خلیجی جنگ کا اثر: ایل پی جی کا تاریخی بحران، ممبئی سے راجستھان تک نظامِ زندگی مفلوج

12:35 PM, 3 Apr, 2026

نئی دہلی : مشرقِ وسطیٰ میں چھڑنے والی خلیجی جنگ نے بھارتی توانائی کے شعبے کی قلعی کھول دی ہے۔ ملک بھر میں ایل پی جی (LPG) کی شدید قلت نے مودی سرکار کی ناقص توانائی پالیسیوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے، جس سے ممبئی اور راجستھان سمیت بھارت کا ایک بڑا حصہ بدترین معاشی تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔
معروف بھارتی میڈیا ادارے ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ کے مطابق، ایل پی جی سلنڈرز کی نایابی نے بھارت کے معاشی حب ممبئی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گیس کی عدم دستیابی کے باعث چھوٹے بڑے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔روزگار چھن جانے کے خوف سے دیہاڑی دار مزدوروں نے بڑے پیمانے پر ممبئی سے اپنے آبائی علاقوں کی جانب واپسی شروع کر دی ہے۔
 سڑکوں پر ایل پی جی گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں معاشی سرگرمیوں میں بدترین کمی کی واضح علامت بن چکی ہیں۔صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ راجستھان اور دیگر ملحقہ ریاستوں میں بھی صورتحال قابو سے باہر ہو چکی ہے۔ گھریلو صارفین کو سلنڈر کے حصول کے لیے کئی کئی دن انتظار کرنا پڑ رہا ہے، جس نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے۔
دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کا توانائی کے لیے مکمل طور پر بیرونی ممالک پر انحصار ایک "اسٹریٹجک غلطی" تھی۔

مزیدخبریں