ضمیرکی بولی بولیں

09:20 AM, 2 Oct, 2025

جب اس طرح کے بیانات آنا شروع ہو جائیں کہ ہماری حکومت پانچ سال پورے کرے گی تو سمجھودال میں کچھ کالا ہے اگر یہ کہا جائے کہ فوج میرے ساتھ ہے تو سمجھیں کہ ہم خود کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں اگر اس طرح کے شگوفے چھوڑے جائیں کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہے تو سمجھو کوئی بڑی بریکنگ نیوز آنے والی ہے جیسے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ اور فیلڈ مارشل سید عاصم ایک پیج پر ہیں ماضی میں بھی کئی حکمران اس خوش فہمی میں مارے گئے جیسے کہ ذوالفقار علی بھٹو جوفیلڈ مارشل ایوب خان کو اپنا باپ کہا کرتے تھے پھر اسی باپ کیخلاف احتجاج کیا کہا جاتا ہے کہ17 اپریل 1967ء کو جعفر خان جمالی کی وفات پر جب ذو الفقار علی بھٹو روجھان جمالی گئے تو ظفر اللہ جمالی کے والد شاہ نواز جمالی سے کہا کہ اس گھرانے سے سیاست کے لیے مجھے ایک فرد دے دیجیئے، جواب میں شاہ نواز جمالی نے ظفر اللہ جمالی کا ہاتھ بھٹو کے ہاتھ میں دے دیا، یہیں سے ظفر اللہ خان جمالی نے باقاعدہ عملی سیاست میں قدم رکھا1999ء نواز شریف کی جلاوطنی کے بعد جب مسلم لیگ دو ٹکڑوں میں بٹ گئی توپرویز مشرف کے زیر سایہ بننے والی جماعت ق لیگ کے جنرل سیکرٹری ظفراللہ جمالی بنے، یہ جماعت نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹانے والے صدر جنرل پرویز مشرف کی زبردست حمایت کر رہی تھی انتخابات 2002 کے نتیجے میں ان کو پارلیمنٹ نے 21 نومبر 2002 میں وزیر اعظم منتخب کیا۔ وزیر اعظم کا انتخاب کئی سیاسی جماعتوں کے مذاکرات کے بعد عمل میں آیا، یہ مرحلہ اس وقت روبہ عمل ہوا جب پیپلز پارٹی کا ایک دھڑا الگ ہو کر مسلم لیگ ق کی حمایت پر آمادہ ہوا تھا جمالی دور میں پرویز مشرف کے حمایتوں اور مخالفین کے درمیان جاری رہنے و الی رسہ کشی ایک سال کے بعد دسمبر 2003ء میں متحدہ مجلس عمل کی مدد سے ستارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد ختم ہوئی۔ متحدہ مجلس عمل اور پرویز مشرف کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا کہ ستارہویں ترمیم منظور کرانے کے بعد پرویز مشرف 31 دسمبر 2004ء تک وردی اتارلیں گے۔ لیکن پرویز مشرف نے یہ وعدہ وفا نہ کیاوزیر اعظم ظفر اللہ جمالی نے کئی وسط ایشیائی، خلیجی ممالک سمیت امریکا کا بھی دورہ کیاوزیر اعظم جمالی پرویز مشرف کو اپنا باس کہا کرتے تھے وزیر اعظم بننے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھی سمجھے جانے لگے، صدر کی پالیسیوں کی مکمل حمایت بھی کی۔ ظفر اللہ جمالی ہمیشہ ایک وسیع تر سیاسی اتحاد کے لیے کوشاں رہے اور جمہوریت کی بحالی کی طرف روبہ عمل رہنے کا وعدہ کیا تاہم وہ اپنی یہ پوزیشن برقرار نہ رکھ سکے اور 26 جون 2004ء کو وزیر اعظم کے عہدہ سے مستعفی ہو گئے،بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیر اعظم جمالی کے لیے اقتدار پہلے دن سے ہی پھولوں کی سیج ثابت نہ ہوا۔ ان کی جماعت کے ارکان پارلیمنٹ میں اکثریت کا تعلق پنجاب سے تھا جن پر چوہدری برادران کی گرفت خاصی مضبوط تھی، مئی 2004ء تک جمالی اور شجاعت اختلافات شدت اختیار کر گئے اور اسمبلی ٹوٹنے اور وسط مدتی انتخابات کی باتیں ہونے لگیں ،صدر مشرف کے وزیر اعظم جمالی سے اختلاف کا ایک اہم واقعہ اپریل 2004ء میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بل کی منظوری کے وقت پیش آیا، اپریل 2004ء میں نیشنل سیکورٹی کونسل کا بل منظور ہوتے ہی پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے ارکان وفاقی وزراء فیصل صالح حیات اور راؤ سکندر اقبال نے کھلے عام صدر مشرف سے کہا کہ وہ وردی نہ اتاریں اس سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوگا، اس دوران متحدہ مجلس عمل اور اے آر ڈی کی جانب سے میر ظفر اللہ خان جمالی کی حمایت میں بیان آنے لگے، یہ وہ صورت حال تھی جس نے صدر پرویز مشرف کو برہم کر دیا اور ظفر اللہ جمالی پر استعفیٰ کے لیے دباؤ بڑھ گیااورپھر جسے یس باس کہا کرتے تھے نے انہیں چلتا کیا یہی حال عمران خان کا تھا وہ کہا کرتے تھے جنر ل قمر باجوہ میرے ساتھ ہے اور دونوں جب وزیر اعظم ہائوس میں ملتے تو ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھتے تھے پھر اسی باجوہ نے دست شفقت اٹھایا تو عدم اعتماد آئی اور عمران خان جو کہا کرتے تھے کہ دعا کرتا ہوں کوئی میرے خلاف عدم اعتماد لائے تو تحریک عدم اعتماد آئی اور کامیاب بھی ہو ئی اس پر عمران خان نے کہا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دے کر غلطی کی وہ مدت ملازمت میں توسیع کے ساتھ ہی بدل گئے اب وزیر اعظم شہباز شریف بھی یہی فرمانے لگے ہیں کہ فیلڈ مارشل اور میں ایک پیج پر ہیں تاہم یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ ایک پیج پر کون ہے؟ وقت بڑا ڈھاہڈا ہے یہ کسی کا نہیں ہوتا، یہ حضرت انسان ہی ہے جو چڑھتے سورج کو سلام کرتاہے اوروقت نکلنے پر آنکھیں پھیر لیتا ہے ملک کے مجموعی سیاسی، سماجی ، معاشی، قانونی ، اخلاقی معاملات پر نظر ڈالیں تو چاپلوسی کی بیماریاں ہر جگہ پر ملیں گی آج ہم خوشنودی کو ہی اپنی اصل طاقت سمجھتے ہیں ، ہم دوسروں کے سامنے وہ سچ بیان کرتے ہیں جو وہ سننا چاہتا ہے اور حقائق کو ہمیشہ دفن رکھتے ہیں تاکہ صاحب اختیار ناراض نہ ہو جائے جس سے ہم خود کو اور سامنے والے کو بھی اندھے کنویں میں دھکیل رہے ہوتے ہیں کیونکہ سامنے وقت کا فرعون ہوتا ہے وہ سیاہ کہے تو ہم سیاہ کہتے ہیں وہ سفید کہے تو سفید کہتے ہیں جس سے معاشرہ تباہ ہو تا جا رہا ہے ہم ہر طرح کی ڈکٹیٹرشپ کو بھی قبول کرتے ہیں جب تک سماج کی تشکیل کے عمل میں سچ کو اوڑھنا بچھونا نہیں بنائیں گے تب تک ترقی ہم سے دور ہی رہے گی ضمیر ملامت کرتا رہے گا۔

مزیدخبریں