بھارت میں برہمنوں کی عددی اقلیت، مگر اقتدار پر اکثریتی گرفت

02:58 PM, 2 Sep, 2025

نئی دہلی : بھارت میں ذات پات کے ڈھانچے پر مبنی طاقت کی تقسیم ایک بار پھر زیرِ بحث ہے، جب ایک حالیہ انفوگرافک نے انکشاف کیا ہے کہ برہمن برادری، جو ملک کی مجموعی آبادی کا محض 3 سے 5 فیصد ہے، اہم سرکاری، عدالتی اور سیاسی اداروں میں غیر متناسب نمائندگی رکھتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، برہمن افراد نے تاریخی طور پر ایسے کلیدی عہدوں پر اپنی موجودگی قائم رکھی ہے جو ملک کی پالیسی سازی، انصاف اور بیوروکریسی کے ستون سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں صدر، وزیرِاعظم، چیف جسٹس، اعلیٰ سفارت کار اور سینئر سول افسران شامل ہیں۔

ماہرین اس صورت حال کو "برہمنوکریسی" کا نام دیتے ہیں۔ایک ایسا غیر رسمی نظام جس میں فیصلہ ساز پوزیشنز پر مسلسل ایک مخصوص ذات کا غلبہ قائم ہے، جو جمہوری توازن اور سماجی مساوات پر سوالات اٹھاتا ہے۔

سماجی تنظیموں اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف تاریخی مراعات کا تسلسل ہے بلکہ اس سے بھارت میں ذات پات پر مبنی رکاوٹوں کو مزید تقویت ملتی ہے، جس کا خمیازہ نچلی ذاتوں اور پسماندہ طبقات کو بھگتنا پڑتا ہے۔

مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اور ادارے نمائندگی میں توازن قائم کرنے کے لیے فوری اصلاحات پر غور کریں، تاکہ جمہوریت صرف ووٹ تک محدود نہ رہے بلکہ اقتدار میں بھی سب کو برابر کا حصہ ملے۔

مزیدخبریں