قرآنِ عظیم! کائنات کا واحد زندہ معجزہ

09:19 AM, 2 Sep, 2025

قرآن مجید محض الفاظ کا ذخیرہ نہیں بلکہ وہ آسمانی روشنی ہے جس نے انسانیت کے اندھیروں کو اجالا بخشا۔ ربِ کائنات نے اعلان فرمایا: ’’ہم نے ہی قرآن اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں‘‘۔ یہ اعلان چودہ صدیوں سے اپنی پوری شان کے ساتھ قائم ہے۔ طوفان اٹھے، سلطنتیں مٹ گئیں، نظریات بدل گئے، مگر قرآن آج بھی اسی صورت میں محفوظ ہے جس صورت میں نازل ہوا تھا۔ یہ حقیقت انسانی تاریخ کا وہ زندہ معجزہ ہے جس کی کوئی نظیر نہیں۔ نبی اکرمﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو آپﷺ اسے صحابہ کو سناتے اور کاتبینِ وحی کو بتاتے کہ کس آیت کو کس سورہ میں اور کس مقام پر لکھا جائے۔ یوں قرآن ایک طرف لاکھوں سینوں میں محفوظ ہوا اور دوسری طرف چمڑے، ہڈیوں اور کھجور کی چھال پر رقم ہوتا گیا۔ تراویح اور دیگر مواقع پر قرآن اسی ترتیب کے ساتھ پڑھا جاتا تھا، جو براہِ راست رسول اللہﷺ کی نگرانی میں طے کی گئی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن کی ترتیب انسانی اجتہاد نہیں بلکہ نبوی ہدایت کا نتیجہ تھی۔ حضورﷺ کی وفات کے بعد جنگِ یمامہ میں حفاظ کی بڑی تعداد شہید ہوئی تو حضرت عمرؓ نے اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں قرآن کا کچھ حصہ ضائع نہ ہو جائے۔ انہوں نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو اس طرف متوجہ کیا۔ ابتدا میں حضرت ابو بکرؓ نے تامل کیا مگر پھر اللہ کے دین کی حفاظت کے لیے فیصلہ کیا اور حضرت زید بن ثابتؓ کو قرآن جمع کرنے کا حکم دیا۔ ہر آیت کے لیے تحریری اور زبانی گواہی لازم قرار دی گئی۔ اس غیر معمولی احتیاط سے قرآن یکجا کیا گیا اور تاریخ میں یہ نسخہ مصحفِ صدیقی کہلایا۔ اسلام کے پھیلاؤ کے ساتھ لہجے اور قرأت میں اختلاف پیدا ہوا تو حضرت عثمان غنیؓ نے فیصلہ کن قدم اٹھایا۔ ایک کمیٹی قائم ہوئی، قرآن کو معیاری شکل میں مرتب کیا گیا اور اس کے کئی مصاحف بڑے مراکز کو روانہ کیے گئے۔ باقی غیر معیاری نسخے تلف کر دئیے گئے تاکہ امت ہمیشہ ایک ہی مصحف پر قائم رہے۔ یہ اقدام قرآن کی حفاظت اور امت کی وحدت دونوں کا ضامن بنا۔ مولانا مودودی کے نزدیک اگر حضرت عثمانؓ یہ قدم نہ اٹھاتے تو امت قرأت کے اختلاف میں بٹ جاتی۔ ڈاکٹر حمید الدین بھی کہتے ہیں کہ یہ 
سب اللہ کے اس وعدے کی تکمیل تھی جو قرآن کی حفاظت کے بارے میں کیا گیا تھا۔ علامہ شبلی نعمانی نے واضح کیا کہ قرآن کی ترتیب محض ادبی یا فقہی پہلو نہیں رکھتی بلکہ ایک الہامی حکمت اور روحانی ربط رکھتی ہے۔ اگر قرآن کی ترتیب بعد میں کی گئی ہوتی تو اختلافات لازمی جنم لیتے۔ مگر چودہ سو برس گزر گئے، دنیا کے کسی گوشے میں قرآن کے ایک لفظ یا ایک نقطے کا بھی فرق نہیں۔ آج بھی آپ کسی بھی ملک میں قرآن کھولیں، وہی ترتیب، وہی آیات اور وہی الفاظ نظر آئیں گے جو رسول اللہﷺ نے صحابہؓ کو سکھائے تھے۔ یہ قرآن کی حقانیت اور اس کے زندہ معجزے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ قرآن کی حفاظت کتابت تک محدود نہیں رہی بلکہ لاکھوں مسلمانوں کے سینوں میں جاری رہی۔ ہر دور میں حفاظ نے اسے یاد کیا اور آج بھی دنیا بھر میں لاکھوں افراد کلامِ الٰہی کو زبانی یاد رکھتے ہیں۔ اگر تحریر میں کسی وقت کمی بیشی کا خدشہ ہوتا تو حفاظ اسے درست کرتے اور اگر حافظ کے تلفظ میں غلطی ہوتی تو مصحف کی کتابت اسے سدھار دیتی۔ یہ دوہرا نظام آج بھی قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔ یہی وہ زندہ کرشمہ ہے جس پر تاریخ بھی گواہ ہے اور ایمان بھی۔ حضرت ابو بکرؓ نے بنیاد رکھی، حضرت عثمانؓ نے معیار دیا اور امت نے اسے سینے سے لگا کر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا۔ قرآن آج بھی وہی زندہ اور تابندہ معجزہ ہے جس کا ہر لفظ صدیوں کی گرد جھاڑ کر یوں چمکتا ہے جیسے ابھی نازل ہوا ہو۔
عربی تو آج بھی اپنا نام بتانے میں سات نسلیں گنوا دیتے ہیں لہٰذا ان کے تواتر کی حیثیت ہے۔ میرے عزیز اور بڑے بھائیوں کا درجہ رکھنے والے دوست خواجہ عمادالدین اور دوسرے کزن ضیا الرحمن ڈار حافظ قرآن بھی تھے۔ خواجہ حافظ عماد الدین ایک باکردار، دانشور، انتہائی متقی انسان تھے۔ دوست نواز اور انصاف پرور شخصیت کے ساتھ سیاسی رہنما بھی تھے، میری ان سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ حافظ عماد الدین طالب علم رہنما اور گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ میں طلبا یونین کے صدر بھی رہے۔ خواجہ عماد ہفتے میں کم از کم دو بار مجھ سے فون پر سیر حاصل بات کرتے جن میں کام بھی زیر بحث آتے۔ انہوں نے میری بہت حوصلہ افزائی اور پذیرائی کی، اللہ کریم ان کے درجات بلند کرے۔ ایک دن مجھے کہنے لگے کہ محمد آصف عنایت بٹ صاحب، وہ حاجی محمد سعید بھٹی صاحب کی طرح پورا نام لیتے تھے، قرآن عظیم دنیا کا واحد زندہ اور موجود معجزہ ہے اور ساتھ ہی کہتے ’’میری عمر 62 سال ہو چکی، میرے استاد جن سے قرآن حفظ کیا تھا ان کی عمر 95 سال تھی جب وہ ہمارے استاد تھے اور وہ بتاتے تھے کہ ان کے استاد کی ایک سو سال سے زیادہ عمر تھی جو بتاتے تھے کہ ان کے استاد 90 سال سے زائد عمر کے تھے جن کے استاد بھی ماشاء اللہ کافی عمر والے تھے یوں 400 سال سے زائد تو میں نے ہی آپ کو بتا دیا کہ یہ من و عن سینوں میں محفوظ ہے لہٰذا 1500 سال میں جیسا تھا ویسا ہی ہے۔‘‘ قارئین حضرت عثمانؓ قرآن پڑھتے ہوئے شہید ہوئے وہ نسخہ بھی یہی تھا جو آج ہمارے گھروں میں ہے۔ اس سے بڑھ کر دنیا کی کوئی دوسری کتاب نہیں جو لوگوں کو ایک ایک حرف، ایک ایک آیت اس طرح حفظ ہو۔ اس کا ایک ایک حرف اپنے ہونے اور ہمیشہ قائم رہنے کی گواہی دے رہا ہے۔ یہ بات مجھے اس لیے کرنا پڑی کہ سوشل میڈیا ہمارے ہاں انہی خرابیوں کے ساتھ وارد ہوا ہے۔ ایک دانشور دوست نے فیس بک پر ایک مولوی کی گرفتاری پر پوسٹ لگائی، جس پر میں نے جواب دیا کہ مولوی قرآن بیان نہیں کرتے تاریخ بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ پیچیدہ مسئلہ ہے قرآن بھی تو صحابہؓ کے ذریعے ہم تک پہنچا۔ میں نے سوشل میڈیا پر یہ بات نا مناسب سمجھی ان کو بتانا چاہتا تھا کہ حدیث کا معاملہ مختلف اور اسلامی تاریخ بالکل مختلف ہیں۔ لیکن قرآن عظیم کی تدوین تو آقا کریمﷺ نے خود کر دی تھی۔ حضرت خزیمہؓ کے حوالے سے آقا کریمﷺ نے فرمایا تھا کہ اس اکیلے کی گواہی دو کے برابر ہے۔ اب اس حکمت کی سمجھ آگے چل کر آئی جب قرآن جمع ہوا تو ہر آیت کے امین دو صحابی تھے مگر ایک آیت صرف حضرت خزیمہؓ کی امانت میں تھی اور  ان کی شہادت مان لی گئی۔ حضرت عثمانؓ نے جمع قرآن نہیں، قرآن پر لوگوں کو جمع کیا یعنی کامل اتفاق کرایا۔ اس کی ترتیب آقا کریمﷺ کی ہدایت اور زبان اقدس کے مطابق ہوئی۔ احادیث اور تاریخ کے ذخیرہ میں فرق، اختلاف یا انکار ہو سکتا ہے۔ قرآن کی کوئی آیت ضعیف ہے نا اختلاف۔ لہٰذا میری ان دوست سے جو کہ علمیت میں مجھ سے بہت آگے ہیں، میں تو ان کے سامنے بے حیثیت ہوں، گزارش ہے قرآن عظیم واحد زندہ معجزہ ہے۔

مزیدخبریں