یہ عالمی سطح کی خوشخبری ہے لاہور میں واقع گھرکی ہسپتال نے ایک نیا شعبہ امراض دل کا قائم کیا ہے، اس شعبے کو ویسی ہی جدید ترین مشینری اور سہولیات فراہم کی گئی ہیں جیسی جدید ترین سہولیات اس کے شعبہ آرتھوپیڈک کو میسر ہیں ،گھرکی ہسپتال کا شعبہ آرتھوپیڈک عالمی طور پر مقبول ہے ، ابھی کل ہی مجھے کینیڈا میں مقیم اپنے عزیز چھوٹے بھائی سلمان چودھری کی کال آئی ، وہ پاکستان میں نادرا کی اچھی جاب چھوڑ کر اپنی قابلیت کی بنیاد پر صرف اس لیے کینیڈا چلا گیا تھا کہ پاکستان میں سرکاری ملازمت یا سرکاری افسری کا بغیر رشوت کے اب کوئی تصور نہیں رہا ، اگر کوئی سرکاری ملازم یا سرکاری افسر رشوت نہیں لیتا وہ ہر وقت ایک خوف میں مبتلا رہتا ہے، یہ خوف ایمانداری کاہے جو بے ایمانی کے خوف سے اب زیادہ بڑاہے، بے ایمان افسران یا ملازمین کا اول تو کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا اور اگر اپنے کسی کولیگ کی کسی سازش کے تحت یا کسی اور وجہ سے وہ رشوت لیتے ہوئے پکڑا بھی جائے رشوت دے کے چھوٹ جاتا ہے، پاکستان کی بدقسمتی ہے یہاں سب سے زیادہ کرپشن اینٹی کرپشن کے اداروں میں ہے، اگلے روز میرے کسی عزیز نے اپنی فیس بک وال پر لکھا ’’اینٹی کرپشن کے ادارے اپنے کام کے اعتبار سے غیر فعال ہو چکے ہیں چنانچہ اب ایک نیا ادارہ بنانے کی ضرورت ہے جو راشی افسروں کو نکیل ڈالے‘‘ ، میں نے سوچا یہ ادارہ بنانے کی ضرورت سرکار یا حکمرانوں کو صرف اْسی وقت محسوس ہوگی جب اینٹی کرپشن کے موجودہ ادارے نیچے کی کمائی اْوپر تک پہنچانے میں کوئی سستی یا کوتاہی برتیں گے ، جب تک نیچے کی کمائی اْوپر تک پہنچتی رہے گی اور اس میں بتدریج اضافہ بھی ہوتا رہے گا کوئی نیا ادارہ قائم کرنے کی کسی کو ضرورت ہی محسوس نہیں ہونی‘‘، میں کینیڈا میں مقیم اپنے عزیز چھوٹے بھائی سلمان چودھری کا ذکر کر رہا تھا ، اگلے روز اْس نے فون پر مجھ سے کہا وہ گھرکی ہسپتال سے اپنی والدہ کے گھٹنے تبدیل کروانا چاہتاہے، میں نے عرض کیا’’آپ کے پاس کینیڈا کی شہریت ہے، وہاں آپ کی والدہ کا فری علاج ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ وہاں علاج کی سہولیات بھی پاکستان سے بہت بہتر ہیں ، پھر آپ کیوں اس مقصد کے لیے پاکستان آنا چاہتے ہیں ؟ وہ کہنے لگا’’آپ کی بات درست ہے مگر لاہور میں مقیم ہماری ایک قریبی عزیزہ نے اپنے گھٹنے ( گوڈے ) گھرکی ہسپتال سے تبدیل کروائے ہیں ، اْنہوں نے میری والدہ سے کہا ہے’’پوری دنیا میں ایسے صاف ستھرے آپریشن تھیٹرز ، ایسے اعلیٰ انتظامات خصوصاًپروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز کا اپنے مریضوں کے ساتھ محبت اور توجہ کا جو لیول ہے وہ دْنیا میں اور کہیں نہیں ہے، چنانچہ میری والدہ کا اصرارہے وہ صرف گھرکی ہسپتال سے ہی اپنے گھٹنے تبدیل کروائیں گی‘‘،صرف گھٹنے تبدیل کروانے کے لیے ہی نہیں سپائن اور ہڈی جوڑ کی دیگر سرجریوں کے لیے بھی بیرون ملک سے لوگ یہاں آتے ہیں ، بیرون ملک سے صرف مریض ہی نہیں گھرکی ہسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے کو ٹریننگ یا لیکچر وغیرہ دینے کے لیے ’’گورے ڈاکٹرز‘‘ بھی یہاں آتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں جب اْنہیں یہ احساس ہوتا ہے اور پھر وہ اس کا برملا اقرار بھی کرتے ہیں کہ’’یہاں جو ڈاکٹرز ہیں وہ اْن سے زیادہ محنتی اور قابل ہیں‘‘ ، اللہ پاک کا یہ خصوصی فضل ہے جس نے اس ہسپتال کو پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز کی صورت میں نوازا ہوا ، اور اب اْن ہی کی سرپرستی میں ایک نیا شعبہ امراض دل کا قائم ہوا ہے جس کا سربراہ پروفیسر ڈاکٹر احسن عارف کو مقرر کیا گیا ہے، پروفیسر عامر عزیز کی طرح وہ بھی انتہائی اللہ لوگ بندے ہیں ، اْن کی ایک خصوصیت یا اعزاز یہ بھی ہے وہ ہمارے نامور اسلامی سکالر ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے پوتے ہیں ،گزشتہ روز اْنہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ایک بیالیس سالہ شخص کا بائی پاس کیا ، مریض اب صحت یاب ہو کر گھر منتقل ہوچکا ہے ، یہ اس شعبے کی پہلی سرجری تھی جو پوری جانفشانی سے کی گئی ،کل میں نے اس شعبے کا وزٹ کیا ،شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر احسن عارف نے مجھے تفصیلی بریفنگ دی مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی اْن کے عزائم بہت بلند ہیں جس کی بنیاد پر مجھے یقین ہے جلد ایسا وقت آئے گا جب گْھرکی ہسپتال کے شعبہ آرتھوپیڈک کی طرح اس کا شعبہ امراض دل بھی اپنے کام کے حوالے سے پوری دنیا میں جانا اور مانا جائے گا، البتہ ایک بات جو میرے لیے تکلیف دہ تھی میں نے دیکھا اس شعبے کے آئی سی یو اور جنرل وارڈ میں زیادہ تر مریضوں کی عمریں ہارٹ اٹیک والی یا دل کے دیگر امراض والی نہیں تھیں ، دو لڑکیاں بھی اْن میں شامل تھیں جن کی عمریں تیس سال سے شاید کم ہی ہوں گی، ڈاکٹر احسن عارف سے میں نے پوچھا ’’جس بیالس سالہ مریض کی آپ نے اوپن ہارٹ سرجری کی ہے اْس کی فیملی ہسٹری دل کی تھی ؟ اْسے بلڈ پریشر یا شوگر تھی ؟ اْس کا کولسٹرول لیول زیادہ تھا ؟ وہ سگریٹ زیادہ پیتا تھا ؟ ایسا کون سا مرض اْسے لاحق تھا جو اْس کی اوپن ہارٹ سرجری کا باعث بنا ؟ یہ بات میں نے اس لیے اْن سے پوچھی ہمارے ہاں عموما ًدل کے امراض فیملی ہسٹری ،ہائی بلڈ پریشر شوگر یا کولسٹرول ہائی ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں ، اْنہوں نے بتایا ایسی کوئی ہسٹری یا مرض اْسے نہیں تھا ، البتہ ایک بہت بڑا فیکٹر جو مذکورہ بالا تمام وجوہات سے زیادہ اہم ہے وہ سٹریس کا ہے ، آج کل زیادہ تر لوگ سٹریس کی وجہ سے امراض دل میں مبتلا ہو رہے ہیں اور ان میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے ، ایک تو اْن میں قوت برداشت کم ہے ، پھر اْن کے طرز زندگی ، جو غیر معیاری خوراکیں وہ کھاتے پیتے ہیں ،خصوصاً فاسٹ فوڈ، مقررہ وقت پر نہ کھانے اور ورزش وغیرہ نہ کرنے سے صحت مند زندگی کا تصور ہی ختم ہوتا جا رہا ہے ، سٹریس بھی ان ہی وجوہات سے بڑھتا ہے‘‘، اس سے پہلے ہارٹ اٹیک زیادہ تر ساٹھ سے اْوپر کی عمر کے لوگوں کو ہوتے تھے ، سٹریس کا فیکٹر باقی فیکٹرز کے مقابلے میں زیادہ اہم اس لیے ہے میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو دبا کے سگریٹ پیتا ہے ،گزشتہ دس برسوں سے اْسے ہائی کولسٹرول ،بلڈ پریشر اور شوگر بھی ہے ، ہارٹ اٹیک کی فیملی ہسٹری بھی ہے، مگر قدرت اْس پر اتنی مہربان ہے ایک تو وہ ہر لحاظ سے آسودہ شخص ہے ، دوسرے وہ کسی بات کا سٹریس نہیں لیتا ،یہ شاید واحد وجہ ہے جس نے ابھی تک دل کے کسی مرض سے اْسے بچایا ہوا ہے ، مختلف اقسام کی ورزشیں اور کھیل بھی انسان کو ضروری و غیر ضروری سٹریس سے دْور رکھتے ہیں ، کل میں اپنے ایک سْست مزاج دوست سے کہہ رہا تھا ’’انسانی جسم وہ بدبخت شے ہے آپ اسے جتنی اذیت (ورزش کے اعتبار سے ) دیں گے یہ آپ کو اْتنا آرام سے رکھے گا ، اور آپ اسے جتنا آرام سے رکھیں گے یہ آپ کو اْتنی اذیت دے گا‘‘۔ (جاری ہے)
گھرکی ہسپتال کے دل کا معاملہ
09:22 AM, 2 Oct, 2025