ہم قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی سے شرمندہ ہیں

09:18 AM, 2 Oct, 2025

2011 ء میں     REMOND DAVISنے آصف علی زرداری کے سابقہ دور صدارت میں لاہور میں دو پاکستانیوں، فیضان حیدر اور محمد فہیم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، دعویٰ کیا کہ وہ اسے لوٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔تیسرا پاکستانی اس وقت ہلاک ہوا جب امریکی قونصل خانے کی کار جو Davisکی مدد کے لیے جا رہی تھی، ایک راہگیر کو کچل گئی ٰ یہ دونوں واقعات شائد ہمارے لئے نہ ہی ملک دشمنی تھے جبکہ کوئی سوال کرنے والا بھی نہ تھا کہ سی آئی ایجنٹ پاکستان میں کس ڈیوٹی پر مامور تھا وہ دراصل black water سے وابستہ تھا پاکستانیوںکا خون کسی امریکی شہری کے مقابلے میںبہت سستا ہے اس لئے دیت کے نام پر رقم لیکر REMOND DAVIS  کو امریکہ بھیج دیا گیا۔ ایک بھارتی پائلٹ abhi nandan  2019ء میںپاکستان میں ہماری سیکورٹی فورسز کے قبضے میں آیا ہم بہت رحم دل ہیں اسوقت کے وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میںاعلان کیا اور خیر سگالی کے طور پر اسے بھارت واپس بھیجنے کا اعلان کیا۔ اسمبلی میں اسے بھارت واپس بھیجنے کا اعلان ہوا، کسی نے نہیںپوچھا کہ وہ یہاںکیا لینے آیا تھا؟؟ اب بات کرتے ہیںپاکستان کی ایک بیٹی عافیہ صدیقی کی جنہیں جولائی 2008 میں افغانستان کے شہر غزنی سے گرفتار کیا گیا ان پر امریکیوںکا الزام تھا کہ وہ مشکوک اشیاء لے جارہی تھیں ان مشکوک اشیاء میں دھماکہ خیز مواد، امریکہ میں موجود کچھ عمارتوں، برج کی تصاویر تھیںعافیہ کو افغان پولیس نے گورنر کے احاطے کے باہر سے حراست میں لیا تھا۔امریکی فوجیوں اور ایف بی آئی کے ایجنٹوں کو اس سے پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا۔بنیادی الزام لگا کہ حراست میں رہتے ہوئے (ایک الگ کمرے میں)، اس نے مبینہ طور پر ایک غیر حاضر رائفل پکڑی اور امریکیوں پر گولی چلا دی۔کوئی امریکی جہنم واصل نہیں ہوا ، لیکن انہیں امریکی فوجیوں نے پیٹ میں گولی مار دی تھی چونکہ پاکستانیوں کا خون سستا ہے ، اورامریکی سچ بولتے ہیں جو الزام لگے وہ سچ ہی ہونگے انہیںکون جھوٹ کہہ سکتاتھا ؟؟ گولی چلنے یا چلانے کا واقع ایک بند کمرے میںہوا ، اور اسکے بعد بنت پاکستان عافیہ صدیقی امریکہ دشمن قرر دے دیا گیا ، 23 ستمبر 2010ء امریکی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین دن - جرم بے گناہی کی سزا 86 سال قید تنہائی سنائی گئی تھی ، گزشتہ دنوںانکی بہن فوزیہ صدیقی نے پاکستان کے تمام کالم نویسوں کو ایک خط ارسال کیا۔ انہوں نے لکھا کہ 23 ستمبر2010 امریکہ ہی نہیں دنیا کی عدالتی تاریخ کا وہ بھیانک دن ہے جب انصاف کے تمام تقاضوں کوپامال کرتے ہوئے ایک امریکی متعصب جج رچرڈ برمن نے حکومت پاکستان کے مقرر کر دہ وکلاء کی سازش کے تحت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 86برس کی سزا سنائی تھی۔جج نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا کہ ڈاکٹر عافیہ جو کہ پاکستانی شہری ہے،اس کا کسی دہشت گرد تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عافیہ پر الزام لگایا کہ اس نے 6امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور بندوق اٹھائی۔ جو الزام لگایا گیا تھا اس کے نتیجے میں کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا تھا جبکہ ڈاکٹر عافیہ ان فوجیوں کی جوابی فائرنگ سے زخمی ہو گئی تھیں۔ جج نے اپنے فیصلے میں یہ بات لکھی کہ باوجود اس کے کہ عافیہ کے خلاف کسی قسم کے ثبوت موجود نہیں ہیں لیکن پاکستانی حکومت کے وکلا نے جو دلائل دئیے ہیں اس کی روشنی میں عافیہ کو 86برس کی سزا دی جا رہی ہے۔ سزا کے بعد عافیہ نے عدالت میں کہا کہ میں نے اپنا فیصلہ اللہ کی عدالت پر چھوڑ دیا ہے،میں سب کو معاف کرتی ہوں۔ عدالت میں اس فیصلے کے بعد جج کے خلاف شیم شیم کے نعرے بلند ہوئے اور اس وقت عدالت میں موجود مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے عافیہ سے یکجہتی کا اظہارکیا اور کہا کہ آج امریکی عدالت میں امریکی انصاف کا قتل ہو گیا ہے۔ حقائق سے یہ پتا چلتا ہے کہ امریکی عدالت نے یہ سزا پاکستان میں موجود ان عناصر کے دباؤ کی وجہ سے سنائی جو ڈاکٹر عافیہ کی واپسی سے خوف زدہ ہیںجبکہ ڈاکٹر عافیہ کی فیملی ایک دو نہیں کئی مرتبہ یہ بات کہہ چکی ہے کہ ہم کسی سے انتقام نہیں لیں گے، عافیہ کو باعزت طریقے سے وطن واپس لے آئو تاکہ مسلمانوں کی تاریخ پر ’’بیٹی فروشی‘‘ کا لگنے والے شرمناک دھبہ مٹایا جا سکے۔ مشہور امریکی ریسرچ اسکالر اسٹیفن لینڈ مین نے عافیہ کی سزا پر یہ بیان دیا تھا کہ ’’عافیہ کو صرف مسلمان ہونے کی سزا دی گئی ہے‘‘۔ متعصب امریکی وکیل و تجزیہ نگار اسٹیون ڈاؤنز جس نے ہمیشہ عافیہ کی مخالفت میں تحریریں لکھی تھیں امریکی عدالت کی نا انصافی اور عافیہ کی جرم بے گناہی کی سزا دیکھ کر وہ بھی چیخ اٹھا تھا۔ اس نے کہا تھا ـ’’میں ایک مردہ قوم کی ایک بیٹی کی سزا کا مشاہدہ کرنے (امریکی عدالت) چلا گیا تھا لیکن میں انسانیت کی ماں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اپنا سب سے زیادہ خراج تحسین پیش کرکے باہر آیا ہوں ۔فوزیہ صدیقی صاحبہ آگے خط میں لکھتی ہیں کہ یہ تو اس نام نہاد عدالتی فیصلہ کی مختصر سی تفصیل ہے۔ تازہ صورتحال یہ ہے کہ عافیہ کی صحت انتہائی خراب ہے۔ عافیہ کے ساتھ ایف ایم سی کارزویل جیل میں مسلسل بدسلوکی جس میں ذہنی و جسمانی تشدد اور جنسی ہراسگی کی جا رہی ہے، جس کی تمامتر تفصیلات سے ڈاکٹر عافیہ قونصل خانے کی طرف سے ملاقات کے لیے آنے والے افسران کوآگاہ کرتی رہی ہیں 
اور یہ تفصیلات قونصل خانہ وزارت خارجہ کو ارسال کرتا رہا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے عافیہ صدیقی کے حوالے سے عدالت میں مقدمہ تھا جو اب وزارت خارجہ نے یہ کہہ کر واپس لے لیا ہے ہم سے جو کچھ ہوسکتا تھا ہم نے کیااسلئے اب اس کیس کو خارج کردیا جائے ،مقدمہ تاحال پاکستانی عدالتوںمیںہے مگر پاکستانی عدالتیںکیا کرسکتی ہیں؟؟؟؟؟چونکہ مقدمہ کے دن کوئی جج صاحب اس دن حاضرنہیںہوتے تو کیس کی شنوائی نہیں ہوتی یہ بہت دقیانوسی تاخیری حربہ ہے۔فوزیہ صدیقی نے کالم نویسوں سے درخواست کی کہ ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر عافیہ رہائی کی صدا اپنے قلم کے توسط سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے میں عافیہ کے مددگار بن جائیں،اہل اقتدار و اختیار کا ضمیر جگائیے، عافیہ کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے فوزیہ صدیقی کا خط نہ بھی ہوتا تو کہ اس ماہ ہونے والی وزیر اعظم شہباز شریف اور ٹرمپ کی ملاقا ت میں کیایہ بات کرنے کا موقع تھا۔ ٹرمپ تو لگ رہا تھا کہ بہت اچھے موڈ اور پاکستان کے حمائتی ہیں۔

مزیدخبریں