ایران امریکہ جنگ 

09:39 AM, 3 Sep, 2026

بخدا اس موضوع پر دوبارہ لکھنے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں تھا 29اگست کو اسی موضوع پر کالم شائع ہو چکا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس کالم کا عنوان یقینا وہی ہے لیکن یہ کالم بالکل ایک علیحدہ پہلو سے ہے ۔ کافی دن گذر چکے تھے لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی نئی جھڑپ نہیں ہوئی تھی اور یقین جانیں کہ ہمیں اس بات پر حیرت تھی اور ہمیں انتظار تھا کہ نئی جھڑپ کب ہوتی ہے اور یہ بھی یقین تھا کہ اس کا سبب ایران ہی بنے گا اور پھر وہی ہوا کہ ہماری توقعات کے مطابق 30 اور31اگست کی درمیانی رات کو ٹی وی دیکھ رہے تھے کہ اچانک خبریں آنا شروع ہوئیں کہ امریکہ نے ایران کے جزیرے لارک پر حملہ کر دیا ہے اور اس کے دو میزائل لانچر تباہ کر دیئے ہیں ۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی مختلف خلیجی ممالک میں امریکن فوجی اڈوں پر میزائل فائر کردیئے ۔ قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ ہمیں ایران امریکہ کے درمیان کسی نئی جھڑپ کا انتظار کیوں تھا تو عرض ہے کہ جب پہلی بار جنگ بندی ہوئی تھی تو ایران کی جانب سے ایک بحری جہاز کو میزائلز کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد کئی دنوں تک پھر جنگ ہوئی تھی۔ ایران نے جس بحری جہاز کو نشانہ بنایا تھا وہ کوئی بہت زیادہ ضروری نہیں تھا بلکہ معروف جنگی حکمت عمل کے تحت اور خاص طور پر جو جنگ بندی چاہتے ہیں ان کے لئے اس عمل سے گریز کیا جا سکتا تھا ۔ بہر حال ہمیں بھی دیگر بہت سے لوگوں کی طرح ایران کے اس عمل پر حیرت ہوئی لیکن پھر جب معاملات آگے بڑھتے گئے تو ہمیں ایران کی حکمت عملی سمجھ آتی چلی گئی اور یقین کریں کہ یہ وہی حکمت عملی ہے کہ جسے زرداری صاحب نے کہا تھا کہ ” جمہوریت بہترین انتقام ہے “ اور ایران ڈونلڈ ٹرمپ سے جمہوریت کے ذریعے انتقام کی حکمت عملی بنا چکا ہے اور وہ اسی پر عمل پیرا ہے اور یہ حکمت عملی اتنی بہترین ہے کہ جس کا اندازہ ٹرمپ کو بھی ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ میدان جنگ میں ناکام ہونے کے بعد اب ایران کو معاشی میدان میں شکست دینے کی راہ پر گامزن ہے لیکن قوی امید ہے کہ اس میں بھی ناکام رہے گا ۔
 ایران کی اس حکمت عملی کے تحت لازم ہے کہ جنگ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات تک چلے اور جس دن یہ کالم شائع ہو گا یعنی 3ستمبر کو تو اس کے ٹھیک دو ماہ بعد یعنی 3نومبر کو امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہوں گے اور اس دن امریکہ کے سینٹ اور ایوان نمائندگان کے الیکشن ہیں اور دونوں ایوانوں کے ارکان کو عوام اپنے ووٹوں سے براہ راست منتخب کریں گے ۔ بڑی مختصر سی تفصیل ان انتخابات اور طریقہ کار کی تاکہ آپ کو ایران کے ” جمہوریت بہترین انتقام ہے“ کی سمجھ آ سکے ۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان کی کل435نشستیں ہیں اور ہر دو سال بعد ان تمام نشستوں پر الیکشن ہوتے ہیں ۔ اس وقت امریکن ایوان نمائندگان میں پارٹی پوزیشن یہ ہے کہ ریپبلکن پارٹی کی کل 218نشستیں ہیں جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کی 212نشستیں ہیںاور 4نشستیں خالی ہیں ہے ۔ اسی طرح 3نومبر کو سینٹ کے ایک تہائی ارکان کا براہ راست انتخاب ہو گا ۔ سینٹ میں اس وقت پارٹی پوزیشن یہ ہے کل 100سیٹوں میں سے ریپبلکن پارٹی کی 53جبکہ ڈیمو کریٹک پارٹی کی 45اور2آزاد ہیں جو ڈیمو کریٹس کے ساتھ ہی ہوتے ہیں ۔ پارٹی پوزیشن سے قارئین کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ امریکہ کے ایوان نمائندگان اور سینٹ میں ریپبلکن پارٹی یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کو کوئی بہت زیادہ مارجن کے ساتھ اکثریت حاصل نہیں ہے بلکہ دونوں جگہ پارٹی پوزیشن انتہائی نازک ہے ۔ دوسری طرف امریکہ میں ہونے والے تمام عوامی سروے اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کے عوامی مقبولیت کے گراف کو کم ترین سطح پر بتا رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ کچھ بھی ہو چاہے میدان جنگ ہو یا معاشی میدان ایران کو کسی بھی طرح گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں تاکہ دو ماہ بعد ہونے والے انتخابات سے پہلے وہ ایک مفتوح نہیں بلکہ فاتح کے طور پر امریکن عوام کے سامنے آئیں اور اس کے علاوہ ان کی مقبولیت کو بڑھانے کا کوئی اور ذریعہ بن نہیں سکتا لیکن کوئی مانے یا نہ مانے ٹرمپ اس وقت بری طرح سے پھنس چکا ہے اور ایران بار بار اسے ٹریپ کر کے پھر جنگ کی طرف لے آتا ہے تاکہ جو ماحول ٹھنڈا ہو کر مذاکرات کی طرف جا رہا ہوتا ہے اسے ایران دوبارہ گرم کر کے مذاکرات سے دور لے جاتا ہے ۔ اب امریکہ نے ایرانی جزیرے لارک پر حملہ کر کے جنگ کے ایک اور دور کی شروعات کر دی ہیں ۔ یہ دور ایک دن چلتا ہے یا دس دن اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن امریکہ کے لارک پر میزائل فائر کرنے سے ماحول میں ایک بار پھر جو تلخی آ چکی ہے اصل بات یہ ہے کہ اسے دور ہوتے ہوئے مزید کتنا وقت لگتا ہے۔
اب ایک تو ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر اس پر مزید ستم یہ کہ ہماری رائے میں ایران امریکہ کو اگلے دو ماہ کچھ اس طرح سے جنگ میں الجھائے رکھے گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ شاید ڈھنگ سے اپنی الیکشن کمپین بھی نہ چلا سکیں ۔ اس صورت حال میں اگر الیکشن ہوتے ہیں تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ریپبلکن پارٹی سینٹ اور ایوان نمائندگان دونوں جگہ اپنی اکثریت کھو دے گی ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بے بس صدر کے طور پر اپنے اگلے دو سال کا عرصہ گذاریں گے کیونکہ ” جمہوریت بہترین انتقام ہے “ ۔ (ختم شد)

مزیدخبریں