بیجنگ : صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ چین اب بہت بدل چکا ہے اور اس کا مستقبل نہایت روشن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 14 سال قبل جب وہ چین آئے تھے تو وہاں کا منظرنامہ بالکل مختلف تھا، مگر آج چین ایک مضبوط معیشت اور خوشحال عوام کا حامل ملک بن چکا ہے۔
چینی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں زرداری نے کہا کہ وہ کئی بار چین جا چکے ہیں اور ہر بار وہاں اپنائیت اور خوش اخلاقی کا سامنا ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو اب جنگوں کی بجائے معاشی ترقی پر توجہ دینی چاہیے اور سب کو ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا۔
صدر مملکت نے بتایا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات اب اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ تعاون خلا تک پہنچ چکا ہے۔ خاص طور پر زرعی شعبے میں چین کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے تاکہ پاکستان خود کفیل بن سکے۔ انہوں نے پانی کی بچت اور جدید طریقہ کار اپنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سرمایہ کاری اور تعاون کے بے شمار مواقع ہیں، خاص طور پر پانی کے انتظام، قدرتی آفات کی روک تھام، اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کا جغرافیائی محل وقوع بھی ان تعلقات کی اہمیت کو بڑھاتا ہے۔
صدر نے چین کو پاکستان کا "آہنی بھائی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے اور چین نے اپنی محنت اور ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
انہوں نے سی پیک کو خطے کی ترقی کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں چین کے لیے قریبی اور اہم راستے ہیں، جس سے خطے کی معاشی ترقی اور روابط میں اضافہ ہوگا۔
آخر میں صدر نے بتایا کہ چین کے تجربات کی مدد سے پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے منصوبے جاری ہیں اور ریلوے کے شعبے میں بھی چین کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔