ٹرمپ کے غزہ میں قیام امن کیلئے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے سے نیتن یاہو نے اتفاق کیا ہے جس کے تحت جنگ بندی اور فلسطین سے اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلاء ہوگا۔ مسلم و عرب ممالک نے بھی اس منصوبے کی حمایت کی ہے۔ امکان ہے ایران بھی معاہدہ ابراہیمی کاحصہ بن جائے گا۔
معاہدے کے تحت گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرنا ہوگی, معاہدے کے 72 گھنٹوں کے اندر حماس کو اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا, سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئرعبوری انتظامیہ میں شامل ہوں گے, 32 افراد کی لاشیں اور 22 افراد کو زندہ حوالے کیا جائے, ورلڈ بینک کو ذمہ داری دی جائے گی کہ وہ فلسطینیوں پر مشتمل ایک نئی حکومت کی تربیت اور بھرتی کرے،غزہ کی سکیورٹی اسرائیلیوں کے پاس ہی رہے گی۔ کہا گیا کہ حماس نے اس منصوبے کو مسترد کیا تو حماس کو تباہ کرنے کا کام اسرائیل خود کرے گا۔ یہ نہیں بتایا کہ اسرائیل نہ مانا تو اس کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی؟
منصوبے کے مطابق دونوں جانب کی رضامندی پر جنگ فوراً ختم ہو جائے گی اور اسرائیلی انخلا کو حماس کے زیرِحراست آخری یرغمالی کی رہائی سے منسلک کیا جائے گا۔ اس دوران جنگ بندی برقرار رہے گی۔ اہم نکات میں عبوری بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور عبوری اتھارٹی کا قیام شامل ہے جس کی سربراہی ٹرمپ کریں گے۔ معاہدے کے مطابق حماس کے جنگجو غیر مسلح ہوں گے اور مستقبل کی فلسطینی حکومت میں شامل نہیں ہوں گے البتہ جو جنگجو امن پر راضی ہوں گے انہیں عام معافی دے دی جائے گی۔
فلسطین سے اسرائیلی انخلا کے بعد سرحدیں امداد اور سرمایہ کاری کے لیے کھول دی جائیں گی۔ ٹرمپ کے اس نئے مؤقف میں ایک بڑی تبدیلی یہ ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا بلکہ لوگوں کو یہیں رہنے کی ترغیب دی جائے گی اور انہیں بہتر غزہ کی تعمیر کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ کا کہنا کہ یہ ایک بہت بڑا دن ہے ،ہم غزہ امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، نیتن یاہو بھی اس منصوبے سے متفق ہیں جس میں فوری جنگ بندی، حماس کو غیر مسلح کرنا اور اسرائیلی فوج کی واپسی شامل ہے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ معاہدے کے تحت غزہ سے اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلاء ہوگا۔
حماس نے ابھی تک اس امن منصوبے پر اتفاق نہیں کیا لیکن ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ حماس دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے کو ہاتھ سے نہیں گنوائے گا اور اس کی حمایت ضرور کرے گا۔ فی الوقت فریقین کی منظوری انتہائی قریب لگ رہی ہے۔ غزہ میں نئی عبوری اتھارٹی کے ساتھ مل کر تمام فریق اسرائیلی فوج کے انخلاء کیلئے ٹائم لائن پراتفاق رائے پیدا کریں گے۔ فریقین مل کر برسوں سے جاری موت اور تباہی کو ختم کر سکتے ہیں۔
حماس معاہدہ مسترد کرتی ہے تو وہ اسرائیل پر حملہ کرنے کی حماقت کے بعد امن کا موقع ضائع کرکے ایک اور حماقت کرے گی۔ حماس سے اس حماقت کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ایسے میں حماس تنہا رہ جائے گا کیونکہ باقی سب اس امن معاہدے کو قبول کر چکے ہیں۔ حماس نے موقع ضائع کیا تو پھر فلسطینیوں کا قتل عام جاری رکھنے کیلئے ٹرمپ نیتن یاہو کو مزید کھلی چھٹی دے دے گا۔
ٹرمپ کا کہنا کہ وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل شروع سے ہمارے ساتھ تھے اہم ہے۔ اس جملے سے واضح ہوتا ہے کہ اس امن معاہدے تک پہنچنے میں پاکستان کی سول و عسکری قیادت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ٹرمپ نے امن کوششوں کیلئے عبوری اتھارٹی کو ’بورڈ آف پیس‘ کا نام دیا اور بتایا کہ یہ ادارہ عرب رہنماؤں، اسرائیل اور خود ٹرمپ کی قیادت میں قائم ہوگا۔
اسرائیل کا اس بورڈ سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ فلسطین کے اندرونی انتظامی معاملات میں مداخلت ہوگی۔ ورلڈ بینک فلسطینیوں پر مشتمل ایک نئی حکومت کی تربیت اور بھرتی کرے گا جن میں دنیا سے تعلیم یافتہ ماہرین شامل کیے جائیں گے۔ حماس اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں غزہ حکومت میں کوئی کردار ادا نہیں کریں گی۔
فلسطینی دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تقدیر کا اختیار خود سنبھالیں۔ اب جبکہ ٹرمپ فلسطین کے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں تو فلسطینی عوام کے نمائندے اور مسلم ممالک کے سربراہان اس موقع کو قیام امن کا آخری موقع سمجھ کر ہاتھ میں جانے نہ دیں۔
نیتن یاہو کا کہنا کہ امن منصوبے کے تحت اسرائیل غزہ کے لیے سکیورٹی کی ذمّہ داری جاری رکھے گا کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہئے۔ فلسطین میں قیام امن کیلئے حماس کو بے دخل کیا جائے تو اسرائیل کی دخل اندازی بھی بلا جواز قرار دی جائے۔
قیام امن کیلئے اور مصلحت کے تحت یہ تو قابل قبول ہو سکتا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کر دیا جائے۔ غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنایا جائے۔ غزہ کے اندر یا باہر اسرائیلی فوج کی تعیناتی غلط ہوگی۔ فلسطینی عوام کو خوف و ہراس سے پاک فضامیں جینے کا حق دیا جائے۔ فلسطینی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اسرائیل کو نہیں دی جاسکتی۔ ایسی کوئی کوشش امن و امان تباہ کر سکتی ہے۔ فلسطینیوں کو محاصرے میں رکھنے کی بجائے آزاد وطن میں جینے کا حق حاصل ہو جیسے اسرائیلی اپنی سرحدوں میں جی رہے ہیں۔
اسرائیل فلسطین کی سکیورٹی ذمّہ داری برقرار رکھے گا تو اس کو فلسطین کا محاصرہ کہنا درست ہوگا۔ عارضی طور پر فلسطین کے سکیورٹی کے معاملات سلجھانے کیلئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں مسلم ممالک کی امن فورس ترتیب دے کر یہ ذمہ داری اسکے سپرد کی جا سکتی ہے۔ جب فلسطینی فورس قائم ہو جائے تو یہ امن فورس اختیار اسکے سپرد کر کے رخصت ہو جائے۔
غزہ میں پرامن سویلین انتظام ہو جو نہ حماس چلائے، نہ فلسطینی اتھارٹی اور نہ ہی اسرائیل۔ فلسطین کو اسرائیلی فوج کے حوالے کرنا فلسطین پر قبضہ کرنے کے برابر ہو گا۔ اسرائیل کو یہ اختیار انتہائی تباہ کن ہوگا اس لئے ٹرمپ اس فیصلے کو ناقابل عمل قرار دے کر مسترد کر دیں تاکہ قیام امن کے حوالے سے آگے بڑھا جاسکے۔
فلسطین اور اس کی عوام اہم ہیں نہ کہ حماس یا کوئی گروپ۔ فلسطین اور فلسطینیوں کو سیاسی یا عسکری گروپوں یا اسرائیل کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ حماس کی فوجی یا سیاسی صلاحیت ختم ہوتی ہے تو ہو جائے لیکن فلسطینی عوام کا روشن مستقبل اہم ہو گا۔ مستقبل میں اسرائیل فلسطین کے لئے کوئی خطرہ ہو نہ فلسطینی اسرائیل کے لئے۔ دونوں ممالک امن سے اپنی اپنی سرحدوں میں احترام سے جینا سیکھیں۔
فلسطین میں قیام امن کا آخری موقع
09:24 AM, 2 Oct, 2025