پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے ملک میں صدارتی طرز حکومت کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو بہتر نظم و نسق کے لیے نئے صوبوں اور بڑے منصوبوں پر کھلے دل سے بات کرنی چاہیے۔
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ صرف اے این پی کو کالا باغ ڈیم پر اعتراض ہے، باقی خیبرپختونخوا میں اس منصوبے پر زیادہ مخالفت نہیں۔ "جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ ڈیم ہماری لاشوں پر بنے گا، وہ صرف سیاست چمکا رہے ہیں۔"
ان کا کہنا تھا کہ ریاستی مفاد کو ذاتی یا جماعتی سیاست سے بالاتر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالا باغ ڈیم قومی مفاد میں ہے، اور اگر ماضی میں منگلا ڈیم کے متاثرین کو متبادل جگہیں دی جا سکتی تھیں، تو یہاں بھی تمام تحفظات دور کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں ایک اجلاس میں انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ کالا باغ ڈیم کو نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں، یہ ملک کی واٹر پالیسی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے فلاحی منصوبے صوبوں کے حوالے کیے جائیں، تاکہ ہر خاندان کو پانچ لاکھ روپے دیے جا سکیں اور وہ چھوٹا کاروبار شروع کر کے خود کفیل ہو سکیں۔ "یہ امداد کا نظام صرف لوگوں کی تعداد بڑھا رہا ہے، انہیں با اختیار نہیں بنا رہا۔"
انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے بڑے ملک کو صرف چار صوبوں کے ساتھ چلانا غیر متوازن انتظام ہے، اور اگر مزید صوبے بنائے جائیں تو انتظامی بہتری ممکن ہو سکتی ہے۔
صدارتی نظام پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وقت کی ضرورت کے مطابق ایسا نظام اختیار کیا جانا چاہیے جو ملک کے لیے بہتر ہو، اور صدارتی نظام ایک قابل غور آپشن ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی پر تنقید کرتے ہوئے گنڈا پور نے کہا کہ "وہ اب بھی پارٹی ورکر کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ یہ طرز عمل نامناسب ہے، لیکن وہ نہیں مان رہے۔ گورنر ہاؤس صوبائی حکومت کا حصہ ہے اور وہ اس عہدے پر میری وجہ سے ہیں۔"