بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، پنجاب کے کئی اضلاع میں سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا

09:42 AM, 2 Sep, 2025

لاہور : بھارت نے دریائے ستلج میں اضافی پانی چھوڑ دیا ہے جس کی اطلاع انڈس واٹر کمیشن کی بجائے غلط ذرائع سے پاکستان کو دی گئی۔ اس کے باعث پنجاب کے 9 اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور راوی، ستلج اور چناب میں 5 ستمبر تک شدید سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اب تک پنجاب کے 24 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہو چکے ہیں، جن میں سے 9 لاکھ سے زائد لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں میں 41 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ہزاروں دیہات زیر آب آ چکے ہیں، فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور مال مویشی کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔

ملتان میں دریائے چناب کے ہیڈ محمد والا مقام پر بہت بڑا سیلابی ریلہ داخل ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے کئی دیہات پانی میں ڈوب گئے ہیں اور وہاں کے لوگ محفوظ جگہوں پر منتقل کیے جا رہے ہیں۔ بند بوسن کے قریب پانی کی سطح بہت بڑھ گئی ہے اور خطرناک حد تک سیلاب کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

دریائے ستلج کے مختلف علاقوں میں بھی پانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، جس سے قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر، پاکتان، وہاڑی، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفر گڑھ کے کئی علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ ہزاروں دیہات اور فصلیں پانی میں ڈوب چکی ہیں اور رابطہ سڑکیں بھی بند ہو گئی ہیں۔

سیلابی پانی کی وجہ سے لاہور سے فیصل آباد تک مین جی ٹی روڈ بھی ٹوٹ گئی ہے جس کی وجہ سے اس راستے پر چلنے والی ٹریفک مکمل بند ہے۔

چنیوٹ میں بھی 141 دیہات اور 2 لاکھ سے زائد لوگ سیلاب سے متاثر ہیں۔ سندھ میں بھی سکھر، کوٹری اور گڈو بیراج کے علاقوں میں پانی کا بہاؤ بڑھا ہے، مگر وہاں کے لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر تیار نہیں۔

سیلاب کی وجہ سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے، خاص طور پر پولیو اور دیگر وبائی امراض کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

دریائے چناب کا سیلابی ریلہ اب سیالکوٹ، وزیرآباد، چنیوٹ اور جھنگ سے ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے جہاں سینکڑوں دیہات پانی میں ڈوب چکے ہیں اور لاکھوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔

ملتان میں شہر کو بچانے کے لیے حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں، جس میں ڈائنا مائٹ نصب کی گئی ہے تاکہ اگر ضرورت پڑی تو سیلاب کو روکنے کے لیے بند پر شگاف ڈالا جا سکے۔

محکمہ موسمیات اور ریلیف کمشنر نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگلے چند دنوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس سے لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات میں سیلاب کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

مزیدخبریں