ایک ذرا سا سیلاب آنے کی دیر تھی۔ سیلاب بھی وہ جو اپنے راستوں پر آیا، جہاں راستے بستیوں میں بدل چکے تھے وہ ذرا سا حد سے تجاوز کر گیا۔اس سیلاب کو آفت کہنے والے ہر ذہن نے اپنے دماغ کے مردہ خلیے زندہ کیے اور اپنے اپنے تعصب کو اظہار تک لے آیا۔ملحد نے کہا کہ کہاں ہے بچانے والا۔؟بے نامی نے کہا کہ ہدایت دینے والے زندگی نہیں بچا سکتے۔۔؟بے موسمے بخار سے متاثرہ چیخ ابھری وظیفے اور روحانی تدبیریں دھوکا ہیں۔کمر پر بستر کا بوجھ اٹھائے دائمی مسافر چیخے باہو، داتا، بلھا، گنج شکر، فرید سب ڈوب گئے، رہ جائے گئی فقط اک ذات۔ فرائض سے آنکھ چرا کر جعلی تصوف کا رنگ اوڑھے صوفی نے زلفوں سے مٹی جھاڑی اور فرمایا اب بھی وقت ہے لوٹ آ۔۔ ہجوم دنیا میں کچھ نہیں رکھا۔ سیاست کی دکان پر بیٹھے بنیے کی پکار آئی دریا پر قبضہ تو ہمارے مخالف دھڑے نے کیا تھا۔ مبلغ کی آواز میں پہلی بار انا اور تمکنت تھی یہ سب تمہارے گناہوں کا نتیجہ ہے۔ چرچ گویا ہوئے اقلیتوں کے حقوق غصب کرو گے تو ڈوب مرو گے۔ راہب نے کہا میں تو اب بھی چپ ہوں۔ سیاسی، مذہبی اور نسلی تعصب سے متاثرہ لاشعوری کے چڑیا گھر میں سب اپنی اپنی بولیاں بولنے لگے، کسی نے یہ نہیں کہا کہ موسمی تغیرات کا مقابلہ تدبیر سے کرو اور درخت کاٹنا بند کرو، دریاؤں پر کالونیاں مت بناؤ، پل اور ہیڈ ورکس کو کھلا رکھو۔ ایک ذرا سا سیلاب آنے کی دیر تھی کہ ہر انسان کے اندر کا بغض باہر نکل کر آ گیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ہم ہر چند سال بعد آنے والی اس آفت سے سبق سیکھتے اور مزید مضبوط و منظم ہوتے، مگر ہم ہر بار ڈسے جاتے ہیں اور ایک ہی سوراخ سے ڈسے جاتے، ایک ہی انداز سے ڈسے جاتے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ہیڈ سندھنائی کے قریب، راوی دریا میں بہہ کر آنے والی بھینسوں کو ایک ازلی بھوکے شخص نے پہلے نکالا اور پھر بارہ لاکھ روپے کے عوض بیچ دیں۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ کسی لٹے پھٹے سیلاب متاثرہ شخص کی زندگی بھر کی کمائی چند دن کے لیے سنبھالتا اور پھر ان مویشیوں کے اصل مالک کا انتظار کرتا۔ راوی کنارے لاہور بنی ایک متنازع ہاؤسنگ سکیم کے نو تعمیر شدہ گھروں میں پانی داخل ہوا تو وہ اپنے پرانے گھروں کی طرف عارضی طور پر منتقل ہو گئے، تب ازلی بھوکوں نے ان کے گھروں کا صفایا کر دیا۔ سیلاب پوری طرح سے نہیں آیا مگر اصلی متاثرین کے ساتھ ساتھ جعلی مظلومین نے بھی دریاؤں کے کناروں پر ڈیرے جما لیے ہیں تاکہ کچھ بھی تقسیم ہو تو ان کی جھولی خالی نہ رہ جائے۔ سچ کہا گیا کہ آفت غریبوں کے لیے عذاب اور امیروں کے لیے کاروبار ہوتی ہے۔ اب کچھ حالات دریاؤں کے بھی دیکھ لیجئے، صوبہ پنجاب سے گزرنے والے دریائے چناب، راوی اور ستلج مختلف علاقوں میں تباہی مچاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے اب تک کم از کم 30 افراد جاں بحق جبکہ 15 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق تینوں دریا مختلف ہیڈ ورکس اور بیراجز سے گزرتے ہوئے جنوبی پنجاب اور سندھ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 1988 کے بعد ان تینوں دریاؤں میں آنے والی سب سے بڑی طغیانی ہے۔ دریائے چناب کے سیلابی ریلے سے گجرات، جھنگ ، چنیوٹ اور دیگر اضلاع میں نقصان ہوا ہے تو وہیں دریائے راوی نے لاہور شہر کے قرب میں اور اس کے مضافات میں تباہی مچائی ہے۔ ادھر دریائے ستلج بھی بپھرا ہوا ہے اور قصور سمیت دیگر ملحقہ اضلاع میں سیلابی صورتحال ہے۔ دریائے چناب کی بات کی جائے تو گجرات، حافظ آباد، پنڈی بھٹیاں، بھیرہ اور چنیوٹ سمیت مختلف علاقوں میں تباہی مچانے کے بعد اب سیلابی ریلا جھنگ اور ملتان کی جانب بڑھ رہا ہے۔ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں شدید سیلابی صورتحال برقرار ہے اور جھنگ شہر کو بچانے کے لیے وہاں واقع قدیمی ریواز پل کے بند میں شگاف ڈال دیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث دریائے چناب میں کل یعنی منگل دو ستمبر چار بجے سات سے آٹھ لاکھ کیوسک تک پانی متوقع ہے۔ حکام کے مطابق شدید سیلابی صورتحال جھنگ اور اس کے ملحقہ علاقوں کو متاثر کرے گی جس کے بعد یہ ملتان کی جانب بڑھے گا اور ہم ملتان شہر میں خود کو اس لیے محفوظ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اطراف میں کہیں دعاؤں کا حصار ہے اور ایک دریا کی طرف چھاؤنی ہے۔ کاش اس سیلاب کے چند لاکھ کیوسک چولستان کے خط بے آب کو سیراب ہی کر دیتے۔ کاش یہ آفت بھی ایک سبق دے جاتی۔
سیلاب اور خطہ بے آب
09:19 AM, 2 Sep, 2025