یعنی بیوروکریسی عرف ”بُرا کریسی“ کو ویسے ہی سب کچھ فری ملتا ہے، رہی سہی کسر وہ اپنی رشوت کا ریٹ بڑھا کر ایڈجسٹ کر لے گی، ایسے ہی کچھ رستے سرمایہ کار و دیگر ”کاریگر“ بھی ڈھونڈ لیں گے، پروین شاکر کے چاہنے والوں سے معذرت کے ساتھ اُن کا ایک شعر کچھ اس طرح کہنا چاہتا ہوں۔
وہ تو ”بدبو“ ہے ہواو¿ں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
مسئلہ اُن انتہائی غریب لوگوں کا ہے جو مہنگائی کسی ”حرام کاری“ میں ایڈجسٹ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ حرام کاری کرتے ہی نہیں ہیں۔
زندہ لاشیں نوچنے والے گدھ
09:09 AM, 4 Apr, 2026