فائیو جی ٹیکنالوجی، دسمبر میں بڑی خوشخبری!

09:18 AM, 2 Sep, 2025

پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے مستقبل پر بات کرنا اب صرف ایک تکنیکی بحث نہیں رہی، بلکہ یہ قومی ترقی، معیشت، روزگار، برآمدات اور ڈیجیٹل خودمختاری کا ایک لازمی پہلو بن چکا ہے۔ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں فائیو جی نہ صرف تیز رفتار انٹرنیٹ کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ایک بنیادی انفراسٹرکچر ہے جو مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT)، سمارٹ سٹیز، ریموٹ سرجری، ایجوکیشن ٹیکنالوجی اور دیگر کئی ایجادات کو ممکن بناتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے جہاں نوجوان آبادی کی اکثریت ہے، فائیو جی ٹیکنالوجی صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ترقی کی کنجی بن سکتی ہے۔ آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچنا اور فری لانسرز کے ذریعے 0.7 ارب ڈالر کی آمدنی (91 فیصد اضافہ) اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں بڑی گنجائش موجود ہے۔ ان  تمام کامیابیوں کے باوجود، انفراسٹرکچر کی کمزوری، فائبرائزیشن میں تاخیر اور سپیکٹرم کی کمی جیسے مسائل فائیو جی کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ موجودہ نیٹ ورک کا 98 فیصد وائرلیس ہونا اور صرف 14 فیصد ٹاورز کا فائبر سے منسلک ہونا ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے 3 سالہ اہداف اور مقامی شراکتوں کا آغاز ہو چکا ہے، لیکن فائیو جی کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اس رفتار میں مزید تیزی کی ضرورت ہے۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کا قیام اور زراعت، صحت و تعلیم کے لیے قومی ڈیجیٹل بلیوپرنٹ، اس بات کی دلیل ہیں کہ ریاستی سطح پر ڈیجیٹل تبدیلی کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ مگر فائیو جی ٹیکنالوجی کے بغیر ان بلیوپرنٹس کی افادیت محدود رہے گی۔ زراعت میں پری سیزن فارمنگ، صحت میں ٹیلی میڈیسن اور تعلیم میں ورچوئل لرننگ جیسے تصورات فائیو جی کے بغیر مؤثر طور پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ حکومتی سطح پر سکلز پروگرام کے ذریعے تین لاکھ نوجوانوں کی تربیت اور دس لاکھ کا ہدف نہ صرف روزگار پیدا کرے گا بلکہ ڈیجیٹل سروسز میں پاکستان کی برآمدات کو بھی بڑھائے گا۔ فائیو جی ٹیکنالوجی ان سکلز کو بہتر مواقع فراہم کرے گی، خاص طور پر ایسے شعبوں میں جہاں لو لیٹنسی اور ہائی بینڈوڈتھ ضروری ہیں۔ جیسے جیسے پاکستان عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ میں داخل ہو رہا ہے، فائیو جی کے بغیر یہ مقابلہ مشکل ہوتا جائے گا۔ رائٹ آف وے کے مسائل، جن میں اسلام آباد میں سی ڈی اے کی جانب سے فیس ختم کرنا ایک خوش آئند قدم ہے، اب این ایچ اے اور ریلوے کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے تاکہ فائبر بچھانے کی لاگت کم ہو اور رفتار میں اضافہ ہو۔ فائیو جی کی کامیابی کا دارو مدار نہ صرف سپیکٹرم پر ہے بلکہ زمین پر بچھے انفراسٹرکچر پر بھی ہے۔ فائبر بیک ہال کی طرف ترجیحی منتقلی، سب میرین کیبلز کی بین الاقوامی گنجائش میں اضافہ اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے لیے اوپن سپیس پالیسی جیسے اقدامات بھی فائیو جی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق اگرچہ سیکٹر میں بہتری ہو رہی ہے مگر زیادہ آپریشنل اخراجات اور کم نرخ جیسے مسائل خدمات کے معیار کو متاثر کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 37.4 فیصد ٹیکس اور اب بھی 2G سروس کا جاری رہنا ایک اور رکاوٹ ہے۔ فائیو جی نہ صرف ان خامیوں کو دور کرے گا بلکہ صارفین کو بہتر خدمات اور صنعتوں کو مزید ڈیجیٹل مواقع فراہم کرے گا۔ فائیو جی کی ترقی کے لیے سپیکٹرم کا حصول ضروری ہے۔ نیلامی کا عمل 2023 سے جاری ہے اور دسمبر 2025 تک اس کی حتمی نیلامی کا ہدف رکھا گیا ہے۔ 600 میگا ہرٹز پر توجہ دی جا رہی ہے اور نیلامی کے تین ماہ بعد رول آٹ بھی ممکن قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت فائیو جی کے حوالے سے واضح حکمت عملی رکھتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ نیشنل رومنگ، سم سکیورٹی اور سائبر سکیورٹی جیسے ضوابط میں پیش رفت بھی فائیو جی کے عمل کو سہارا دے رہی ہے۔ ملک میں صرف چار بین الاقوامی ڈیٹا سینٹرز کا زیر استعمال ہونا، سائٹ تک فائبر پہنچانے میں مشکلات اور بجلی کی کمی جیسے مسائل بھی فائیو جی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ تاہم، ان مسائل کا حل نکالنا اب ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ فائیو جی کے بغیر نہ تو ڈیجیٹل معیشت فروغ پا سکتی ہے، نہ ہی برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔ اگر پاکستان عالمی ڈیجیٹل مقابلے میں شامل ہونا چاہتا ہے، تو انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری، ٹیک پارکس کا قیام اور کو ورکنگ سپیسز کی فراہمی جیسی سکیموں پر عمل درآمد تیز کرنا ہو گا۔ ٹرائل پالیسی جو اکتوبر 2017 میں جاری ہوئی اور 2023 سے جاری نیلامی کا عمل، اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان نے فائیو جی کے لیے ابتدائی قدم بہت پہلے اٹھا لیے تھے، مگر اب بھی سپیکٹرم کی کمی، قانونی پیچیدگیاں عمل درآمد میں تاخیر کا سبب بن رہے ہیں۔ خوش قسمتی سے، ان مسائل کی راہ میں فی الحال کوئی سٹے نہیں اور امید کی جا سکتی ہے کہ دسمبر 2025 تک سپیکٹرم کی نیلامی ہو جائے گی۔ فائیو جی ٹیکنالوجی نہ صرف انٹرنیٹ کی رفتار بڑھانے کا ذریعہ ہے، بلکہ یہ صنعتی انقلاب 4.0 کی بنیاد ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے خودکار فیکٹریز، سمارٹ سٹی منصوبے، ریموٹ سرجری اور خودکار گاڑیوں جیسے انقلابی منصوبے ممکن ہوں گے۔ یہ ٹیکنالوجی معیشت میں نئے دروازے کھولے گی، جس سے جی ڈی پی، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ آخر میں، فائیو جی پاکستان کے لیے ایک اختیار نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں پاکستان کا مقام اسی وقت بہتر ہو سکتا ہے جب وہ ٹیکنالوجی کے میدان میں خود کو جدید خطوط پر استوار کرے۔ فائیو جی نہ صرف ٹیکنالوجی کا ایک قدم ہے بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس پر مستقبل کی معیشت، تعلیم، صحت اور حکومت کی بنیاد رکھی جائے گی۔ اگر حکومت، نجی شعبہ اور نوجوان نسل مل کر اس سفر کو جاری رکھیں، تو پاکستان بہت جلد ڈیجیٹل دنیا کے نقشے پر نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔

مزیدخبریں