انسان ڈوب رہے تھے، مکان ڈھے رہے تھے، ڈور ڈنگر بہہ رہے تھے، محبتوں سے بنائے گھروں کو چھوڑ کر لوگ بچے اٹھائے محفوظ مقامات کی تلاش میں تھے، آسمان سے بارش قہر بن کر برس رہی تھی، ہمیں پالنے والے دریا، اجنبی ہو چکے تھے، بے رحم پانی نے سرحدوں کے نشانات تک مٹا دیئے تھے۔ صرف مغربی کیا مشرقی پنجاب بھی اس سیلاب کی لپیٹ میں تھا، ہر طرف ہا ہا کار مچی تھی۔ اب زلزلوں اور سیلاب کے سامنے انسان تو کھڑے نہیں ہو سکتے البتہ انسانی عقل ضرور ٹھہرتی ہے۔ کے پی کے اور کشمیر سے اترنے والی بارشوں نے پنجاب میں صف ماتم بچھا دی۔ ایمرجنسی کی حالت ہو تو ہمیں کبھی اپنی حماقتیں یاد نہیں آتیں لیکن کسی بھی آسمانی یا زمینی عذاب کی صورت میں ہم مصیبت میں گرفتار لوگوں کی مدد کرنے کے بجائے الزام تراشیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ یہ سیلاب پانی سے زیادہ نفرت کا سیلاب تھا جو ہر اُس شخص کے خلاف تھا جس نے ریاست بچانے کی کوشش کی یا پھر اپنے اداروں کے ساتھ کھڑا تھا۔ موسمی تبدیلی کی بڑی وجہ درختوں کو کاٹنا ہے اور یہ درخت کے پی کے یا کشمیر میں کاٹے گئے ہیں لیکن مجال ہے کسی نے ٹمبر مافیا کا نام لیا ہو؟ حرام ہے کسی نے پوچھا ہو کہ وہ بلین ٹری سونامی کا کیا بنا جس پر اربوں روپیہ خرچ ہوئے اور وہ درخت کہاں گئے جو موسمی تبدیلی سے پہلے صدیوں سے کے پی کے اور اور کشمیر میں موسموں کی نگہداشت میں مصروف تھے؟ موجودہ سیلاب نے ایک بات تو واضح کر دی کہ پی ٹی آئی کے یوٹیوبر کو بھارتی عقلمندوں نے ’’سیلاب کی مقدار اور رفتار‘‘ سے مکمل باخبر رکھا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سیلاب کے بارے میں ہمارے صحافیوں سے زیادہ جانتے تھے۔ سیلاب کے دوران فوج پر تنقید بھی پی ٹی آئی پیجز اور یوٹیوبر نے سرفہرست رکھی لیکن کیا یہ مسئلے کا حل ہے؟ کیا اِس طرح افواج ِ پاکستان کی محبت عوام کے دلوںسے کم کی جا سکتی ہے؟ اس مکروہ کمپین میں کے پی کے اور اوورسیز پاکستانیوں کا زیادہ ہاتھ تھا۔ عمران نیازی کی سیاست اور منزل مقصود پاکستان کے رکھوالوں کے علم میں ہے اور بھارت جیسے کمینے دشمن کو اگر گھٹنوں
پر لایا جا سکتا ہے تو ان ’’تحریکی بھگوڑوں‘‘ کی کیا اوقات رہ جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہم پیشہ دشمن۔۔۔ سو چھوٹی ہائوسنگ سوسائٹی نے بھی پی ٹی آئی منفی پروپیگنڈہ کی ندی میں ہاتھ دھوتے ہوئے یوٹبوبرز ہائر کر کے وفاقی وزیر عبد العلیم خان کی ہاؤسنگ سوسائٹی پارک ویو کے خلاف لمحہ بہ لمحہ پراپیگنڈا جاری رکھا ۔ ایسے لوگ جن کو ہم عقل اور شکل دونوں سے جانتے ہیں، پیش پیش تھے لیکن رزق تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، عزت اور ذلت بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے سو کسی لگڑ بھگڑ کے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کے پارک ویو میں بھی لوگوں کا نقصان ہوا ہے لیکن کیا اگر یہی پانی شاہدرہ اور اِس سے ملحقہ علاقے ڈبو دیتا تو پھر کسی نے گھروں کے نقصان کا ذکر نہیں کرنا تھا لیکن پراپیگنڈا کا رخ یہاں کے ایم این اے عبد العلیم خان کی طرف ضرور ہونا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ 1988ء کا سیلاب اس سے کہیں بڑا تھا لیکن اُس وقت عبد العلیم خان سیاستدان نہیں تھا اور پارک ویو اُس کی سوسائٹی نہیں تھی البتہ شاہدرہ کالا شاہ کاکو تک ڈوب گیا تھا۔ عبد العلیم خان نے سیلاب کے پہلے دن ہی نوٹس جاری کر دیا تھا کہ جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے وہ اُن کے ساتھ کھڑے ہیں اور جتنا میں عبد العلیم خان کو جانتا ہوں وہ اگر کوئی وعدہ کرے تو اُسے لازمی پورا کرے گا۔ جو شخص بغیر کسی سیلاب کے سال بھر لوگوں کے دکھ درد میں شریک رہتا ہے وہ دکھ کی گھڑی میں اپنے کلائنٹ کو کیسے تنہا چھوڑ سکتا ہے۔ پارک ویو میں عبد العلیم خان کے والدین کی قبریں ہیں اور انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں بھی کہا ہے کہ پار ک ویو صرف میرا کاروبار نہیں بلکہ میری جذباتی وابستگی ہے۔ ایک طویل عرصہ عبد العلیم خان کے ساتھ گزارنے کے بعد میں یہ بات تو انتہائی ذمہ داری سے لکھ سکتا ہوں کہ ’’یہ وقت گزر جائے گا اور دنیا دیکھے گی کہ عبد العلیم خان نے اپنے وعدے کو کیسے پورا کیا‘‘۔ عبد العلیم خان وہ واحد شخص ہے جس نے پارک ویو کے نقصانات کا ازالہ کرنے کا کہا ہے اور یہ وعدہ اُس نے میرے ساتھ نہیں کیا پوری قوم کے سامنے کیا ہے۔ یہاں سوال تو یہ پوچھنا بنتا ہے کیا کرتار پور بھی عبد العلیم خان نے ڈبو دیا؟ کیا سیالکوٹ اور گجرات بھی عبد العلیم خان کے کھاتے میں ڈالا جائے گا؟ کیا دریائوں کا بپھرنا، روڈا کی نالائقی بھی عبد العلیم خان کے کھاتے میں ڈالی جائے گی جس نے اربوں روپے بند باندھنے، جھیلیں تعمیر کرنے، سٹرکیں بنانے اور دوسرے ترقیاتی کام کرنے کے نام پر پارک ویو سے وصول کیے لیکن حرام ہے کہ کچھ بھی بنایا ہو؟ نیازی کی انتشاری قوت کے بس میں ہوتا تو وہ مشرقی پنجاب اور کے پی کے بھی عبد العلیم خان کے کھاتے میں ڈال دیتے۔ نارووال، پسرور، ننکانہ، شیحوپورہ، جھنگ، قصور ستلج، چناب اور راوی کی ساری بربادی کا ذمہ دار بھی عبد العلیم خان کو ٹھہرایا جائے گا؟ اس سے ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ فوج کے بعد عبد العلیم خان پی ٹی آئی کا واحد مخالف ہے جسے پی ٹی آئی بھی اپنا مخالف سمجھتی ہے لیکن ان باتوں سے قیدی چھوٹنے والا نہیں۔ یہ وقت سیلاب زدگان کی مدد کا ہے اور انہیں ہر وہ مدد فراہم کی جانی چاہیے جس کے وہ مستحق ہیں کہ یہ سیلاب تو گزر جائے گا لیکن اپنے پیچھے بربادی کی بہت سی نشانیاں چھوڑ جائے گا اور اصل امتحان سیلاب گزرنے کے بعد اِن لوگوں کی آباد کاری اور انہیں وبائی بیماریوں سے بچانے کے علاوہ انہیں نئے سرے سے اپنے پاؤں پرکھڑا کرنا ہے۔ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں تین ماہ کیلئے بجلی کے بل، قرضوں کی معافی اور دوسرے ٹیکسوں کے خاتمے کا اعلان کرنے کے ساتھ متاثرین سیلاب کی فوری مالی امداد کا بھی بندوبست کرے۔ افواج پاکستان نے کے پی کے اور پنجاب میں اپنے لوگوں کی جس طرح مدد کی ہے وہ بھی تاریخ کا حصہ رہے گا اور قوم اپنے بہادر بیٹوں کو اس جانفشانی سے خدمت کرنے پر سلام پیش کرتی ہے۔ ہمیں یہ پوچھنے والے کہ آپ فوج کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں؟ انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اس مٹی نے ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو تحفظ دے رکھا ہے۔ یہ پاکستان ہماری پہلی اور آخری پناہ گاہ ہے اگر اپنی فوج سے محبت نہ کی جائے تو کیا ’’را‘‘ کے ایجنٹ اور بھارت فوج کے کاسہ لیس بن کر زندگی گزاریں؟ بیوقوفوں کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ فوج تو روس اور ایران نے انقلاب کے بعد بھی رکھی ہے اور دنیا کی ہر ریاست کو رکھنا ہوتی ہے لیکن دہشتگردوں کی مدد صرف دہشتگرد ہی کر سکتے ہیں سو پاکستان کی بہادر فوج انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی لیکن یہ سیلاب گزر جائے ان کا بندوبست بھی ہونے کو ہے۔
ڈوبتی انسانیت اوربھارتی ایجنٹ
09:18 AM, 2 Sep, 2025