نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ اور ایس ایم تنویر کامعرکہ معیشت

09:20 AM, 2 Sep, 2025

پاکستان میںنئے صوبوں  کے قیام کا مطالبہ پھر سے زور پکڑ گیا ہے۔اور اس بار یہ مطالبہ پاکستان کی معیشت کو مضبوطی کی جانب گامزن کرنے والی بزنس کمیونٹی کے رہنما اور یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی)کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے کیا ہے۔میں نے پچھلے دنوں اسلام آباد اور لاہور کا دورہ کیا جہاں میری خصوصی ملاقات ایس ایم تنویر، ایف پی سی سی آئی کے صدرعاطف اکرام شیخ،راولپنڈی چیمبر کے صدرعثمان شوکت اور سینئررہنما خورشید برلاس،اسلام آباد چیمبر کے سابق صدور ظفر بختاوری اور احسن بختاوری، لاہور چیمبر میں برسراقتدار گروپ کے سربراہ انجم نثار سمیت دیگر اہم شخصیات سے ہوئی ۔کاروباری برادری نے وسیع پیمانے پر اقتصادی اور انتظامی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور اقتصادی ڈھانچے کی بنیادی سطح پر تنظیم نو کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان اپنی ترقی کی مکمل صلاحیت بروئے کار لا سکے۔ ایس ایم تنویر نے کراچی،اسلام آباد اور لاہور میں الگ الگ پریس کانفرنسز میں  ایک جامع وژن پیش کیا جس کا مقصد ملکی معیشت کو نئی جان دینا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان کا ہر انتظامی صوبہ پانچ ارب ڈالر کی برآمدات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے قومی سطح پر دو سو ارب ڈالر کا امکان ظاہر ہوتا ہے، جو موجودہ برآمدات کے حجم کا چار گنا ہے،یعنی وہ یہ واضح کررہے کہ ملک میں نئے صوبے نہ بننے سے ملک معاشی طور سے بے پناہ کمزور ہوا ہے۔اگر ہم ان کی اس بات کا موازنہ بنگلہ دیش کی معیشت سے کریں تو ہم ندامت سے سرجھکا لیتے ہیں کیونکہ مشرقی پاکستان جب 26مارچ1971ء میں پاکستان سے الگ ہو کربنگلہ دیش بنا تو کچھ عناصر یہ کہتے دکھائی دیئے کہ بنگلہ دیش میں تو سیلاب آتے ہیں وہ ملک نہیں چل سکے گا مگر جب سے بنگلہ دیش کا وجود ہوا اس وقت سے آج تک سیلاب نے تو وہاں تباہی نہیں مچائی البتہ وہاں کی معیشت پاکستان سے کہیں آگے نکل گئی اور آج ہماری کرنسی کا بنگلہ دیشی کرنسی کے مقابلہ یہ حال ہے کہ پاکستان کے2316روپے کے مقابلے میں 1000روپے بنگلہ دیشی ٹکہ ملتے ہیں۔ تو میں بات کررہا تھا کہ ایس ایم تنویر نے نے بھی یہی تجویز دی کہ اگر نئے انتظامی صوبے بن جائیں تو پاکستان معاشی جنگ لڑتے ہوئے ملکی ایکسپورٹ کو 100ارب ڈالر تک لے جاسکتا ہے لیکن موجودہ اقتصادی ڈھانچہ بغیر جرأت مندانہ اصلاحات اور جدت، خاص طور پر ضلعی سطح پر غیر مستحکم ہے، شعبہ وار اور مقامی معیشت کی طرف تبدیلی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے اور کوششیں علاقائی صنعتوں کو بااختیار بنانے اور بنیادی سطح کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر مرکوز ہیں۔مزید صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے قیام کا مطالبہ اس لئے کیا کہ چھوٹے اور خودمختار علاقے معیشتی ترقی کو بہتر طور پر فروغ دے سکیں۔ایس ایم تنویر نے کہا کہ ڈویژنوں کی صوبوں میں تبدیلی سے مؤثر حکمرانی اور معاشی انتظام بہتر ہوگا، عوام کو نچلی سطح پر بااختیار بنائے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں، ڈویژنوں کو صوبوں میں تبدیل کرنے سے مؤثر حکمرانی اور معاشی انتظام میں بہتری آئے گی جبکہ اس اقدام سے ملک کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کیا جا سکتا ہے اور خاطر خواہ ترقی ممکن ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے  پاکستان کی ترقی کے امکانات کو لاحق نقصان کو کم کرنے کے لیے پانی کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا اور واضح طور سے کہا کہ ملک میں اس وقت ڈیمز کی تعمیر انتہائی ضروری ہے،انہوں نے 2030ء تک ملک کی برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے رہنمائی منصوبہ پیش کیا۔ راولپنڈی چیمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری (آرسی سی آئی)کے صدر عثمان شوکت نے بھی نئے صوبوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبے بننے چاہئیں، نچلی سطح پر اختیارات پر منتقلی کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے، ماضی میں کراچی کی نظامت مصطفی کمال کے پاس تھی تو اس کے دور میں ناظم شہرقائد میں بہت زیادہ ترقیاتی کام ہوئے ،تمام امور ڈی سینٹرلائز ہونا چاہئیں تو معاملات بہتر ہوں گے۔
اگر ہم ماضی کے جھرونکوں میں جاھنک لیں تو ہمیں علم ہوگا کہ پاکستان میں دفتاً فوقتاً نئے صوبوں کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں، جنوبی پنجاب صوبہ تحریک کا مطالبہ سرائیکی زبان اور ثقافت کی شناخت کے گرد گھومتا ہے۔ اسی طرح سندھ میں شہری اور دیہی تقسیم کے باعث ’’جنوبی سندھ صوبہ‘‘ کی بحث سامنے آ تی رہی ہے ۔بلوچستان میں بھی براہوی، پشتو اور بلوچی زبانوں کو ان کا اصل مقام دینے کا مطالبہ بھی کئی بار زور پکڑتا رہا ہے۔اور پاکستان میں بارہا کبھی سرائیکی صوبہ تو کبھی ہزارہ صوبہ، کبھی سندھ میں دوصوبے بنانے کی آوازیں بلند ہوئیں توکبھی کے پی کے میں بھی دوصوبے بنانے کے مطالبات سامنے آئے ، سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے بنانے سے ملک کمزور ہوگا یاپھر مضبوطی کی جانب رواں دواں ہوجائے گا۔ عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ نئے صوبوں پر عوام کہیں بھی تقسیم دکھائی نہیں دیتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ نئے صوبے بنیں،ملک میں نئے ڈیمز بنیں تاکہ پاکستان میں وسائل کو جس بے دردی کے ساتھ لوٹا جارہا ہے،اس کی روک تھام ہو،سیلاب سے تباہ کاریاں کم ہوں اور پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیم ملک میں ہوں۔پاکستان کے عوام چاہتے ہیں لیکن سوال یہ کہ وہ کون لوگ ہیں جو نہیں چاہتے کہ ملک میں نئے صوبے بنیں یا ملک میں نئے ڈیمز بنیں،میں سمجھتا ہوں کہ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ملک کو کمزورکرنے والے وہ تمام اشخاص چاہے وہ سیاستدان ہوں یا بیوروکریٹس یا پھر دیگر کسی بھی شعبے میں یہ عناصر موجود ہوں ،وہ ہر اس اقدام کی مخالفت کرتے اور اس کے خلاف لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی دھمکیاں دیتے ہیں جس سے انکے ذاتی مفادات پر ضرب لگے۔پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے سب سے پہلا بل 2019ء میں ایم کیو ایم کی ایک خاتون ممبرقومی اسمبلی نے  50فیصد سے زائداراکین اسمبلی حمایت سے اسمبلی میں پیش کیا تھا اور ظاہر تھا اس کا فائدہ صرف زبان بولنے والی قوم کو نہیں بلکہ صوبے میں رہنے والے تمام ہی زبانیں بولنے والوں کو ہوتا۔  میرے خیال میں ملک کا نظم ونسق سنبھالے ہوئے چاہے وہ صدر ہوں یا وزیراعظم اور چاہے ہمارے لئے انتہائی قابل احترام فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہوں۔انہیں نئے صوبوں یا ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے کسی کی بھی مخالفت کو خاطر میں لائے بغیر ملک کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کرنے چاہئیں ،(باقی صفحہ 4 بقیہ نمبر1)
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے جرأ ت مندانہ فیصلوں سے صرف پاکستانی عوام کے ہی دل نہیں جیتے بلکہ دنیا بھر میں انہیںعزت ووقار سے دیکھا جارہا ہے جبکہ امرکی ٹرمپ تو انکے گرویدہ ہوچکے ہیں۔مثبت اقدامات سے پاکستان کی معیشت استحکام کے مرحلے سے نکل کرپائیداراصلاحات کے دورمیں داخل ہورہی ہے،پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی گروتھ 2.7 فیصدہے جبکہ فی کس آمدنی میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ اب 1,824 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 14 سال بعد کرنٹ اکا ئونٹ میں 2.1 ارب ڈالرکا سرپلس ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 22 سال کی بلند ترین سطح ہے، اگرچہ یہ کامیابیاں خوش آئند ہیں لیکن حالیہ سیلاب کی تباہ کاریاں معیشت کے لیے خطرناک رخ اختیار کر رہی ہیں جن کے ازالے کے لیے معاشی اصلاحات کے حقیقی ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے موثر حکمتِ عملی ضروری ہے اور صدر،وزیراعظم،فیلڈ مارشل پاکستان کو نقصانات سے بچانے اور معیشت کی مضبوطی کیلئے ملکر نئے صوبے بنانے اورنئے ڈیمزکی تعمیر کیلئے فیصلے کریں ،پوری قوم ان کے ساتھ ہے جبکہ ایس ایم تنویر کی قیادت میں کاروباری برادری بھی قدم ملا کر ساتھ دینے کا عزم رکھتی ہے۔ اور آخر میں کشور زہر ہ کے ایک مضمون کا یہ پیراگراف میرے دل میں گھر کرگیا کہ  نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، ملک کی باگ ڈور اب انہوں نے ہی سنبھالنی ہیں، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ نئی نسل کے لیے ایک چیلنج تو یہ ہے کہ شہروں میں رہنے والے بچے نہ صرف قومی زبان بلکہ اپنی مادری زبان کو ثانوی حیثیت دینے لگے ہیں، اگر صوبے اور ریاستی ادارے ان زبانوں کو تعلیمی نصاب، میڈیا اور ٹیکنالوجی کے ذریعے فروغ دیتے تو ان کی اہمیت پہلے سے بھی زیادہ بلکہ عالمی سطح پر یعنی گوگل اور دیگر سوشل میڈیا پر بھی ان کا راج ہوتا۔یہی زبانیں ہیں جو اس ملک کی اصل شناخت اور معاشرتی ڈھانچے کو زندگی بخشتی ہیں، اگر ہم ان زبانوں کو تحفظ دیں گے، نئے صوبوں کو ان کی ثقافتی بنیادوں پر منظم کریں گے اور ہر قومیت کو عزت دیں گے تو پاکستان ایک ہم آہنگ، پُرعزم اور خوشبودار گلدستہ بن کر دنیا میں اپنی منفرد پہچان بناسکے گا۔ 

مزیدخبریں