پاکستان کرپٹو مارکیٹ میں دنیا میں تیسرے نمبر پر آگیا

12:06 PM, 2 Sep, 2026

اسلام آباد : پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کی بڑی کرپٹو مارکیٹس میں شامل ہوچکا ہے اور ملک میں تقریباً 4 کروڑ افراد کے کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس موجود ہیں۔

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے بلال بن ثاقب نے کہا کہ عالمی سطح پر روایتی مالیاتی نظام تیزی سے ڈیجیٹل شکل اختیار کررہا ہے اور کئی ممالک ورچوئل اثاثوں اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو اپنے مالیاتی نظام کا حصہ بنا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دبئی، تھائی لینڈ اور سنگاپور سمیت مختلف ممالک ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ ہانگ کانگ میں بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے بانڈز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔

بلال بن ثاقب کے مطابق پاکستان میں کرپٹو استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً 4 کروڑ ہے، جبکہ فعال ٹیکس دہندگان کی تعداد 60 لاکھ کے قریب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا ایک اہم مقصد ڈیجیٹل اثاثوں سے وابستہ افراد کو باقاعدہ ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے۔

چیئرمین ویرا نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر پابندی لگانے کے بجائے اسے مناسب قوانین کے تحت ریگولیٹ کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ملک کے نوجوان ڈیجیٹل کرنسی کو سمجھ رہے ہیں اور معاشی خودمختاری کے لیے نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 5 ستمبر کے بعد غیر قانونی ڈیجیٹل کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ ان کے مطابق بائننس اور ایچ ٹی ایس نے بھی ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی سے این او سی کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں۔

بلال بن ثاقب نے بتایا کہ اتھارٹی میں مستقل عملے کی بھرتی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ بجٹ میں سے اب تک تقریباً 8 فیصد رقم خرچ کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اسلامی فنانس کے شعبے میں ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بیرون ملک سے پاکستان آنے والی ترسیلاتِ زر کو بھی مستقبل میں ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

قائمہ کمیٹی نے معاملے پر مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کو دوبارہ بریفنگ دینے کی ہدایت کردی۔

مزیدخبریں