اوورسیز کنونشن : کیا کھویا کیا پایا

09:18 AM, 2 Oct, 2025

قصہ کچھ یوں ہے کہ تیرہ اپریل سے سولہ اپریل دو ہزار پچیس تک اوورسیز کا ایک کنونشن اسلام آباد میںبلایا گیا۔ کنونشن بلانے کا خیال ہمارا تھا۔ اس خیال کی ابتداء ایک بیٹھک میں ہوئی، جہاں پاکستان اکنامک موومنٹ کی طرف سے یہ تجویز سامنے رکھی گئی۔ میں بطور سیکرٹری جنرل اور میرے صدر عابد علی بٹ اس وقت سپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کے اعلیٰ ذمہ داران سے ملنے گئے تھے۔ باتوں باتوں میں ہماری طرف سے یہ تصور رکھا گیا کہ کیوں نہ اوورسیز پاکستانیوں کو ایک بڑے کنونشن میں یکجا کیا جائے، تاکہ سرمایہ کاری کے در کھلیں اور دلوں کے فاصلے کم ہوں۔ تجویز پسند بھی کی گئی، تحسین بھی ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے کنونشن کا اعلان بھی ہوگیا۔ہم منتظر رہے کہ اگلے منصوبوں کی بابت ہم سے مشاورت ہو گی۔ مگر افسوس یہ کہ آگے کا راستہ ہم سے پوچھنے کی زحمت گوارا نہ کی گئی۔ جیسے ایک معمار نقشے کے بغیر اینٹ پر اینٹ نہیں رکھتا، ویسے ہی یہ کنونشن لائحہ عمل اور ترتیب کے بغیر منعقد کیا گیا اور انجام سب کے سامنے ہے۔
ہمارے پاس اوورسیز سے تعاون حاصل کرنے کا پورا خاکہ تھا، ترتیب وار لائحہ عمل تیار تھا۔ ہم نے سوچا تھا کہ اوورسیز کمیونٹی کو ایک مربوط انداز میں سامنے لایا جائے، ان کے مسائل اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر فوکس کیا جائے، اور ہر ملک میں کمیٹیاں بنا کر وہاں کے بڑے بزنس مینوں کو پاکستان سے جوڑا جائے۔ لیکن بیوروکریسی نے ہماری شمولیت کو غیر ضروری جانا۔ یوں ہوا یہ کہ کنونشن تو بلا لیا گیا مگر اس سے فائدہ کیسے اٹھایا جائے، یہ کوئی سوچنے کو تیار نہ ہوا۔
یہی ہمارے نظام کی بدنصیبی ہے۔ ہمارے ہاں جس کا کام ہے، وہی اختیار سے محروم رہتا ہے۔ بیوروکریٹ اپنے ہم پیشہ کو سمجھتا ہے، پولیس والا اپنی زبان میں بات کرتا ہے، اور کاروباری برادری کا نبض شناس صرف وہی ہوسکتا ہے جو کاروبار کی دنیا سے آیا ہو۔ مگر یہاں فیصلہ سازی کی میز پر وہ لوگ بٹھا دیے جاتے ہیں جنہیں نہ تو بزنس کی سمجھ ہے اور نہ اوورسیز پاکستانیوں کے جذبات کا ادراک۔
عابد علی بٹ کا ذکر یہاں ناگزیر ہے۔ وہ چالیس برس تک اوورسیز کاروباری دنیا کا حصہ رہے، دبئی میں ان کے فائیو اسٹار ہوٹل ہیں، ان کے حلقہ احباب میں ایسے کئی کامیاب لوگ شامل ہیں جو پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری لا سکتے ہیں۔ کم نہ سہی، چند سو ملین ڈالر ہی آ جاتے تو معیشت کو سانس ملتی۔ لیکن یہ موقع ضائع کردیا گیا۔وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل اس خیال کی پذیرائی کر رہے تھے لیکن اس خیال کے عملی معاملات تو ظاہر ہے بیوروکریسی نے ترتیب دینے تھے،بنیادی معلومات کی کمی، کاروباری برادری سے ناواقفیت اور اوورسیز کی سوچ سے آگاہی نہ ہونے کے باعث یہ لوگ ٹھوس اور نتیجہ خیز منصوبہ بندی نہ کرپائے۔
میں نے بارہا اپنے کالموں میں لکھا ہے کہ ملک میں بزنس ایمرجنسی کی ضرورت ہے۔ اوورسیز پاکستانی ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، لیکن انہیں ہمیشہ نظرانداز کیا گیا۔ان کے جذبات کو روندا گیا۔ میں اس وقت امریکہ میں بیٹھا یہ سطور لکھ رہا ہوں، اور یہاں بھی محسوس کرتا ہوں کہ اوورسیز پاکستانی کا دل پاکستان کے لیے دھڑکتا ہے۔ وہ ہم سے زیادہ محب وطن ہے۔ وہ صرف ایک بات کہتا ہے کہ امن قائم کریں، کرپشن ختم کریں، ہم وطن واپس آتے ہیں، سرمایہ لاتے ہیں۔
اب ذرا سوچئے کہ اوورسیز کنونشن جیسا موقع ملا اور ہم نے اسے بھی فارمیلیٹی بنا دیا۔ نہ میرٹ دیکھا گیا نہ معیار، صرف حاضری پوری کی گئی۔ جلسوں کی طرح کرسیاں بھر دی گئیں اور سب مطمئن ہوگئے کہ فرض پورا ہوگیا۔ حالانکہ اگر ہم سے مشورہ کیا جاتا تو ہم ہر ملک میں باقاعدہ کمیٹیاں تشکیل دیتے، وہاں کے ٹاپ بزنس مینوں کو اعتماد میں لیتے، اور انہیں پاکستان کا محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کا نقشہ دکھاتے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔
میں نے اس کنونشن میں شرکت سے پہلے ہی معذرت کر لی تھی کیونکہ عمرے کا پروگرام طے تھا۔ لیکن اگر شریک بھی ہوتا تو وہی دکھ ہوتا جو آج محسوس ہورہا ہے۔ سفارتخانوں کو بھی شریک کرنا تھا تاکہ بیرونی دنیا تک ایک مثبت تصویر جائے، لیکن بیوروکریسی نے اس پورے عمل کو صرف ایک رسمی کاروائی سمجھا۔ وزیراعظم کو اور بزنس کمیونٹی کے دلوں میں جگہ رکھنے والے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی بتایا گیا کہ دیکھیں کوشش کی گئی لیکن کنونشن کانتیجہ نہیں نکلا۔ یہ تصویر ادھوری اور غلط تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کنونشن ایک سوچے سمجھے کاروباری منصوبے کے بجائے ایک سیاسی تقریب بن کر رہ گیا۔
ہم تو کہتے ہیں ہمیں ذمہ داری دیجیے۔ ہمیں چھ ماہ نہیں صرف دو ماہ دیجیے، ہم ایسا کنونشن ترتیب دے کر دکھائیں گے جو واقعی نتیجہ خیز ہو۔ اگر کامیابی نہ ہو تو حساب لیجیے گا۔ ہم کاروباری لوگ ہیں، جانتے ہیں کہ سرمایہ کار کس زبان میں بات کرتا ہے اور اسے کس طرح پاکستان لایا جاسکتا ہے۔ ہم کچھ نہیں مانگتے، صرف یہ موقع چاہتے ہیں کہ پاکستان کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا سکیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کی اصل طاقت یہی ہے کہ وہ ملک کے ساتھ دل سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ کوئی بڑا مطالبہ نہیں کرتے، نہ کرسی نہ عہدہ۔ ان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ پاکستان ترقی کرے اور دنیا میں سر اٹھا کر کھڑا ہو۔ مگر ہم نے ایک بار پھر ان کی محنت، محبت اور سرمائے کو رسمی تقاریب اور بیوروکریسی کی سرد مہری کے حوالے کردیا۔ یہ سوال آج بھی گونج رہا ہے کہ اوورسیز کنونشن سے ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ کھویا یہ کہ ایک نایاب موقع ضائع ہوگیا، کھویا یہ کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوا، کھویا یہ کہ اوورسیز پاکستانیوں کے دلوں پر بوجھ بڑھ گیا۔ اور پایا کیا؟ چند تقریریں، چند تصویریں اور ایک ادھورا وعدہ۔ اگر ہم اسی راستے پر چلتے رہے تو نتائج وہی رہیں گے جو ہمیشہ ملتے آئے ہیں۔ لیکن اگر اب بھی ہم نے کاروباری برادری اور اوورسیز پاکستانیوں کو سنجیدگی سے لیا تو شاید آئندہ کنونشن کسی رسمی تقریب کے بجائے ایک سنگِ میل بن سکے۔ شرط صرف یہ ہے کہ جس کا کام ہے، اسے کرنے دیا جائے۔ یہ فارمولا سادہ ہے مگر اسی میں ہماری بقا اور ترقی کا راز چھپا ہے۔

مزیدخبریں