امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملے کے پانچویں روز اس جنگ کا اہم ترین معرکہ ہوا جس نے اس جنگ میں ایرانی کامیابی اور دو ایٹمی قوتوں کی شکست کی بنیاد رکھی لیکن عجیب بات ہے اس حوالے سے ایک مختصر ذکر میڈیا میں نظر آیا۔ کسی دفاعی تجزیہ کار تجزیہ نگار ٹی وی اینکر یا رپورٹر نے اس حوالے سے کہیں کوئی بات نہیں کی لیکن اس معرکے کے فوراً بعد امریکی صدر کی گفتگو میں تبدیلی نظر آئی۔ انہوں نے جنگ بندی کی بات شروع کر دی اور اپنی شرائط پیش کر دیں۔
یہ معرکہ اس وقت ہوا جب دہشت کی علامت جیرالڈ فورڈ کے ٹوائلٹ ابھی بند نہ ہوئے تھے۔ ابرہام لنکن کی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ امریکی شہرئہ آفاق لڑاکا جہاز ایف پندرہ ایف سولہ اور فینٹم پینتیس35 زمین بوس نہ ہوئے تھے نہ ہی کہیں فرینڈلی فائرنگ ہوئی تھی۔ آبنائے ہرمز بند بھی نہ ہوئی تھی۔ ایک طرف امریکی اور اسرائیلی طیارے ایران پر دن رات بمباری کر رہے تھے تو دوسری طرف ایرانی میزائل مختلف اسلامی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو کامیابی سے نشانہ بنا رہے تھے۔ ٹھیک اس وقت دنیا بھر میں یہودیوں کا غلام میڈیا دنیا کو تسلی دے رہا تھا کہ امریکہ ایک طویل جنگ لڑنے کے لئے ایران پر حملہ آور نہیں ہوا۔ وہ طویل جنگ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کیونکہ اس کے پاﺅں یوکرین جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں اور اسے اقتصادی میدان میں ایک مختلف جنگ کا سامنا ہے، جس کے پہلے معرکے میں ٹیرف کے وار ناکام ہو چکے ہیں جبکہ چین کے جوابی وار سے ٹرمپ بوکھلایا ہوا ہے۔ اسی شوروغوغا میں امریکی موقف کے ایک نکتے پر زور و شور سے گفتگو شروع ہو گئی کہ اگر ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کی حامی بھر لے تو جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔ انکار کی صورت امکان ظاہر کیا گیا کہ امریکہ اس یورینیم کے حصول کے لئے نکولس مادورو کو اغوا کرنے جیسے کسی منصوبے پر عمل کر سکتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے اس آپریشن کے حوالے سے کسی قسم کی تردید نہ کی گئی لہٰذا خاموشی کو اقرار سمجھ لیا گیا اور دنیا کی توجہ اس ممکنہ آپریشن کی طرف مبذول ہو گئی۔ امریکہ نواز میڈیا نے اس آپریشن کے شروع ہونے سے بہت پہلے اس کی کامیابی کے امکانات کو روشن قرار دے دیا۔ نیوکلیئر کے حوالے سے کم معلومات رکھنے والوں کا خیال تھا کہ ایرانی یورینیم آٹے کے کسی توڑے میں رکھا ہو گا یا جست کے ایک بڑے ٹرنک یا پیٹی میں موجود ہو گا۔ یہ پیٹی زمین میں فقط چار پانچ فٹ گہرے گڑھے میں چھپائی گئی ہو گی جسے طاقتور امریکی کیمرے بہت کم وقت میں ڈھونڈ نکالیں گے۔ امریکی ائیر بورن یونٹ وہاں حملہ کرے گا اور اسے اٹھا لائے گا۔
ایک خیال یہ بھی تھا کہ یہ یورینیم ایسی جگہ رکھا گیا ہے جو انتہائی عام ہے، ایسا اس لئے کہا گیا ہے کہ اہم ترین چیز کو غیر اہم جگہ پر رکھنے سے وہ محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ کسی کا دھیان اس طرف نہیں جاتا۔ سب سے دلچسپ تصور یہ تھا کہ یہ یورینیم ایک پانچ مرلہ پرانے گھر میں صحن کی دیوار کے ساتھ لٹکائے گئے چھیکے میں موجود ہے۔ امریکی بھی کچھ ایسی ہی سوچ رکھتے تھے۔ نئی نسل کی اطلاع کے لئے عرض ہے جس زمانے میں گھر گھر فریج یا فریزر نہیں ہوتے تھے تو شام کو پکایا گیا اور بچ رہنے والا سالن یا دودھ ایک ہنڈولے میں ڈال کر اسے کسی ایسی جگہ لٹکا دیا جاتا تھا جہاں وہ بلی کے چھپٹنے سے محفوظ ہو۔ کبھی کبھار اس ہنڈولے کی رسی کمزور ہوتی اور اس میں رکھے گئے بوجھ سے ٹوٹ جاتی اور یہ ہنڈولا زمین پر گر جاتا اور بلی کی موجیں ہو جاتیں۔ اسی مناسبت سے لغت میں محاورہ موجود ہے۔ بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا۔ امریکی ایجنٹوں اور جاسوسوں نے اس چھیکے کی تلاش شروع کر دی۔ دوسری طرف جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کے مختلف بین الاقوامی ٹی وی چینلز پر انٹرویو شروع ہو گئے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہاں ہمارے پاس امریکی فوجی قیدی موجود ہیں لیکن میں اس حوالے سے مزید کچھ نہیں بتا سکتا۔ یہ فقرہ بم شیل تھا لیکن میڈیا کے سر سے گزر گیا، اس وقت تک کوئی ایسا معرکہ دنیا کے سامنے نہ تھا جس میں ایرانی اور امریکی فوجی ایک دوسرے کے سامنے آئے ہوں تو پھر یہ امریکی ایران کی قید میں کیسے آئے؟ایران میں کچھ امریکی اور اسرائیل جاسوس گرفتار ہوئے جنہوں نے تفتیش میں اقرار کیا کہ امریکہ وینزویلا ٹائپ آپریشن کسی بھی وقت کر سکتا ہے۔ وہ اس سلسلے میں اپنی کمانڈ سے رابطے میں ہیں۔ ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایسے آپریشن کچھ یوں کئے جاتے ہیں۔ ضرورت کے مطابق امریکی میرینز چھ یا آٹھ ہیلی کاپٹروں میں آتے ہیں، ان کا اور افرادی قوت کا تعین ہدف اور اپنی ضرورت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اگر ایک بٹالین یعنی چار کمپنیاں اتاری گئی ہیں تو کم از کم آٹھ ہیلی کاپٹر اور چھ سو افراد ہوں گے۔ پہلی کمپنی اپنے مقام پر اترنے کے بعد اہم پوزیشن سنبھالتی ہے۔ دوسری کمپنی اپنے ہدف کی طرف بڑھتی ہے۔ تیسری کمپنی اس کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتی ہے جبکہ چوتھی کمپنی فضا میں موجود رہتے ہوئے فضائی تحفظ فراہم کرتی ہے اور کہیں اگر کسی کمپنی کے لوگ مارے جائیں تو اس کمی کو پورا کرتی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی جاسوسوںنے اپنی جان بخشی کے لئے پورا تعاون کیا۔ مکمل منصوبہ آشکار کیا۔ وہ اپنی قید کے دوران ایرانی فوج کی موجودگی میں اپنے کمانڈر سے رابطے میں رہے اور آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ خبر ایرانی فوج کو ملتی رہی۔
نصف شب کے قریب آپریشن شروع کیا گیا تو ان جاسوسوں کی طرف سے دی غلط معلومات کے مطابق امریکی میرینز کے ہیلی کاپٹروں کو ایک غلط جگہ اترنے دیا گیا، جونہی تیسری کمپنی کے میرینز زمین پر اترے ایرانی ہیکرز نے ان ہیلی کاپٹروں کا نظام ہیک کر لیا۔ اب وہ سب اندھے ہو چکے تھے، ان کا اپنے کمانڈروں سے رابطہ ختم ہو چکا تھا۔ زمین پر ان کے استقبال کے لئے موجود ایرانی سپاہ نے ان پر فائر کھول دیا۔ امریکی میرینز اس غیر متوقع حملے کے لئے تیار نہ تھے۔ وہ جہاں اترے وہ ایک مختلف جگہ تھی اور معرکہ شروع ہو چکا تھا۔ پاکستانی بھارتی اور امریکی فلموں کی طرح اس طرح کے آپریشن گھنٹوں جاری نہیں رہتے۔ ایک ایک منٹ بہت قیمتی ہوتا ہے اور معرکہ پندرہ سے بیس منٹ میں اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ معرکہ بھی قریباً پچیس منٹ جاری رہا۔ امریکی میرینز نے بھرپور مزاحمت کی لیکن وہ مکمل طور پر گھیرے میں آچکے تھے۔ منصوبہ اور آپریشن ناکام ہوتا دیکھ کر صرف فضا میں موجود ہیلی کاپٹر نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اندھا ہیلی کاپٹر زیادہ دور نہ جا سکا، اسے بھی گرا لیا گیا۔ زمینی لڑائی لڑنے والوں میں تین سو تیس 330 مارے گئے جبکہ دو سو ستر امریکی فوجی قیدی بنا لئے گئے، بعدازاں مختلف ذرائع نے معرکے کی کوئی تفصیل تو نہ بتائی لیکن یہ ضرور بتایا کہ دو سو ستر امریکی فوجی ایران کی قید میں ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے جس اطمینان سے اپنے انٹرویو میں امریکی قیدیوں کا ذکر کیا تھا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایرانی فوج کو کوئی بہت بڑی کامیابی نصیب ہوئی تھی۔ آٹھ ہیلی کاپٹروں اور چھ سو میرینز میں سے کوئی واپس اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچا تو امریکی صدر اور آپریشن کے منصوبہ ساز ہکا بکا رہ گئے۔ ایرانی افزودہ یورینیم کی ٹرافی انہیں نہ مل سکی اور انہوں نے مختلف حیلوں بہانوں سے جنگ بندی اور جنگ سے نکلنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ جنگ کا سب سے بڑا اور اہم معرکہ امریکہ کا منہ کالا کر گیا ہے۔
جاری جنگ کا اہم ترین معرکہ
09:08 AM, 3 Apr, 2026