اسرائیل کا امدادی فلوٹیلا پر حملہ، گریٹا تھنبرگ اور سابق سینیٹر مشتاق احمد گرفتار

09:27 AM, 2 Oct, 2025

یروشلم / غزہ / اسلام آباد : اسرائیلی بحریہ نے غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے عالمی قافلے "گلوبل صمود فلوٹیلا" پر کارروائی کرتے ہوئے 200 سے زائد انسانی حقوق کے کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار ہونے والوں میں سویڈن کی مشہور ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔

یہ فلوٹیلا دنیا کے 37 ممالک سے آئے ہوئے کارکنان، اراکین پارلیمنٹ، وکلاء اور سماجی رہنماؤں پر مشتمل تھا، جو 40 سے زائد کشتیوں میں سوار ہوکر ادویات اور خوراک غزہ پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا مقصد اسرائیلی محاصرے کو پرامن طریقے سے چیلنج کرنا تھا۔

فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق، اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں داخل ہو کر کئی کشتیوں کو روک لیا اور کچھ پر واٹر کینن سے حملہ کیا۔ فوجی کارروائی کے دوران کئی کارکنوں کو زبردستی گرفتار کرکے اسرائیلی بندرگاہ منتقل کیا گیا۔ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ تمام غیرملکی کارکنوں کو جلد ملک بدر کر دیا جائے گا۔

پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ ایک مبصر کشتی پر موجود سید عذیر نظامی کے مطابق، مشتاق احمد کے جہاز پر اسرائیلی فورسز نے اچانک دھاوا بولا۔

عالمی ردعمل اور احتجاج
اس واقعے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ ترکی، اسپین، برازیل، کولمبیا اور ارجنٹینا میں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ استنبول میں اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے بڑا مظاہرہ کیا گیا۔

پاکستان میں بھی اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاک-فلسطین فورم نے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کی کال دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اب خاموش رہنا ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔

فلوٹیلا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے کے باوجود ان کا مشن ختم نہیں ہوا۔ ابھی بھی تقریباً 30 کشتیوں پر مشتمل امدادی قافلہ غزہ کی جانب بڑھ رہا ہے، جو اسرائیلی جنگی کشتیوں سے بچتے ہوئے اپنا راستہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

عالمی تنظیموں کا ردعمل
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فلوٹیلا میں شریک کارکنوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی نمائندہ فرانسسکا البانیزے نے عالمی برادری سے سوال کیا ہے کہ جب عام لوگ چھوٹی کشتیوں میں غزہ کے قریب پہنچ سکتے ہیں، تو بڑی طاقتیں اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کے لیے کیا کر رہی ہیں؟

مزیدخبریں