گزشتہ تین اقساط میں صیہونی افکار پر بحث کے بعد ہم اس کے اغراض و مقاصد اور اسباب کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ صیہونی سیاسی نظام کیا ہے اور یہ کیسے کامیاب ہو سکتا ہے اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم ہنری فورڈ کی کتاب "دی انٹرنیشنل جیو" دیکھیں تو اس میں کہا گیا تھا کہ یہودی دنیا کو پس پردہ رہ کر چلانا چاہتے ہیں۔
پس پردہ رہ کر چلانے والی نفسیات استعماری قوتوں کا پہلا حربہ ہوتی ہے۔ یہ ایسے مقاصد کے حصول کا واحد وسیلہ ہوتی ہیں جنھیں عام لوگوں کے سامنے پیش نہ کیا جا سکتا ہو۔ دنیا میں عام لوگ آج بھی متوسط یا غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس اکثریت کے سامنے وہ اہداف کھل کر پیش نہیں کیے جا سکتے جن میں ان ہی کا استحصال کیا جانا ہو اور ان پر بالواسطہ حاکمیت قائم کرنا ہو۔
ظاہر ہے کہ یہ اتنا آسان کام نہیں ہے۔ اس منصوبے کی کئی شاخیں ہیں۔ یعنی صیہونی سیاسی بالادستی کو قائم کرنے کے لیے نئے فلسفے اور نئی ٹیکنالوجی کی ضرورت تھی۔
فلسفہ وہ درکار تھا جو نظام زندگی کے کم و بیش تمام پہلوﺅں کا احاطہ کرے ۔ اس کے لیے یہ طے کیا گیا کہ عالمی ابلاغی ذرائع اس فلسفے کی بالواسطہ تشریح کریں گے۔ یہ ابلاغی ذرائع نیا لسانی ڈھانچہ ترتیب دیں گے جو اپنی جدید اصطلاحات کی مدد سے زندگی کے مخصوص نظریے کو فروغ دے گا۔ ایسا نظریہ جو اس معاشی، معاشرتی اور سیاسی سسٹم کی حمایت کرے یا کم از کم اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہ کرے۔
ابلاغی نظام کو قابو کرنا دنیا میں صیہونی بیانیے کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔ اس کے لیے ٹیکنالوجی تیار کرنا اور اس ٹیکنالوجی پر اجارہ داری قائم کرنا بھی بے حد ضروری تھا۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ تکنیکی اور سائنسی طور پر ٹیکنالوجی، اس کی تیاری کے لیے مطلوبہ اشیا اور ماہرین کم یاب ہوں گے اور صرف صیہونی قوتوں کے زیر نگرانی کام کریں گے۔ ان کی دریافت اور ایجاد کردہ چیزیں باقی دنیا کے لیے کم از کم نصف صدی کے بعد دستیاب ہو سکیں گی۔ جب دنیا اس ٹیکنالوجی کی پیروی کرنے لگے گی تب تک یہ نظام کئی نئی دنیاﺅں کی بنیاد رکھ چکا ہو گا۔ دنیا کی اکثریت کا وجود ماضی کا ترجمان ہو گا اور نئی دنیاﺅں میں اس کا سفر صیہونی ٹیکنالوجی اور صیہونی نظام کے مرہون منت ہو گا۔
سوال یہ بھی تھا کہ دنیا کو اس نئے طرز زندگی کی ضرورت دنیا کو کیوں پڑے گی؟ ۔
یہ کام جدید فلسفوں اور نظریات کی بدولت انجام دیا جائے گا۔ یہ نیا طرز زندگی اعلیٰ اور ادنیٰ کے نئے معیارات قائم کرے گا۔ پہننے اوڑھنے ، کھانے پینے، ملنے جلنے کے معیارات اونچ نیچ کو واضح کرنے کے لیے قائم کیے جائیں گے۔ تمام زیر استعمال چیزوں میں افادیت سے زیادہ یہی اونچ نیچ کے معیارات اہم بنا دیئے جائیں گے۔ مشاغل، کھیل اور رسومات میں بھی انھی معیارات کو مد نظر رکھا جائے گا۔ ان کی پروموشن کے لیے کس قدر اہتمام کیا جاتا رہا ہے اس کا اندازہ آپ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے لگائیں۔ آپ کو ایک عام سی گاڑی سے لے کر مہنگی سے مہنگی گاڑی میں بھی سگریٹ پینے کا خصوصی بندو بست ملے گا۔ گاڑی میں ایک خطرناک اور غیر ضروری سرگرمی کا اتنا خاص اہتمام ؟؟؟ایسے تمام مشاغل ایک خاص کلاس کا حصہ بنا کر زندگی میں داخل کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں قابل غور بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی سگریٹ پینے کے مشغلے کو سپورٹ کرتی ہے لیکن اس کی جگہ کسی بھی ایسی ریاضت کے لیے سازگار نہیں ہے جو اس خاص کلچر کا حصہ نہ ہو پھر چاہے کوئی سرگرمی انسانی زندگی کے لیے کتنی ہی اہم اور مفید کیوں نہ ہو۔
اس نئے فلسفے نے نئے معیارات کے طفیل جو ہدف بڑی آسانی سے حاصل کیا ہے وہ غیر اہم چیزوں اور معاملات کو اہم بنا کر پیش کرنا ہے۔ یوں اہم اور ضروری چیزیں اپنی خصوصیات سمیت زندگی سے لا تعلق ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس نئی صورت حال میں انسان کی حیثیت ایک ایلین کی سی ہوجاتی ہے جسے ہر قدم پر رہنمائی کے لیے اسی نئے فلسفے سے اشتہارات تلاش کرنا پڑتے ہیں۔ اس سکیم کے طفیل غیر محسوس طریقے سے اچھائی برائی کے کلاسیکی معیارات بھی زندگی سے لاتعلق ہو کر رہ جائیں گے۔ یا بہت ہی محدود ہو جائیں گے۔ روایت پسند لوگ چاہ کر بھی ان کا اطلاق نہیں کر پائیں گے۔ ممکن ہے کہ اچھائی برائی کے محدود تصورات کو بنیادی ماخذ قرار دے کر ان کا نئی جہات پر اطلاق کرنے کی کوشش کی جائے لیکن یہ کوشش کتنی لا یعنی ثابت ہوتی ہے اس کا ثبوت آپ کو روزمرہ کی کئی مثالوں کی مدد سے مل جاتا ہے۔ (جاری ہے)
صیہونیت کی مبادیات
09:07 AM, 3 Apr, 2026